کمال مولا مسجد کے تعلق سے عدالتی فیصلے کے بعد پہلے جمعہ کو ہندو گروپوں کی جانب سے مہا آرتی کا انعقاد کیا، جبکہ مسلمانوں نے احتجاجاً گھروں میں جمعہ کی نماز ادا کی۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 5:02 PM IST | Bhopal
کمال مولا مسجد کے تعلق سے عدالتی فیصلے کے بعد پہلے جمعہ کو ہندو گروپوں کی جانب سے مہا آرتی کا انعقاد کیا، جبکہ مسلمانوں نے احتجاجاً گھروں میں جمعہ کی نماز ادا کی۔
دھار کی بھوجشالہ-کمال مولا مسجد کمپلیکس کے اطراف تعینات تقریباً۱۸۰۰؍ سیکیورٹی اہلکاروں کی نگرانی میں ہندو گروپوں کی طرف سے پہلی مہا آرتی کا انعقاد کیا گیا، جبکہ مسلمان جن کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں نماز پڑھنے کا ان کا حق اب بھی برقرار ہے، نے احتجاج کے طور پر اپنے گھروں میں نماز ادا کرنے کا انتخاب کیا۔جمعہ کی صبح سے ہی کمپلیکس تک جانے والی سڑکوں پر بیریکیڈز لگا دیے گئے تھے، جبکہ آر اے ایف، کیو آر ایف اور ایس ٹی ایف کے اہلکار شہر کے حساس علاقوں میں گشت کر رہے تھے۔ پولیس نے جمعرات کی رات دھار شہر میں مارچ کیا، اور افسران سوشل میڈیا پر نظر رکھے ہوئے تھے اور مسلم اکثریتی علاقوں میں اضافی چوکیاں لگائی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہائی کورٹ نے یو اے پی اے کیس میں عمر خالد کو عبوری ضمانت دی
پولیس کے مطابق، مہا آرتی اس وقت ہوئی جب آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے ہندوؤں کو عبادت اور دیگر مقاصد کے لیے بھوجشالہ کمپلیکس میں غیر محدود رسائی فراہم کر دی ۔ دھار کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے کہا کہ انتظامیہ صرف انہی رسومات کی اجازت دے گی جو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم کے تحت دی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سماجکے نمائندگان کے ساتھ بات چیت کی گئی ہے اور تمام فریقین نے عدالت کی ہدایات پر عمل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔کمپلیکس کے اندر کا ماحول باہر کے تناؤ سے بالکل مختلف تھا۔ ہندو عقیدت مند اے ایس آئی کے زیرتحفظ یادگار کے نقش و نگار والے پتھر کے محرابوں کے نیچے ننگے پاؤں قطار میں کھڑے تھے، ہنومان چالیسا گا رہے تھے اور دیوی سرسوتی کی آرتی کر رہے تھے۔بعد ازاں ہندو تنظیموں نے جمعہ کی تقریب کو تاریخی اہمیت قرار دیا، ان کا دعویٰ تھا کہ یہ بھوجشالہ میں ۷۲۱؍سالوں میں پہلی جمعہ مہا آرتی تھی۔ واضح رہے کہ۱۵؍ مئی کے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے تک، اس تاریخی عمارت میں ۲۰۰۳ء کی اے ایس آئی انتظامات کے تحت عبادت چل رہی تھی، جس کے تحت ہندو منگل اور بسنت پنچمی کو پوجا کر سکتے تھے، جبکہ مسلمان جمعہ کو نماز پڑھ سکتے تھے۔تاہم، ہائی کورٹ نے پچھلے ہفتے کہا کہ متنازعہ عمارت کا مذہبی کردار بھوجشالہ کا ہے جو دیوی سرسوتی کو وقف ایک مندر ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ مقام ایک محفوظ یادگار ہے جس کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیٹ پیپر لیک معاملہ میں لاتور سے ایک ڈاکٹر گرفتار، بیٹے کیلئے پرچہ لیا تھا
بعد ازاں اس فیصلے نے تاریخی عمارت کی طبعی ساخت پر ہندو فریقین کے نئے مطالبات کو بھی جنم دیا ہے۔ ہندو فرنٹ فار جسٹس سے وابستہ درخواست گزار نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو خط لکھ کر کمپلیکس کے جنوب مشرقی حصے میں ایک بند کمرے کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے، اس کا دعویٰ ہے کہ یہ اصل مندر ڈھانچے کا حصہ ہے۔جہاں ہندو گروپ اس فیصلے کا جشن منا رہے تھے، وہیں مسلم درخواست گزاروں نے اس حکم کے خلاف علامتی احتجاج کا اعلان کیا جبکہ اس بات پر زور دیا کہ وہ آئینی حدود میں رہیں گے۔ کمال مولا ویلفیئر سوسائٹی کے صدر اور مسلم فریق کی درخواست گزاروں میں سے ایک عبدالصمد نے کہا کہ معاشرے کے افراد کمپلیکس میں جمع ہونے کے بجائے اپنے گھروں اور آنگنوں میں نماز پڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان سیاہ پٹیاں پہنیں گے، دکانیں بند کریں گے، اور سوشل میڈیا پر نماز کی تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کریں گے تاکہ اس احتجاج کو ظاہر کیا جا سکے جسے وہ مسجد کے نقصان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جبکہ مسلمانوں نے یہ احتجاج باضابطہ طور پر ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے بعد کیا۔ تاہم جمعہ کی شام تک شہر میں کشیدگی تو تھی لیکن پرسکون رہا، سیکیورٹی فورسیزحساس علاقوں میں تعینات رہیں، جبکہ دونوں فریق سپریم کورٹ میں طویل قانونی جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔