کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے ایک بیان میں کہا کہ ریاست کے ۶۰۰۰؍ گائوں کے پنچایت کے دفاتر کے نام مہاتما گاندھی کے نام پر رکھے جائیں گے، یہ کانگریس پارٹی کا فیصلہ ہے۔
EPAPER
Updated: January 27, 2026, 10:03 PM IST | Bengaluru
کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے ایک بیان میں کہا کہ ریاست کے ۶۰۰۰؍ گائوں کے پنچایت کے دفاتر کے نام مہاتما گاندھی کے نام پر رکھے جائیں گے، یہ کانگریس پارٹی کا فیصلہ ہے۔
کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے ایک بیان میں کہا کہ ریاست کے ۶۰۰۰؍ گائوں کے پنچایت کے دفاتر کے نام مہاتما گاندھی کے نام پر رکھے جائیں گے۔ منگل کو بنگلور کے فریڈم پارک میں منعقدہ راج بھون چلو، مہاتما گاندھی ایم جی این آر ای جی اے بچاؤ سنگھرش، احتجاجی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے شیوا کمار نے کہا کہ کے پی سی سی کے نائب صدر وی ایس اُگرپّا اور دیگر پارٹی عہدیداروں نے انہیں اس معاملے پر خط لکھا تھا اور وزیر اعلیٰ کو ایک نمائندگی پیش کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’اس کے ذریعے ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ مہاتما گاندھی کا نام مستقل طور پر محفوظ رہے۔ گاندھی جی نے خواب دیکھا تھا کہ ہر گاؤں میں ایک اسکول، ایک کوآپریٹو سوسائٹی اور ایک پنچایت ہونی چاہیے۔‘‘انہوں نے کہا کہ کانگریس غریب کے روزگار کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’سونیا گاندھی کی قیادت میں منموہن سنگھ کی حکومت نے بے روزگاروں کو روزگار مہیا کیا۔ دنیا نے ہمارے روزگار گارنٹی اسکیم کو نوٹ کیا تھا۔ عالمی بینک نے۲۰۱۳ء میں اس اسکیم کو بہترین اسکیموں میں سے ایک کے طور پر سراہا تھا۔
واضح رہے کہ ریاست میں ۵۷۰۰؍پنچایتیں ہیں، اور ہر سال اس اسکیم کے تحت تقریباً۶؍ ہزار کروڑ روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔پہلے پنچایتیں فیصلہ کرتی تھیں کہ کن ترقیاتی کاموں کو انجام دیا جانا چاہیے۔ جو لوگ دوسروں کی زمین پر مزدوری کرنے سے ہچکچاتے تھے، انہیں اپنی ہی زمین پر کام کرکے اجرت کمانے کا موقع دیا گیا۔ سونیا گاندھی کی ہدایت پر، اس وقت کے مرکزی وزیر سی پی جوشی نے اس اسکیمکا خاکہ تیار کیا۔ آشریہ گھر، اندرا آواس گھر، مویشیوں کے شیڈ اور زراعت سے متعلق کاموں کی تعمیر کے لیے اجرت ادا کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کو ایک عوامی تحریک کے طور پر نافذ کیا گیا تھا۔بعد ازاں مرکز فنڈ کا۹۰؍ فیصد مہیا کرتا تھا۔ لوہے اور سیمنٹ جیسے مواد سے متعلق کاموں کے لیے، ریاستی حکومت کو۲۵؍ فیصد حصہ ادا کرنا پڑتا تھا۔ اس اسکیم کے تحت تقریباً ۷۰۰۰؍ نریگا کی نوکریاں پیدا کی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی نے فضائی آلودگی کا مسئلہ اٹھایا
واضح رہے کہ بی جے پی نے مہاتما گاندھی کا نام بدل دیا ہے اور ایکٹ کو ایک نیا روپ دے دیا ہے۔ نئے قانون کے تحت، مرکز کو۶۰؍ فیصد اور ریاست کو لاگت کا۴۰؍ فیصد خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ شیو کمار نے کہا کہ ’’ہم اس معاملے پر بحث کرنے کے لیے ایک خصوصی اجلاس منعقد کر رہے ہیں اور دو دن تک بحث کریں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ بی جے پی کے لیڈروںکا کیا کہنا ہے۔‘‘ شیوا کمار نے کہا۔’’این آر ای جی اے دیہات کی ترقی کے لیے بنائی گئی اسکیم ہے۔ بی جے پی پورے ملک میں بے روزگاری کی بیماری پھیلا رہی ہے۔ گاندھی کے ساتھ بی جے پی کی نفرت مردہ باد۔ ہم کبھی بھی این آر ای جی اے کو ختم نہیں ہونے دیں گے۔ ہمیں وی بی گرام جی نہیں چاہیے؛ ہمیں گاندھی چاہیے۔ اگرچہ پولیس آج ہمیں گرفتار کر لے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اگر ہمیں جیل جانا پڑا تو بھی ہم تیار ہیں۔ ہماری جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ این آر ای جی اے اسکیم بحال نہیں ہو جاتی، جیسا کہ مرکز کو زرعی قوانین واپس لینے پر مجبور کیا گیا تھا۔‘‘دریں اثناء اس اسکیم میں بدعنوانی کے الزامات پر شیوکمار نے کہا کہ ’’مرکزی وزیر ایچ ڈی کمار سوامی اور بی جے پی لیڈروں کو بحث کے لیے آنا چاہیے؛ میں تیار ہوں۔ اس اسکیم کو نافذ ہوئے۲۰؍ سال ہو چکے ہیں۔ آپ کی اپنی حکومت گزشتہ ۱۱؍ سال سے برسراقتدار ہے۔ اگر اسکیم میں بے ضابطگیاں تھیں، تو آپ ان تمام سالوں میں کیا کر رہے تھے؟ ہم نے اپنی پنچایتوں میں جہاں بھی بے ضابطگیاں پائی گئیں، کارروائی کی ہے۔ اگر چند افراد غلطیاں کرتے ہیں، تو کیا پوری اسکیم کو تبدیل کرنا صحیح ہے؟ کیا چہرے سے انتقام لینے کے لیے ناک کاٹنا صحیح ہے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’گجرات میں ایس آئی آر کے دوران منصوبہ بند ووٹ چوری ہورہی ہے‘‘
ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ’’ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے ایم جی این آر ای جی اے کے فنڈز روک لیے ہیں۔ مرکز کی نئی اسکیم کا نفاذ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں بھی ممکن نہیں ہے۔ این ڈی اے اتحادی اور رہنما سی ایم چندرا بابو نائیڈو نے خود اعتراضات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ اسکیم نافذ نہیں کی جا سکتی۔ اگر بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت نئے قانون کو واپس نہیں لیتی، تو حکومت کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چندرا بابو نائیڈو نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ مرکزی حکومت کسانوں، کارکنوں اور پنچایتوں کے حقوق چھین رہی ہے۔ ہماری لڑائی اس کے خلاف ہے۔ آنے والے دنوں میں، ہر پنچایت میں تعلقہ سطح پر این آر ای جی اے کارکنوں کی شرکت سے پانچ کلومیٹر کا پیدل مارچ کیا جائے گا۔ جس کی قیادت ضلعی انچارج وزراء، ایم ایل اے اور ایم ایل سی کریں گے۔ ‘‘