کاغذ اور کتابوں کی محدود دستیابی کے باوجود کانو کے بچے لکڑی کی روایتی تختیوں ’لوح‘ پر قرآن کی آیات اور سورتیں لکھ کر پڑھتے اور یاد کرتے ہیں، جہاں قرآنی تعلیم کا یہ طریقہ نسل در نسل منتقل ہورہا ہے۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 10:00 PM IST | Kano
کاغذ اور کتابوں کی محدود دستیابی کے باوجود کانو کے بچے لکڑی کی روایتی تختیوں ’لوح‘ پر قرآن کی آیات اور سورتیں لکھ کر پڑھتے اور یاد کرتے ہیں، جہاں قرآنی تعلیم کا یہ طریقہ نسل در نسل منتقل ہورہا ہے۔
نائیجیریا کے شمالی شہر کانو میں بچوں کا ایک گروپ آج بھی قرآنِ کریم کی تعلیم کے لیے لکڑی کی روایتی تختیوں سے استفادہ کررہا ہے۔ محدود وسائل اور کاغذ و کتابوں کی کمی کے درمیان طلبہ چھوٹی اور سادہ تعلیمی جگہوں پر جمع ہوتے ہیں، جہاں وہ لکڑی کی تختیوں پر قرآن کی آیات اور سورتیں لکھتے، پڑھتے اور انہیں زبانی یاد کرتے ہیں۔ یہ طریقہ خطے میں کئی نسلوں سے جاری قرآنی تعلیم کی روایت کا حصہ ہے۔ ان روایتی تختیوں کو مقامی طور پر ’’لوح‘‘ کہا جاتا ہے۔ طلبہ ان پر قرآن کی آیات تحریر کرکے تلاوت اور حفظ کی مشق کرتے ہیں۔ جدید تعلیمی سہولتوں کی عدم دستیابی کے باوجود یہ نظام کئی مقامات پر آج بھی قائم ہے اور کانو کی مذہبی و تعلیمی زندگی میں روایتی قرآنی مدارس کی موجودگی کو نمایاں کرتا ہے۔ ستمبر ۲۰۲۶ء میں کانو میں کھینچی گئیں تصاویر میں بچوں کو انہی لکڑی کی تختیوں کے ساتھ قرآن کی تعلیم حاصل کرتے دیکھا گیا۔
کانو میں اس نوعیت کے قرآنی تعلیمی اداروں کو عام طور پر روایتی تختی والے مدارس کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہاں تعلیم کا ایک اہم حصہ قرآن کی تلاوت اور حفظ پر مبنی ہوتا ہے اور استاد، جسے مقامی طور پر ’’مالم‘‘ کہا جاتا ہے، قرأت اور یاد کرنے کے عمل کی نگرانی کرتا ہے۔ اسمتھ سونین انسٹی ٹیوشن کے محفوظ تاریخی ریکارڈ میں بھی کانو کے ایسے قرآنی اسکولوں کا ذکر ملتا ہے، جہاں بچوں کی اسلامی تعلیم روایتی ’’اسکول آف ٹیبلٹ‘‘ نظام کے تحت ہوتی تھی۔ اس تعلیمی روایت کی جڑیں کانو کے مذہبی اور تاریخی پس منظر سے گہری وابستہ ہیں۔ تاریخی طور پر ایسے مدارس میں قرآن کو زبانی یاد کرنے اور مسلسل تلاوت کے ذریعے طلبہ کی تعلیم مکمل کرانے پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ بعض روایتی نظاموں میں طالب علم کی تعلیم کی تکمیل اس وقت سمجھی جاتی تھی جب اس کی تلاوت مقررہ معیار تک پہنچ جاتی۔
یہ بھی پڑھئے: اسپین: ہاؤسنگ بل مسترد ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے
کانو میں روایتی قرآنی مدارس کی تاریخ صرف چند دہائیوں تک محدود نہیں۔ شہر میں قائم بعض اداروں نے طویل عرصے تک اسی طریقۂ تعلیم کو برقرار رکھا اور بعد میں اس کے ساتھ جدید تعلیم بھی شامل کی۔ کانو کے گوانی دانزارگا قرآنی ادارے کی تاریخ کے مطابق یہ ادارہ تقریباً ایک صدی قبل روایتی قرآنی مدرسے کے طور پر قائم ہوا تھا اور بعد میں پرائمری، جونیئر اور سینئر سیکنڈری سطح کی جدید تعلیم بھی اس کے نظام میں شامل کی گئی۔ روایتی طریقے میں لکڑی کی تختی صرف لکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ طالب علم کی روزمرہ قرآنی تعلیم کا بنیادی حصہ ہوتی ہے۔ طالب علم اس پر آیات تحریر کرتا ہے، استاد کے سامنے انہیں پڑھتا ہے اور پھر یاد کرنے کی مشق کرتا ہے۔ یوں تحریر، تلاوت اور حفظ ایک ہی تعلیمی عمل کا حصہ بن جاتے ہیں۔