• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس آئی آر: عرضی گزاروں کو کمیشن کے حلف نامہ پر جواب دینے کیلئے مہلت

Updated: October 28, 2026, 10:48 AM IST | Agency | New Delhi

سپریم کورٹ نے راہل گاندھی اور اویسی سمیت دیگر اپوزیشن لیڈروں کو جواب دینے کیلئے ۱۰؍ دن کا وقت دیا، سماعت ۱۷؍ نومبرتک ملتوی کردی۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

ایس آئی آر سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو چیلنج کرنے والی اپوزیشن لیڈروں کی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت دیوالی کے بعد ۱۷؍ نومبر تک ملتوی ہوگئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقۂ کار اور ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں کے خلاف دائر عرضیوں پر سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن نے پیر کو  حلف نامہ داخل کرکے اپنے فیصلوں کا دفاع کیا تھا۔ کمیشن نے  دعویٰ کیاکہ ایس آئی آر سے متعلق تینوں احکامات کمیشن کے تینوں تمام اراکین کی رضامندی سے جاری کئے گئے تھے۔ کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے یکطرفہ فیصلے کرنےکے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے  اپوزیشن لیڈروں کی عرضیوں کو بے بنیاد قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر ایم ایل سی انتخابات میں کانٹے کی ٹکر

یاد رہے کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی، اسدالدین اویسی اور اپوزیشن کے دیگر لیڈوں کی جانب سے دائر عرضیوں پر اب دیوالی کے بعد سماعت ہوگی۔ عدالت نے عرضی گزاروں کو الیکشن کمیشن کے حلف نامے پر جواب داخل کرنے کے لئے  ۱۰؍ دن کا وقت دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس باگچی اور جسٹس  موہنا پر مشتمل بنچ کے سامنے اس معاملے کی سماعت ہوئی۔ اس دوران عرضی گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل وکاس سنگھ نے کہا کہ انہیں الیکشن کمیشن کا حلف نامہ صرف ایک دن قبل ہی موصول ہوا ہے۔ ایسے میں اس کا جواب تیار کرکے داخل کرنے کے  لئے کم از کم ۱۰؍  دنوں کا وقت دیا جانا چا ہئے۔ اس کے بعد عدالت نے عرضی گزاروں کو جواب داخل کرنے کے لیے وقت دیا اور معاملے کی سماعت دیوالی کے بعد تک ملتوی کردی۔دریں اثناء الیکشن کمیشن نے اپنے حلف نامے میں اپوزیشن لیڈروں کی جانب سے لگائے گئےتمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کاکھل کر دفاع کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK