• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پنجاب: سحری و افطار کی سہولت کا مطالبہ کرنے والے کشمیری طلبہ کے ساتھ بدسلوکی، وائس چانسلر مستعفیٰ

Updated: February 26, 2026, 3:56 PM IST | Chandigarh

اس معاملے نے جلد ہی سیاسی توجہ حاصل کرلی۔ جموں و کشمیر کی لیڈر التجا مفتی نے پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان سے مداخلت کی اپیل کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کشمیری مسلم طلبہ کو بنیادی مذہبی سہولیات مانگنے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

Students` Protest Against CT University VC. Photo: X
سی ٹی یونیورسٹی کے وی سی کے خلاف طلبہ کا احتجاج۔ تصویر: ایکس

پنجاب کی سی ٹی یونیورسٹی (CT University) میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ نے رمضان المبارک کے مہینے میں سحری و افطار کا کھانا فراہم کرنے کے مطالبہ پر ان کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کے خلاف احتجاج کیا جس کے بعد وائس چانسلر نتن ٹنڈن نے منگل کے دن اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

احتجاج کرنے والے کشمیری طلبہ نے دعویٰ کیا تھا کہ رمضان کے دوران یونیورسٹی میس میں سحری اور افطار کے انتظامات کی درخواست کرنے پر وائس چانسلر نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی تھی اور ان کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کئے تھے۔طلبہ احتجاج کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ کیمپس میں معمولات کی بحالی کی کوشش کے طور پر وی سی کا استعفیٰ قبول کرلیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے چانسلر اور چیئرمین چرنجیت سنگھ چنی نے بتایا کہ اس معاملے کی اندرونی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں، مقامی حکام بھی صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ 

طلبہ کے مطابق، انہوں نے انتظامیہ سے روزہ داروں کے لئے سحری و افطار کے انتظامات فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں میں ایسی سہولیات دستیاب تھیں۔ طلبہ نے الزام لگایا کہ جب ان کی درخواست حل نہ ہوئی تو تلخ کلامی کرتے ہوئے وائس چانسلر نے مبینہ طور پر توہین آمیز تبصرے کئے، طلبہ کو گالیاں دیں اور ان کے داخلے منسوخ کرنے کی دھمکی دی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر ٹنڈن کو طلبہ سے کیمپس خالی کرنے کیلئے کہتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد تنازع مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اندور میں آلودہ پانی کے سبب ایک اور شخص کی موت ، عوام میں ناراضگی

سیاسی توجہ اور ردعمل

اس معاملے نے جلد ہی سیاسی توجہ حاصل کرلی۔ جموں و کشمیر کی لیڈر التجا مفتی نے پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان سے مداخلت کی اپیل کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کشمیری مسلم طلبہ کو بنیادی مذہبی سہولیات مانگنے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ’جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن‘ نے بھی مقررہ وقت کے اندر اس معاملے کی غیر جانبدارانہ انکوائری اور طلبہ کو ہراساں کیے جانے یا تعلیمی جرمانوں سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی سید ناصر حسین نے ان رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا کہ ہاسٹل اور میس فیس ادا کرنے کے باوجود طلبہ کو بے دخلی کی دھمکیاں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی عبادات کے لئے معقول سہولیات سے انکار کیمپس میں شمولیت اور مساوی سلوک پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیمی اداروں نے طلبہ کو وقار کے ساتھ اپنے عقیدے پر عمل کرنے کی اجازت دینی چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: مسلم خاتون کو رہائش سے انکار اور دلت باورچی پر اعتراض: سپریم کورٹ جج کی تشویش

مقامی حکام کی مداخلت

کشیدگی بڑھنے کے بعد مقامی حکام نے بھی مداخلت کی۔ جگراؤں کی سب ڈویژنل مجسٹریٹ اوپیندر جیت کور براڑ نے کہا کہ طلبہ کا بنیادی مطالبہ وائس چانسلر کا استعفیٰ تھا جو اب پورا کر دیا گیا ہے اور یونیورسٹی سے انکوائری رپورٹ طلب کرلی گئی ہے۔ لدھیانہ کے ڈپٹی کمشنر ہمانشو جین نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے پولیس اور کمیونٹی نمائندوں کے ساتھ مل کر معاملہ حل کرنے میں مدد کی۔ مکمل تحقیقات اور رمضان کے دوران سحری و افطار کے انتظامات کی یقین دہانی کے بعد طلبہ نے اپنا احتجاج ختم کر دیا۔

یونیورسٹی نے ابھی تک اندرونی انکوائری کے تفصیلی نتائج جاری نہیں کئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK