Inquilab Logo Happiest Places to Work

کشمیر کی زعفران صنعت کو ’’ساہی‘‘ کے بڑھتے حملوں سے نیا خطرہ لاحق

Updated: May 12, 2026, 9:11 PM IST | srinagar

کشمیر کی مشہور زعفران صنعت ایک نئے بحران سے دوچار ہے جہاں پامپور اور جنوبی کشمیر کے دیگر علاقوں میں انڈین کریسٹڈ پورکیپائن (ساہی، ایک بڑا اور مشہور چوہا نما ممالیہ) زعفران کے کھیتوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ کسانوں کے مطابق یہ جانور زمین کھود کر زعفران کے زیرِ زمین کورمز تباہ کر دیتے ہیں جس سے فصل اور آمدنی دونوں متاثر ہو رہی ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک تقریباً ۴۰۰؍ سے ۵۰۰؍ کنال اراضی متاثر ہوئی ہے۔

Photo: INN
تسویر : آئی این این

کشمیر کی عالمی شہرت یافتہ زعفران صنعت کو ایک نئے خطرے کا سامنا ہے کیونکہ جنوبی کشمیر کے پامپور اور ملحقہ علاقوں میں کسانوں نے انڈین کریسٹڈ پورکیپائن، یعنی ساہی کے بڑھتے حملوں کی شکایات کی ہیں۔ واضح رہے کہ ساہی ایک بڑا اور مشہور چوہا نما ممالیہ ہے، جو اپنے جسم پر موجود لمبے کانٹوں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر سبزی خور ہے جو جڑیں، پھل اور پتے کھاتا ہے، اور افریقہ، اٹلی اور ایشیا کے حصوں میں پایا جاتا ہے۔کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ رات کو سرگرم رہنے والا جانور زعفران کے کھیتوں میں گھس کر زمین کھودتا ہے اور زیرِ زمین موجود زعفران کے کورمز کھا جاتا ہے، جس سے فصل شدید متاثر ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے : وزیراعظم کی عوام سے اپیل پر اپوزیشن لیڈروں کی سخت تنقیدیں

سرکاری تخمینوں کے مطابق ضلع پلوامہ کے پامپور علاقے میں تقریباً ۴۰۰؍ سے ۵۰۰؍ کنال اراضی متاثر ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ مجموعی زعفران رقبے کا ایک محدود حصہ ہے، مگر کسانوں کو خدشہ ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو نقصان پورے زعفران بیلٹ تک پھیل سکتا ہے۔ کاشتکاروں کے مطابق ساہی رات کے وقت کھیتوں میں داخل ہو کر زعفران کے پودوں کی جڑوں اور کورمز کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے فصل کی پیداوار کم ہو رہی ہے۔ کئی کسانوں نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے محکمہ زراعت اور محکمہ جنگلی حیات کو متعدد بار شکایات درج کرائیں، لیکن زمینی سطح پر خاطر خواہ کارروائی نہیں کی گئی۔ محکمہ زراعت نے معاملے کا نوٹس لینے کی تصدیق کی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ بنیادی طور پر محکمہ جنگلی حیات کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ دوسری جانب محکمہ وائلڈ لائف نے صورتحال کو ’’قابو میں‘‘ قرار دیا ہے۔

وائلڈ لائف وارڈن پرویز احمد وانی کے مطابق کشمیر میں تقریباً دو لاکھ کنال اراضی پر زعفران کی کاشت ہوتی ہے اور اس میں سے ۴۰۰؍ سے ۵۰۰؍ کنال متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق متاثرہ علاقے جنگلی حیات کے محفوظ علاقوں سے تقریباً ۱۵؍ کلومیٹر دور واقع ہیں، اس کے باوجود محکمہ کا ’’مین اینیمل کانفلکٹ کنٹرول روم‘‘ چوبیس گھنٹے سرگرم ہے اور مقامی لوگوں میں بیداری مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ زعفران جموں کشمیر کے سب سے اہم نقد آور فصلوں میں شمار ہوتا ہے اور یہ وادی کی معیشت میں سالانہ ۵۰۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ کا حصہ ڈالتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اہم غیر ملکی زرِ مبادلہ بھی فراہم کرتی ہے۔ تاہم گزشتہ کئی برسوں سے یہ صنعت موسمیاتی تبدیلی، بارشوں میں کمی، غیر متوقع موسم، زمین کی زرخیزی میں کمی اور مارکیٹ مسائل جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے : ریاست میں ۴۸۷؍ غیر قانونی اسکول، ۱۱۱؍ کے خلاف ایف آئی آر درج

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ماضی میں کشمیر میں سالانہ تقریباً ۲۲؍ ہزار ۵۰۰؍ کلوگرام زعفران پیدا ہوتا تھا، لیکن بعد میں پیداوار کم ہو کر تقریباً ۲؍ ہزار کلوگرام تک گر گئی۔ حالیہ برسوں میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے۔ محکمہ زراعت کے مطابق ۲۰۲۱ء میں زعفران کی پیداوار ۳۳ء۱۷؍ میٹرک ٹن رہی، جو ۲۰۲۲ء میں کم ہو کر ۸۷ء۱۴؍  میٹرک ٹن ہو گئی، جبکہ ۲۰۲۳ء میں یہ معمولی اضافے کے ساتھ ۹۴ء۱۴؍ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔ اسی طرح زعفران کی مارکیٹ ویلیو ۲۰۲۱ء میں ۳۵ء۳۰۲؍ کروڑ روپے، ۲۰۲۲ء میں ۳۸ء۲۶۱؍ کروڑ روپے اور ۲۰۲۳ء میں ۳۳ء۲۹۱؍ کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔

حکومت نے زعفران کے قومی مشن کے تحت ۲۰۱۰ء کے بعد ۲۵۷۳؍ ہیکٹر سے زیادہ اراضی کی بحالی اور جدید کاری کے منصوبے شروع کیے ہیں۔ اس کے علاوہ پامپور کے ڈسو علاقے میں ۸۱ء۳۷؍ کروڑ روپے کی لاگت سے انڈیا انٹرنیشنل کشمیر سیفران ٹریڈنگ سینٹر بھی قائم کیا گیا تاکہ کسانوں کے لیے مارکیٹنگ اور قیمتوں کے تعین کا بہتر نظام فراہم کیا جا سکے۔ اس کے باوجود کسانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ ساہی بحران کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو پہلے ہی مشکلات کا شکار زعفران صنعت مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زعفران نہ صرف کشمیر کی معیشت بلکہ اس کی ثقافتی شناخت کا بھی اہم حصہ ہے، اس لیے اس کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK