’’اٹھ!‘‘ فرشتے نے اپنی کرخت آواز میں ڈانٹا۔’’ن ن ن نہیں، اے موت، رحم!‘‘ نوجوان کا گلا رُندھ گیا، ہاتھ جوڑ کر گڑگڑانے لگا۔ ’’ اے موت سن، تو کسی اور کا گلا گھونٹ، مجھے چھوڑ دے، میں مرنا نہیں چاہتا۔
EPAPER
Updated: May 31, 2026, 12:26 PM IST | Mumbai
’’اٹھ!‘‘ فرشتے نے اپنی کرخت آواز میں ڈانٹا۔’’ن ن ن نہیں، اے موت، رحم!‘‘ نوجوان کا گلا رُندھ گیا، ہاتھ جوڑ کر گڑگڑانے لگا۔ ’’ اے موت سن، تو کسی اور کا گلا گھونٹ، مجھے چھوڑ دے، میں مرنا نہیں چاہتا۔
موت کے فرشتے نے ایک چھوٹے سے بچے کے گہوارے پر اپنے بازو پھیلادیئے۔ یہ کوئی معمولی بچہ نہ تھا، اپنے گھر کا اجالا تھا، ماں باپ کا لاڈلا تھا، خاندان کا دلارا اور سب کی آنکھوں کا تارا تھا۔ بہار اور خزاں کے صرف تین ہی دَور دیکھنے پایا تھا کہ بیمار پڑ گیا۔ اس قدر جلد عدم آباد کو لوَٹ جانے والے معصوم مسافر کے کمرے پر سناٹا چھایا ہوا تھا۔ صرف ایک ماں تھی جو نیم جان لاشے کو گود میں لئے بیٹھی مامتا کے آنسو بہا رہی تھی۔ سر ہاتھ پر ٹکا ہوا تھا اور نگاہیں زمین پر گڑی ہوئی تھیں۔
باپ سویرے سے دکان بند کرکے لَوٹ آیا۔ ماں سے بولنے کی ہمت نہ پڑی کہ چڑ چڑاجائے گی۔ کمرے میں بھی آیا نہ گیا کہ بچہ بے چین نہ ہوجائے۔ دور کھڑے ہوکر اداس نظریں ڈالیں۔ کیا دیکھتا ہے کہ موت کا فرشتہ کمرے میں سمایا ہوا ہے اور بچے پر منڈلارہا ہے! اُف، کیسا دہشت ناک منظر ہے! ملک الموت آیا ہے تاکہ آسمان والے کی امانت زمین والوں سے چھین لے جائے!
یہ بھی پڑھئے: محاسن ِکلامِ داغ دہلوی، زبان و محاورہ
’’موت! رحم ، رحم!‘‘ باپ نے اپنی ڈبڈبائی ہوئی آنکھیں بند کرکے اور دانت بھینچ کر مناجات شروع کی ’’اس بچے پر رحم کر! اس ماں کے درد بھرے دل پر رحم کر! نیک فرشتے، اگر تو اکیلا لَوٹنا نہیں چاہتا تو میرے چہیتے کے بدلے مجھے لے چل! خدارا اسے اس کی دکھیاری ماں کے لئے چھوڑ دے ۔ اگر تو بچے کی جان لے لے گا تو ماں بھی مر جائے گی، اگر جیے گی بھی تو مُردوں سے بدتر اس کی زندگی ہوجائے گی۔ لڑکے کے بدلے مجھے قبول کرلے۔ میں تیری منت کرتا ہوں!‘‘ موت کے فرشتے نے آہستہ سے حرکت کی اور باپ کو اشارہ کیا کہ ’’میرے پیچھے چل!‘‘
’’ہاں ، ہاں مہربان فرشتے! میں تیرے پیچھے چلتا ہوں‘‘ باپ نے جوش سے کہا ’’خدا کی قسم، دنیا کے آخری سرے تک ساتھ چلوں گا، موت کی بھیانک وادی میں بھی تو مجھے اپنے پیچھے پائے گا۔ میں خوش ہوں کیونکہ اپنی جان دے کر اپنے لخت جگر کو بچا رہا ہوں۔ ہاں موت! جلدی کر۔ چل کہ میں تیرے ساتھ جانے کے لئے بے قرار ہوں۔‘‘
فرشتہ بجلی کی سی تیزی سے روانہ ہوگیا۔ غمگین باپ نے اُس کے پیچھے ہوا پر اڑنا شروع کردیا۔ دَم کےدَم میں شہر کے خوشنما باغ سے گزر ہوا، ہرے بھرے درخت پھولوں سے لدے ہوئے جھوم رہے تھے۔ پھر خود شہر میں پہنچا، خاص اپنی دکان نظر آئی، دوست احباب دکھائی دیئے۔ اُن کی آوازیں اور باتیں سنائی دیں ، بازار میں گھسا ، ہر طرف لین دین، ہر جگہ کھناکھن۔
انسانی جذبات باہم ملتے ہیں کہ یک رنگی پیدا کریں، مگر فوراً ہی تصادم شروع ہوجاتا ہے، کشمکش ہونے لگی ہے، حرص و طمع، عقل انسانی کا مذاق اڑاتی ہے۔ کچے دھاگے میں اُسے دنیا سے باندھ دیتی ہے لیکن خود دنیا سرد رہتی ہے، خاموش رہتی ہے، بے مہر رہتی ہے ۔ زندگی کے لمحوں کو نگلتی جاتی ہے اور پوری بے پروائی سے عدم کی ظلمت میں اگلتی جاتی ہے! فرشتہ ، باپ کو لئے ہوئے شہرپناہ کے پھاٹک پر پہنچ گیا۔ اب ادھر کو جانے لگا جہاں موت رہتی ہے اور جس کا کوئی نام نہیں ہے۔ فصیل کے برجوں اور میناروں پر سورج کی گنگاجمنی شعاعیں ناچ رہی تھیں اور انسان کے دل میں اس فانی زندگی کی محبت جگا رہی تھیں۔
باپ کے گھٹنے ٹھنڈے ہوکر کانپنے لگے ۔ اس نے گردن موڑی کہ دنیا پر آخری نظر ڈالے اور خداحافظ کہہ کر رخصت ہوجائے، مگر پاؤں لڑکھڑا گئے ، منہ کے بل زمین پر گر پڑا ۔’’موت، رحم، !‘‘ وہ بڑی بے کسی سے چلایا ’’میں کسی طرح بھی مَر نہیں سکتا ، میرا دل زندگی چاہتا ہے، ابھی جوانی کا عالم ہے، دنیا کی بہاریں، مسرتیں، عیش و نشاط ہر چیز مجھے اشارے کررہی ہے، یہاں کا چپہ چپہ زندہ رہنے کی فرمائش کررہا ہے ، مجھے زندہ رہنا ہے ، جا، کسی اور کی روح قبض کرلے، میں تیرے ساتھ نہیں جاؤں گا!‘‘ فرشتے نے باپ کو چھوڑ دیا اور پر پھیلائے ہوئے بچے کے سَر پر پھر لَوٹ آیا۔
بچہ کا نوجوان بھائی آیا۔ اداسی کی ایک ہلکی سیاہی اس کے چہرے پر چھائی ہوئی تھی۔ آتے ہی ماں کو آواز دی مگر وہ غم کی تصویر بنی بیٹھی رہی۔ نوجوان نے منہ اٹھایا تو کیا دیکھتا ہے کہ ملک الموت کھڑا ہے ۔ وہ ڈر گیا ۔ پھر جاںبہ لب بھائی کا منہ دیکھا تو مردے کی طرح پیلا تھا۔
’’موت‘‘ نوجوان نے فرشتے سے کہا ’’شہر میں اور بہت بچے ہیں تو اُنہیں شکار کیوں نہیں کرتی؟ آخر میرے بھائی نے کیا خطا کی ہے کہ اسی کی جان لینے پر تُل گئی ہے ؟ اتنا بھی نہیں سوچتی کہ ہم سب اس سے کتنی محبت کرتے ہیں؟ اس کا مرنا ، ہم سب کا مرنا ہے ۔ اگر ہمارا ہی گھر تو نے تاک لیا تو یہاں بھی کئی آدمی موجود ہیں، کسی اور کو لے لے ۔ دیکھ ، ایک میں ہی تیرے سامنے کھڑا ہوں۔ میرے بھائی کے بدلے مجھے لے جا!‘‘
نوجوان کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔ موت کے فرشتے کو حرکت ہوئی۔ اس نے اشارے سے چلنے کو کہا ۔ دونوں روانہ ہوگئے۔ شہر کی سڑکوں پر چلتے رہے۔ نوجوان کے ساتھی، مدرسے سے لَوٹ رہے تھے۔ کھیلتے کودتے، ہنستے بولتے چلے جارہے تھے۔ پڑوسی کا لڑکا دکھائی دیا۔ نوجوان کی اِس سے دانت کاٹ روٹی کی دوستی تھی۔ اس وقت وہ وہی گیت گا رہا تھا جو اکثر نوجوان مزے لے لے کر گایا کرتا تھا۔ اب وہ گھر ملا جس میں اس کی چھوٹی سی محبوبہ رہتی تھی۔ پھولوں کی وہ کیاریاں بھی دکھائی دیں جو اس نے محبوبہ کے ساتھ مل کر لگائی تھیں۔ وہ خود بھی باغ میں فوارے کے کنارے پاؤں پھیلائے بیٹھی نظر آئی۔ پھر سنیما کی طرف گزر ہوا۔ بھیڑ لگی تھی۔ ایک طرف سے اس کا وہ پرانا دوست بھی آتا دکھائی دیا جو ایک لمبے سفر سے برسوں کے بعد لوٹا تھا۔ نوجوان فوراً مصافحے کو لپکا مگر چشم زدن میں وہ اوجھل ہوگیا کیونکہ فرشتہ، بجلی کی تیزی سے لامتناہی فضا میں اڑائے لئے جارہا تھا۔آخر نوجوان ڈر کر اور تھک کر بے ہوش ہوگیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’آپ غالب کو غلط سمجھے ہیں‘‘
’’اٹھ!‘‘ فرشتے نے اپنی کرخت آواز میں ڈانٹا۔’’ن ن ن نہیں، اے موت، رحم!‘‘ نوجوان کا گلا رُندھ گیا، ہاتھ جوڑ کر گڑگڑانے لگا۔ ’’ اے موت سن، تو کسی اور کا گلا گھونٹ، مجھے چھوڑ دے، میں مرنا نہیں چاہتا۔ کسی کیلئے میں اپنی جان کیوں دوں؟‘‘
فرشتہ لوَٹ آیا اور بچے کے بستر کے قریب منڈلانے لگا۔بہن مدرسے سے لوَٹی۔ حسن کی ننھی سی دیوی۔ وہ آئی اور ماں کے پاس بیٹھنے لگی۔ اچانک موت کا فرشتہ، بھائی پر منڈلاتا نظر آیا۔ ننھی سی جان ڈر سے لرز گئی۔’’ڈراؤنی صورت، کیا چاہتی ہے؟‘‘ بہن دل ہی دل میں چلائی ’’کس کی جان لینے آئی ہے؟ کیا میرے ننھے کے دشمنوں کی؟ موت! تجھے اس معصوم پر ترس کھانا چاہئے۔ میرا بھائی! آہ! میدان کے پھولوں کی طرح پاک اور صبح کی شبنم کی طرح شفاف ہے ! میرا بھائی ! میری جان! موت، مجھے اس کے بدلے لے لے!‘‘
ملک الموت نے اپنی انگلی ہلائی کہ چلی آ میرے پیچھے!
فرشتہ روانہ ہوا۔ لڑکی پیچھے ہو لی۔ دونوں باغ میں پہنچے۔ چشمے پر سے گزرے ، بنگشہ کے وہ پودے بھی دکھائی دیئے جو لڑکی نے آج ہی صبح بوئے تھے۔ اب دونوں سڑک پر آئے۔ سہیلیاں کھیلتی کودتی اور چہل کرتی نظر آئیں۔ شہر کے ان تمام حصوں سے گزرے جنہیں لڑکی پہچانتی تھی۔ آخر مدرسے کے دروازے پر رکے کہ لڑکی اُسے خداحافظ کہہ لے ، لیکن وہیں لڑکی کی ہمت جواب دے گئی۔ اس نے منہ موڑا اور لوَٹنے لگی: ’’نہیں، اے فرشتے! میں تیرے ساتھ نہیں جاؤں گی، جا ہی نہیں سکتی۔ میں مرنا نہیں چاہتی۔ جسے جی میں آئے مار ڈال ، لیکن مجھے چھوڑ دے۔ میں جینا چاہتی ہوں کیونکہ زندگی پیاری ہے، بہت پیاری۔‘‘
فرشتہ گھوما اور بدستور بیمار کے بستر پر منڈلانے لگا۔
اب بچے کی نبض رک رہی تھی۔ ہاتھ پاؤں بھی اینٹھنے لگے تھے۔ غمزدہ ماں نے سر اٹھایا کہ اپنے پیارے کا آخری دیدار کرلے، ایک دفعہ اور چھاتی سے لگا لے۔ منہ جھکایا کہ اپنے گرم ہونٹ اس کے سفید ہونٹوں پر رکھ دے ، مگر ڈری کہ کہیں پیار، زندگی کا رہاسہا رس بھی چوس نہ لے۔
جلدی سے منہ ہٹالیا۔ اب آنکھ اٹھی تو ملک الموت کو سامنے پایا۔ وہ ساکت کھڑا تھا اور دکھیاری ماں کی بیٹے سے رخصتی کا انتظار کررہا تھا۔ ماں فوراً بچے کی چارپائی کے سامنے مناجات کیلئے جھکی ، اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ پھیلا دیئے۔ اس کے ٹوٹے ہوئے دل سے یہ صدا نکلنی شروع ہوئی:
’’موت، رحم کر! اگر تو اس معصوم پر رحم کھانہیں سکتی تو بدنصیب ماں ہی پر ترس کھا۔ موت! یہ بچہ میرا خون ہے ، گوشت ہے، دل کا ٹکڑا ہے، زندگی کی بہار ہے۔ خدارا ایسا نہ کر کہ بدبخت ماں، لخت جگر کی تربت پر کھڑی ہو۔ موت، مہربان بن۔ احسان کر، بچے کو چھوڑ دے تاکہ اپنی ماں کی قبر پر کھڑا ہوسکے۔ اچھے فرشتے! رحم کر، معاملات کو سمجھ، کیا تو ماں کی جان، بچے کے عوض قبول کرسکتا ہے؟‘‘
موت نے اشارہ کیا کہ پیچھے آئے اور ماں اس کے ساتھ ہولی تاکہ اپنے بچے پر سے قربان ہوجائے۔ فرشتہ باغ میں لے گیا، اس کی کیاریاں، اس کے چمن، اس کی نہریں جو خود ماں نے بنائی تھیں دکھائیں، پھر شہر بھر میں پھرایا ، ایک ایک کرکے وہ سب دکھایا جو دل کو لبھانے والا اور زندگی کی چاہ پیدا کرنے والا تھا۔ زنانہ کلب میں لے گیا جس کی ماں سرگرم ممبر تھی۔ اس محلے کے پھاٹک پر کھڑا کیا جہاں جشن منایا جارہا تھا اور جس میں وہ خود بھی مدعو تھی۔ یہاں ماں نے سرد آہ بھری، آنکھوں سے گرم آنسوؤں کی دو پتلی لکیریں اُس کے رخساروں پر دوڑتی نظر آئیں۔فرشتہ رک گیا۔
’’کیا ماں بھی اپنی محبت میں کچی اور جھوٹی ثابت ہوگی؟‘‘ وہ سوچنے لگا ’’کیا ماں بھی اپنی جان، بچے سے زیادہ عزیز سمجھے گی؟ اگر ماں کی محبت بھی جھوٹی ہوجائے تو اس دنیا کو سلام! انسانیت پر ماتم!‘‘
پھر فرشتہ، ماں کو اس کی چہیتی بہن کے گھر لے گیا جو اپنے خاوند سے ہنس بول رہی تھی، پھر اس کی پیاری سہیلی کے کمرے میں گھسا جو بیٹھی پیانو بجا رہی تھی، لیکن ماں مضبوط قدموں سے ساتھ چلی آرہی تھی۔ سر جھکا تھا ، آنکھوں میں آنسو تھے۔ ملک الموت دفعتاً ٹھہر گیا۔ ’’موت، چل! ‘‘بے تاب ماں چلائی ’’جلد چل تاکہ میرے بچے کی جان بچ جائے۔ تو رک کیوں گیا؟ آگے بڑھ اور بیٹے کے بدلے ماں کو مار ڈال، جلدی کر، ایسا نہ ہو کوئی دوسرا فرشتہ اُس کی روح قبض کر لے جائے!‘‘
موت مسکرائی ۔ مگر کیا موت کے لبوں پر بھی مسکراہٹ آتی ہے؟
اس غیرفانی محبت کے سامنے آخرکار موت کو پسپا ہو جانا پڑا۔ بجلی کی طرح چمک کر وہ نظر سے غائب ہوگئی۔ ماں ہکابکا کھڑی رہ گئی۔ پھر سمجھی کہ فرشتے نے دغا دی ہے ، کہیں بچے کو مار نہ ڈالا ہو۔ بے تحاشا دوڑی۔
گھر پہنچ کر اس پر شادیٔ مرگ کی کیفیت طاری ہو گئی۔ بچہ اچھا ہوچکا تھا اور ’’ماں ، ماں‘‘ پکار رہا تھا! ماں کو دیکھ کے ہمک کر لپکا اور اُس کے مامتا بھرے سینے سے چمٹ گیا!اُس دن کے بعد پھر کبھی فرشتے نے اس گھر میں قدم نہیں رکھا جہاں ماں ایسی لازوال محبت بستی تھی!