کلیدی ملزم ڈاکٹر کرشنا نے غریب اور مجبور افراد کے گردے بیچ کر کروڑوں کی دولت کمائی جو اب ضبط کی جا رہی ہے۔
EPAPER
Updated: July 14, 2026, 12:54 PM IST | Ali Imran | Chandrapur
کلیدی ملزم ڈاکٹر کرشنا نے غریب اور مجبور افراد کے گردے بیچ کر کروڑوں کی دولت کمائی جو اب ضبط کی جا رہی ہے۔
بین ریاستی گردہ اسمگلنگ کیس کی تحقیقات میں نئے اور حیران کن انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پورے غیر نیٹ ورک کے ماسٹر مائنڈ اور ایجنٹ ڈاکٹر کرشنا عرف رام کرشنا سنچو نے غریب اور نادار افراد کی حالت زار سے فائدہ اٹھایا اور کروڑوں کی غیر قانونی دولت اکٹھی کی۔ اب، اس ریکیٹ کو بے نقاب کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اسکے غیر قانونی اثاثوں کو ضبط کرنا شروع کر دیا ہے، جرم میں استعمال ہونے والی اس کی لگژری ہنڈائی کریٹا کار اور اس کے بھائی کو بھیجے گئے ۱ء۱۵؍ملین روپے کی نقد رقم ضبط کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انصاری مزمل احمد نے کنیڈا یونیورسٹی سے ’ماسٹر اِن بزنس اینالٹک‘ میں ٹاپ کیا
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ڈاکٹر کرشنا نے غریب اور معاشی طور پر کمزور افراد کو ان کے گردے بیچنے کا لالچ دیا اور انہیں بھاری کمیشن ادا کرنے پر مجبور کیا۔ اطلاع ملنے پر ایس آئی ٹی نے گاڑی کو ضبط کرلیا۔ ڈاکٹر کرشنا نے اپنی غیر قانونی کمائی کو چھپانے اور لین دین کیلئے اپنے بھائی کو استعمال کیا تھا۔ اس نے اپنے بھائی کے اکاؤنٹ میں ساڑھے گیارہ لاکھ روپے منتقل کئے تھے۔ ایس آئی ٹی نےیہ رقم ضبط کر لی۔ ڈاکٹر کرشنا اور دہلی کے ڈاکٹر رویندر پال گردے کی اسمگلنگ کے معاملے میں فی الحال عدالتی حراست میں ہیں۔ دریں اثنا، ڈاکٹر راجارتنم گوونداسامی، تامل ناڈو کے تروچیراپلی میں معروف اسٹار کمس اسپتال کے ڈائریکٹر، جہاں یہ غیر قانونی سرجری کی گئی تھی، ابھی تک فرار ہے۔ جبکہ ڈاکٹر کرشنا نے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ میں ضمانت کی عرضی داخل کی ہے، جس کی سماعت ۲۰؍جولائی کو ہونے والی ہے۔ یاد رہے چندر پور کے ایک کسان کی شکایت پر یہ معاملہ سامنے آیا تھا ۔ کسان کو ساہوکار کے قرض کے بدلے میں گردہ بیچنے پر مجبور کیا گیا تھا اور لاکھوں روپے وصول کئے گئے تھے۔