Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریپ ملزم کی ضمانت مسترد، جج کا مشرقِ وسطیٰ طرز کی سزاؤں کا حوالہ دینے پر تنقید

Updated: June 02, 2026, 5:00 PM IST | Bengaluru

کرناٹک ہائی کورٹ کے ایک جج کے سخت سزاؤں سے متعلق ریمارکس نے قانونی اور عوامی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ ریپ کے ایک ملزم کی ضمانت درخواست مسترد کرتے ہوئے جج نے مشرقِ وسطیٰ طرز کی سزاؤں کا حوالہ دیا، جس پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید سامنے آئی۔

Karnataka High Court. Photo: INN
کرناٹک ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

کرناٹک ہائی کورٹ نے حال ہی میں ایک۲۳؍ سالہ ریپ کے ملزم کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران جرم اور سزا سے متعلق متنازع ریمارکس دیئے۔ جسٹس آر نتراج نے کہا کہ مجرموں کو جرائم سے باز رکھنے کیلئے شاید زیادہ سخت سزاؤں کی ضرورت ہے۔ یہ خبر بار اینڈ بینچ نے رپورٹ کی ہے۔ ایم آئی ٹی منی پال کے طالب علم گوپی ریڈی کارتھک ریڈی، جو ۵؍اپریل سے عدالتی حراست میں ہے، کو فوری ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے جسٹس نتراج نے ریمارکس دیئے کہ موجودہ سزائیں مجرموں کو خوفزدہ کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بعض مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں دی جانے والی سزاؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:’’قانون اپنی طاقت کھو چکا ہے کیونکہ ہم مجرموں کے ساتھ سختی سے پیش نہیں آتے۔ اسی لئے جرم کرنا اتنا آسان ہو گیا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایسا نہیں۔ اگر ہاتھ یا پاؤں کاٹ دیئے جائیں تو شاید لوگ قانون کی پابندی کرنا سیکھیں۔ چونکہ ہمارے پاس جمہوریت ہے، اس لئےہر شخص اسے معمولی سمجھنے لگا ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان عالمی ڈجیٹل معیشت میں پانچویں اور اے آئی میں چوتھے مقام پر: سائیڈ ۲۰۲۶ء رپورٹ

عدالت نے ملزم کو فوری طور پر رہا کرنے سے بھی انکار کرتے ہوئے کہا:’’اگر نمک کھایا ہے تو پانی بھی پینا ہوگا۔ اسے مزید چار پانچ دن جیل میں رہنے دیں، تاکہ اسے جیل کی عادت ہو جائے۔ کون جانتا ہے، اگر سزا ہو گئی تو شاید دوبارہ واپس آنا پڑے۔ ‘‘عدالت نے ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت۸؍ جون کو مقرر کی۔ استغاثہ کے مطابق شکایت کنندہ خاتون اور ملزم منی پال انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں ہم جماعت تھے۔ خاتون کا الزام ہے کہ۱۲؍ ستمبر۲۰۲۳ء کو ملزم نے تعلقات پر بات چیت کے بہانے اسے اپنے فلیٹ پر بلایا اور وہاں اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ خاتون نے مزید کہا کہ اس واقعے کے باعث وہ شدید ذہنی صدمے اور ڈپریشن کا شکار ہوئیں، جس کا علاج بھی کروانا پڑا۔ بعد ازاں انہوں نے قومی کمیشن برائے خواتین سے رجوع کیا اور پولیس میں شکایت درج کرائی۔ 

یہ بھی پڑھئے: مانسون کے کیرالا پہنچنے کیلئے ابھی مزید دوتین دن کا انتظار

یہ مقدمہ اڈپی ویمن پولیس اسٹیشن میں تعزیراتِ ہند کی دفعات۳۷۵(اے) اور۳۷۶؍ کے تحت درج کیا گیا۔ ملزم نے الزامات کی تردید کی ہے۔ اس کے وکیل کا مؤقف ہے کہ شکایت ایک ایسے واقعے سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر تقریباً تین سال قبل پیش آیا تھا اور مسلسل حراست اس کے مستقبل کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ جج کے ریمارکس پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی، جہاں متعدد صارفین نے کہا کہ اس نوعیت کی سزائیں آئین اور جدید قانونی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ایک صارف نے لکھا:’’ہائی کورٹ حمورابی کے ضابطۂ قانون کی وکالت کیسے کر سکتی ہے؟ ہم صدیوں پہلے انتقامی انصاف کے تصور سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر اس سے بھی زیادہ تشویشناک لگتا ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: حکومت عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈال رہی ہے : پرمودتیواری

ایک اور صارف نے کہا:’’نہیں، آئین اور فوجداری قوانین ایسی وحشیانہ سزاؤں کی اجازت نہیں دیتے۔ ‘‘ کچھ دیگر صارفین نے عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے لکھا:’’ہمارے ملک میں عدالتوں اور ججوں کی سطح یہی رہ گئی ہے۔ قوانین تو بہت ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ سسٹم کے ہر درجے میں بدعنوانی موجود ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK