مسلم علاقوں سے اب تک صرف۳۶؍فیصد شہریوں کے فارم سسٹم میں اپلوڈ ہوئے ہیں،انومریشن فارم جلد بھر کر بی ایل اوز کو دینے کی اپیل۔
کلیان کے ایک علاقے میںانومریشن فارم بھرا جا رہا ہے-تصویر:آئی این این
اسپیشل انٹینسیو ریویژن( ایس آئی آر) سروے اور ووٹر لسٹ کی تجدید کا عمل اپنے آخری مرحلے میں پہنچ گیا ہے۔ سروے کی طے شدہ مدت میں صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں جس کے تحت ۸ ؍اگست تک انومریشن فارم جمع کرانا لازمی ہے ۔تاہم کلیان (مغرب) بالخصوص مسلم اکثریتی علاقوں میں انومریشن فارم جمع کرنے کی رفتار سست نظر آرہی ہے۔ ایسے میں مختلف سماجی تنظیمیں اپنے اپنے طور پر کوششیں کر رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ شہری انومریشن فارم پُر کرکے اپنے بی ایل او کے پاس جمع کرا دیں تاکہ وہ اپنے ووٹ دینے کے بنیادی حق سے محروم نہ رہ جائیں۔
الیکٹورل آفیسر ملند گوٹ سروے سے حاصل شدہ اعداد و شمار کے مطابق کلیان مغرب حلقہ میں کل۴؍لاکھ۶۳؍ہزار۱۴۳؍ ووٹروں کا اندراج ہے جن میں سے اب تک ۳؍ لاکھ۲ ؍ ہزار۷۸۸(تقریباً ۶۵؍فیصد) انومریشن فارم تقسیم کئے جاچکے ہیں۔ تاہم ڈیجیٹائزڈ فارم کی جمع آوری کی رفتار انتہائی سست ہے۔ اب تک صرف ایک لاکھ ۶۷؍ہزار۹۵۳؍ فارم یعنی محض ۳۶ ؍ فیصد ہی ڈیجیٹل طریقے سے سسٹم میں اپ لوڈ ہوئے ہیں۔خصوصاً مسلم اکثریتی علاقوں میں اچھی خاصی بیداری اور کوششوں کے باوجود صورتحال قابل اطمینان نہیں ہے۔
اس ضمن میں نمائندۂ انقلاب نے چند بوتھ لیول آفیسر( بی ایل او) سے گفتگو کی۔ پارٹ نمبر ۱۳۵ ؍کے بی ایل او وقار مومن نے بتایا کہ کئی شہریوں نے فارم تو حاصل کرلئے ہیں لیکن انہیں متعلقہ افسران تک جمع نہیں کرایا ہے۔ انہوں مزید کہا کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں اب تک تقریبا ً ۲۰ ؍سے ۲۵؍ فی صد افراد نے اپنا فارم جمع نہیں کروایا ہے۔پارٹ نمبر ۱۵۱؍ کے بی ایل او چنتن پرمار نے کہا کہ کچھ لوگوں کے الگ الگ فہرست ( یادی) میں نام ہونے سے بھی بہت ساری دقتیں پیش آرہی ہیں، بیشتر ووٹرز دو دو جگہوں پر اپنے فارم جمع کررہے ہیں۔
ایس آئی آر کے آخری مرحلے میں زیادہ سے زیادہ شہری اپنے فارم بھریں اس کیلئے موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس( ایم پی جے) کے رکن محسن ملک نے کہا کہ ہم نے مسلم اکثریتی علاقوں میں بیداری مہم میں مزید تیزی لائی ہے اور رکشے میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے بار بار یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ لوگ جلد از جلد اپنے فارم جمع کریں۔ روزانہ ایم پی جےآفس میں رہنمائی کی جارہی ہے نیز عوام کو فارم بھرنے اور درپیش مسائل میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز (وہاٹس ایپ، انسٹاگرام، فیس بک وغیرہ) کے ذریعے بھی بیداری کے پیغامات عام کئے جا رہے ہیںجبکہ سماجی رہنماؤں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ گھروں میں بیٹھنے کے بجائے فعال بنیں ۔شہری صرف اپنے گھروں پر بیٹھے نہ رہیں بلکہ اپنے بی ایل اوز سے فوری طور پر رابطہ قائم کرکے انومریشن فارم بھر دیں۔ یہ محض ووٹ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ آپ کے قانونی اور شہری حقوق کا معاملہ ہے۔جن لوگوں نے اب تک اپنے فارم حاصل یا جمع نہیں کئے ہیں وہ بلا تاخیر بی ایل اوز کے پاس جائیں تاکہ آئندہ کسی بھی قسم کے نقصان یا نام حذف ہونے سے بچا جا سکے۔