Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیرالا اسمبلی انتخابات سے قبل کے سی وینوگوپال کے وزیر اعلیٰ وجین سے کچھ اہم سوالات

Updated: April 08, 2026, 10:46 AM IST | Agency | Thiruvananthapuram

کیرالا اسمبلی انتخابات سے قبل، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے وزیر اعلیٰ پی وجین کو ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے طرزِ حکمرانی، مبینہ سیاسی گٹھ جوڑ اور گزشتہ دہائی کے اہم تنازعات کے بارے میں کئی تیکھے سوالات پوچھے ہیں۔

Congress General Secretary Kc Venugopal.Photo;iNN
کانگریس جنرل سیکریٹری کے سی وینو گوپال۔ تصویر:آئی این این
کیرالا اسمبلی انتخابات سے قبل، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے وزیر اعلیٰ پی وجین کو ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے طرزِ حکمرانی، مبینہ سیاسی گٹھ جوڑ اور گزشتہ دہائی کے اہم تنازعات کے بارے میں کئی تیکھے سوالات پوچھے ہیں۔ انہوں نے اس خط کو عوامی خدشات کا عکاس قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیرالا میں ایک اور انتخاب ہونے جا رہا ہے، لہٰذا وزیر اعلیٰ وجین کے۱۰؍ سالہ دورِ اقتدار کے کئی حل طلب مسائل اب بھی عوام میں بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعلیٰ ریاست کے سامنے موجود ان اہم ترین سوالات کا جواب دیں گے۔
کانگریس لیڈرکے سوالات کا محور بنیادی طور پر ریاستی حکومت اور بی جے پی کی زیرِ قیادت مرکزی حکومت کے درمیان مبینہ سمجھوتے ہیں۔ انہوں نے وجین کی نئی دہلی میںوزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں، خاص طور پر حکام کی عدم موجودگی میں ہونے والی نشستوں کے بارے میں وضاحت طلب کی اور پوچھا کہ کیا ان ملاقاتوں کے دوران کوئی سیاسی لین دین ہوا تھا؟وینو گوپال نے مرکزی وزیر نتن گڈکری کے ساتھ ہونے والی متعدد ملاقاتوں کا بھی تذکرہ کیا اور سوال اٹھایا کہ کیا دہلی سے باہر بھی کوئی غیر رسمی ملاقاتیں ہوئیں اور کیا وہ خفیہ معاہدوں سے جڑی تھیں؟
 
 
خط میں اٹھایا گیا ایک اہم مسئلہ کیرالا میں پی ایم شری اسکیم کا نفاذ ہے۔ وینوگوپال نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت نے ایل ڈی ایف کی اہم حلیف جماعت’سی پی آئی‘ کی مخالفت کے باوجود اس اسکیم کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ اتحادیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ خفیہ مفاہمت کا اشارہ ہے؟ انہوں نے مرکز کے لیبر قوانین کے حوالے سے ریاستی حکومت کے رویے پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ اتحادیوں سے مشاورت کیے بغیر خفیہ طور پر فیصلے کئے گئے۔ انہوں نے ٹریڈ یونین رجسٹریشن فیس میں بھاری اضافے کو پالیسی میں تبدیلی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا اور وضاحت طلب کی۔
 
 
قانونی معاملات پر،وینوگوپال نے وزیر اعلیٰ سے وابستہ ایس این سی،لاوالن کیس میں طویل عرصے سے ہونے والی تاخیر پر روشنی ڈالی اور سوال اٹھایا کہ کیا سپریم کورٹ میں بار بار ہونے والا التوا سیاسی مفادات سے جڑا تھا؟ انہوں نے وجین پر یہ الزام بھی لگایا کہ انہوں نے ذاتی یا سیاسی وجوہات کی بنا پر وزیر اعظم نریندر مودی کے تئیں اپنے رویے میں نرمی اختیار کر لی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK