Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان: عید گاہ پر کشیدگی کا اندیشہ، شیو سینا اور بی جے پی کا انتظامیہ پر دباؤ

Updated: May 26, 2026, 2:29 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan

عید الاضحی پر سیاسی پارٹیوں کی عیدگاہ سے متصل مندر میں عقیدت مندوں پر پابندی کی مخالفت۔

DCP meeting with officials of political parties. Photo: INN
ڈی سی پی کی سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ۔ تصویر: آئی این این

عید الاضحی سے قبل کلیان کی تاریخی عیدگاہ اور اس سے متصل درگا مندر میں داخلے کے پرانے تنازع نے ایک بار پھر شہر کی فضا کو کشیدہ بنا دیا ہے۔ جیسے جیسے قربانی کا تہوار قریب آ رہا ہے ویسے ویسے اس حساس معاملے پر سیاسی اور مذہبی سرگرمیاں تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ ایک جانب مسلم برادری روایتی عیدگاہ پر نمازِ عید کی تیاریوں میں مصروف ہیں تو دوسری جانب ہندوتواوادی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں عید کی نماز کے دوران مندر میں عقیدت مندوں کے داخلے پر عائد عارضی پابندیوں کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کئے ہوئے ہیں۔ 
برسوں سے اس معاملے پر گھنٹہ ناد آندولن کرنے والی شیوسینا کے ساتھ اب بی جے پی کی سرگرم مداخلت نے تنازع کو مزید سیاسی رنگ دے دیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر مقامی انتظامیہ اور پولیس نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ 
روایت کے مطابق عید الاضحی کے دن بڑی تعداد میں مسلمان عیدگاہ میں نماز عید ادا کرتے ہیں۔ ماضی کے تجربات اور امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے نماز کے دوران عیدگاہ سے متصل مندر میں عقیدت مندوں کے داخلے پر کچھ وقت کیلئے پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں۔ یہی معاملہ گزشتہ کئی برسوں سے تنازع کی شکل اختیار کئے ہوئے ہے تاہم اس سال اس مسئلے نے سیاسی رنگ زیادہ شدت سے اختیار کر لیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: فاروق سید کا انتقال اُردو زبان ہی کا نہیں بلکہ تہذیب کا بھی خسارہ ہے: نواب ملک

ہندوتوا تنظیموں اور بی جے پی کے لیڈران نے واضح مطالبہ کیا ہے کہ مندر میں عقیدت مندوں کے داخلہ پر کسی بھی قسم کی پابندی قبول نہیں کی جائے گی۔ ان تنظیموں نے انتباہ دیا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی پابندیاں برقرار رکھی گئیں تو عید کے دن ہی مندر پر جمع ہو کر گھنٹہ ناد اور ہنومان چالیسا کا اجتماعی پاٹھ کیا جائے گا اور بڑےپیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ صورتحال کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) اتل جھینڈے نے فوری طور پر تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقین کے عہدیداروں کی ایک اہم میٹنگ طلب کی تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم یا ناخوشگوار واقعہ کو روکا جا سکے۔ 
میٹنگ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے اپنے اپنے موقف شدت کے ساتھ پیش کئے جس کے بعد ماحول مزید گرما گیا۔ شیو سینا (ادھو) کے نائب رہنما وجے سالوی نے موجودہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ مرکز اور ریاست دونوں جگہ ہندوتوا نظریات کی حکومت ہونے کے باوجود ہندوؤں کو اپنے ہی مندر میں داخلے کیلئے آواز اٹھانی پڑ رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت حساس معاملات کو حل کرنے کے بجائے سیاسی فائدہ حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ 
دوسری جانب برسراقتدار شیو سینا (شندے) کے شہر صدر روی پاٹل اور دیگر عہدیداروں نے بھی سخت موقف اپناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب آئین تمام مذاہب کو مساوی حقوق دیتا ہے تو پھر صرف ہندو عقیدت مندوں پر ہی پابندیاں کیوں عائد کی جاتی ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے تاکہ ہر مذہب کے ماننے والوں کو یکساں حقوق حاصل رہیں۔ 
ادھر پولیس انتظامیہ نے تمام سیاسی اور مذہبی تنظیموں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس حکام کے مطابق علاقے میں امن و امان برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے اور کسی بھی اشتعال انگیز حرکت یا ماحول خراب کرنے کی کوشش کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ شہر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر پولیس نے حساس مقامات پر اضافی بندوبست بھی شروع کر دیا ہے۔ 
عیاں رہے کہ سال بھر ہندو عقیدت مند مندر میں پوجا پاٹ کرتے ہیں صرف سال میں ۲؍ مرتبہ عیدین کی نماز کے وقت کچھ دیر کیلئے مندر میں عقیدت مندوں کے داخلہ پر پابندی عائد کردی جاتی ہے تاکہ امن و امان کو کوئی مسئلہ پیدا نہ ہونے پائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK