کرناٹک حکومت نے نندنی دودھ کی قیمت میں یکم نومبر سے۸؍ روپے فی لیٹر اضافے کو منظوری دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈیری کسانوں کو دودھ کی خریداری پر ملنے والی قیمت۳۵؍ روپے سے بڑھ کر۴۲؍ روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔
قیمت میں اضافے سے کسانوں کو فائدہ ہوگا۔ تصویر: آئی این این
کرناٹک حکومت نے نندنی دودھ کی قیمت میں یکم نومبر سے۸؍ روپے فی لیٹر اضافے کو منظوری دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈیری کسانوں کو دودھ کی خریداری پر ملنے والی قیمت۳۵؍ روپے سے بڑھ کر۴۲؍ روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ ریاستی حکومت نے دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کی جانب سے بہتر ادائیگی کے بڑھتے ہوئے مطالبے کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔
ریوینیو کے وزیر کرشن بائیرے گوڑا نے جمعرات کو کابینہ کے اس متفقہ فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ قیمت میں اضافے کے۸؍روپے میں سے۷؍روپے دودھ پیدا کرنے والوں اور ایک روپیہ ڈیری کوآپریٹیو کمیٹیوں کو ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فی لیٹر۵؍روپے کی موجودہ ترغیبی رقم جاری رہے گی۔ اس طرح کسانوں کو مجموعی طور پر۴۷؍ روپے فی لیٹر ملیں گے۔یہ فیصلہ دودھ کی پیداوار کی بڑھتی ہوئی لاگت کے درمیان خریداری کی قیمت بڑھانے کے مطالبے پر دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کے احتجاج کے بعد کیا گیا ہے۔ کسانوں نے ابتدا میں کم از کم۱۰؍ روپے فی لیٹر اضافے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے کابینہ کے کئی اجلاسوں میں اس تجویز پر غور کیا اور بالآخر اسے منظوری دے دی۔