میرا بھائندر کے دہلی دربار ہوٹل کے سامنے زیرتعمیر فلائی اوور کو اپوزیشن کی شدید مخالفت اور حفاظتی انتظامات ادھورے ہونے کے باوجود گزشتہ دنوں جزوی طور پر ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔
دہلی دربار ہوٹل کے سامنے واقع فلائی اوور۔تصویر:آئی این این
میرا بھائندر کے دہلی دربار ہوٹل کے سامنے زیرتعمیر فلائی اوور کو اپوزیشن کی شدید مخالفت اور حفاظتی انتظامات ادھورے ہونے کے باوجود گزشتہ دنوں جزوی طور پر ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔ٹریفک پولیس کے سینئر افسر پرفل باگ نے بتایا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج مجسمے کے قریب واقع فلائی اوور کی ایک لین، جو ممبئی کی طرف جاتی ہے، کھول دی گئی ہے اور دوسری لین بھی جلد شروع کی جا رہی ہے۔ تاہم انہوں نے نیشنل ہائی وے اتھاریٹی سے واضح طور پر کہاہے کہ جلد بازی نہ کی جائے۔ ان کے مطابق تیسری لین پر ٹریفک فی الحال خطرناک ہے کیونکہ حفاظتی دیوار کا کام باقی ہے۔ ٹریفک پولیس نے نیشنل ہائی وے اتھاریٹی سے درخواست کی ہے کہ وہ اگلے ایک سے دو دن میں ۶ ؍اسٹریٹ لائٹس، کیٹ آئیز اور رمبلرز ہنگامی بنیادوں پر نصب کرے۔
مقامی شہریوں نے بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ اسٹریٹ لائٹس، حفاظتی دیوار اور روڈ ڈیوائیڈرز کے ادھورے کام کے ساتھ بریج کھولنا بڑے حادثے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔۱۹ ؍ جون کو اپوزیشن جماعتوں کے وفد نے بریج کا معائنہ کر کے تعمیراتی معیار پر شدید سوالات اٹھائے تھے۔ وفد کے مطابق پل میں زنگ آلود سریے استعمال ہوئے ہیں، ایپوکسی کوٹنگ غائب ہے، مزدور حفاظتی سامان کے بغیر کام کر رہے ہیں اور سیمنٹ کی سڑک پر ڈامر کا پیچ ورک کیا گیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اس اقدام کو’عوام کی جان سے کھیل‘ قرار دیتے ہوئے اس کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ دہرایا ہے۔