• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

معروف ادیب و محقق پروفیسر سید مجاور حسین رضوی کا انتقال، اردو دنیا ایک عظیم شخصیت سے محروم

Updated: October 30, 2026, 12:14 PM IST | Muhammad Amir Nadvi | Luckhnow

تدفین آج صبح ۱۰؍بجے امامباڑہ غفران مآب میں ہوگی، مرحوم ایک ہزارسے زائد کتابوں کے مصنف تھے، اردو تحقیق ،تنقید وصحافت کے درخشاں عہد کا خاتمہ۔

Syed Mujawar Hussain Rizvi. Photo: INN
سید مجاورحسین رضوی۔ تصویر: آئی این این

اردو دنیا کی معروف علمی و تدریسی شخصیت، الہ آباد یونیورسٹی اور حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی کے سابق صدرِ شعبہ اردو پروفیسر سید مجاور حسین رضوی کا طویل علالت کے بعددوبگا واقع رہائش گاہ پر انتقال ہوگیا ۔ ان کی عمر۹۴؍ برس تھی ۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں، جبکہ ایک بیٹے اور ایک بیٹی کا انتقال ہوچکا ہے ۔ ان کی تدفین امامباڑہ غفران مآب کے قبرستان میں جمعہ کی صبح۱۰؍بجے عمل میں آئے گی۔ مرحوم ایک ہزارسے زائد کتابوں کے مصنف تھے ۔ ان کا انتقال اردو تحقیق، تنقید اور صحافت کے ایک درخشاں عہد کا خاتمہ ہے۔

پروفیسر سید مجاور حسین رضوی کی پیدائش۵؍ اکتوبر۱۹۳۲ء کواعظم گڑھ ضلع کےسرائے قاضی میں ہوئی تھی، جبکہ ان کا آبائی تعلق سید واڑہ ،مچھلی شہرسے تھا ۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کے بعد الہ آباد یونیورسٹی سے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کیا، دوران تعلیم  انہوں نے تین گولڈ میڈل اور ایک سلور میڈل حاصل کیا ۔ ’اردو شاعری میں قومی یکجہتی‘ کے عنوان پرپروفیسر احتشام حسین کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی مکمل کی ۔ اعلیٰ تعلیم کے بعد تدریس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور علم و ادب کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر پر الیکشن کمیشن کے حلف نامے میں کئی اہم سوالات اب بھی جواب طلب

پروفیسر مجاور حسین رضوی کی زندگی کا ایک طویل اور سنہری حصہ الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ رہا، جہاں انہوں نے طلبہ کی کئی نسلوں کی علمی آبیاری کی۔ بعد ازاں، وہ حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے صدر کے عہدے پر فائز رہے اور وہاں بھی تحقیقی و تدریسی معیار کو نئی بلندیوں سے روشناس کرایا۔سبکدوشی کے بعد بھی ریسرچ اسکالرس کی رہنمائی کرتے رہے۔ادبی دنیا میں وہ اپنے قلمی نام ’ابن سعید‘سے بھی بے پناہ مقبول ہوئے۔ انہوں نے کلاسیکی اردو نثر، ناول ، مثنویوں اور مرثیہ نگاری پر مستند اور گراں قدر کام کیا۔ ان کی اہم تصانیف میں ’مثنویاں اور داستانیں‘ کلاسیکی داستانوں کے نسوانی و تہذیبی معاشرے پر ان کا یہ تنقیدی کام اردو نصاب کا مستقل حصہ ہے۔ ’اردو شاعری میں قومی یکجہتی کی روایت‘ برصغیر کی مشترکہ تہذیب پر لکھی گئی ان کی معرکہ آرا کتاب ہے ۔ ’صدقِ عظیم‘ اور ’جہانِ افکار‘  ان کے گہرے فکری و ادبی مضامین اور تنقیدی زاویوںکا مجموعہ ہے ۔  ’تنقید و تفہیم‘ اور ’بصیرتیں‘  اکبر الہ آبادی اور محمد حسین آزاد جیسے اساطینِ ادب پر ان کے عالمانہ مقالات پر مشتمل ہے ۔ ابن سعید کے نام سے انہوں نے صحافت کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور ’نکہت پبلیکیشنز‘ کے شریک بانی رہے ۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد ایوارڈ سے نوازاگیا جس میںلکھنؤ کا’پروفیسر شارب ردولوی ایوارڈ‘بھی شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK