جی-۷؍ اجلاس میں وزیراعظم مودی اورامریکی صدر ٹرمپ کی دوطرفہ ملاقات، وزیر اعظم مودی نے ہندوستانی ملاحوں کےتحفظ پر زوردیا، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال،ٹرمپ نے مودی کی تعریف کی، کہا ’’ ہندوستان پر حملہ ہوا تو مدد کریں گے۔‘‘
EPAPER
Updated: June 18, 2026, 1:36 PM IST | New Delhi
جی-۷؍ اجلاس میں وزیراعظم مودی اورامریکی صدر ٹرمپ کی دوطرفہ ملاقات، وزیر اعظم مودی نے ہندوستانی ملاحوں کےتحفظ پر زوردیا، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال،ٹرمپ نے مودی کی تعریف کی، کہا ’’ ہندوستان پر حملہ ہوا تو مدد کریں گے۔‘‘
فرانس میں منعقدہ جی ۔۷؍اجلاس کے دوران وزیر اعظم نریندرمودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقات ہوئی، جس میں باہمی تعلقات، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور ہندوستانی ملاحوں کی سلامتی سمیت متعدد امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران وزیر اعظم مودی نے ہندوستانی ملاحوں کی حفاظت کا مسئلہ خاص طور پر اٹھاتے ہوئے کہا کہ دنیا کے مختلف سمندری راستوں پر کام کرنے والے ہندوستانی شہریوں کی سلامتی ہندوستان کے لیے نہایت اہم ہے۔
انہوں نے امریکی صدر کی توجہ حالیہ واقعات کی جانب مبذول کرائی جن میں آبنائے ہرمز کے قریب پیش آنے والے حملوں میں تین ہندوستانی ملاح ہلاک ہوئے تھے۔وزیر اعظم مودی نے ملاقات کے دوران کہا کہ آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا پوری دنیا کے لیے ضروری ہے، کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کی اہم شاہراہ ہے۔وزیر اعظم مودی نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے صدر ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں استحکام قائم ہونے سے عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی سلامتی کو فائدہ پہنچے گا۔امریکی صدر سے تقریباً سولہ ماہ بعد ہونے والی ملاقات کے دوران مودی نے کہا:مسٹر پریزیڈنٹ! آپ سے دوبارہ ملاقات خوشی کا باعث ہے۔ گزشتہ برس واشنگٹن میں ہماری ملاقات کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی رفتار اور نئی توانائی پیدا ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کی ٹیموں نے مشترکہ اہداف طے کیے ہیں اور ان کے حصول کے لیے تیزی سے کام جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے گرفتار
اس دوران گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے وزیر اعظم مودی کی قیادت اور ان کی صلاحیتوں کی کھل کر تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ اگر نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کو کسی حملے یا بڑے خطرے کا سامنا کرنا پڑا تو امریکہ اس کی مدد کے لیے تیار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے قریبی شراکت دار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مودی اپنے ملک اور عوام سے محبت کرتے ہیں اور ہر معاملے میں بھارت کے مفادات کا بھرپور دفاع کرتے ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ عالمی سطح پر وزیر اعظم مودی کا کردار نہایت اہم ہے اور بین الاقوامی معاملات میں ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ عالمی اور علاقائی مسائل کے حل کے لیے بھارت مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا حل تلاش نہ کیا جا سکے، بشرطیکہ متعلقہ فریق سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کریں۔ انہوں نے عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور بات چیت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ذرائع کے مطابق مودی اور ٹرمپ کی یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان دفاع، تجارت، ٹیکنالوجی اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی دہلی اور واشنگٹن مستقبل میں بھی قریبی تعاون جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔
واضح رہےکہ فرانس میں جاری جی-۷؍ اجلاس کے دوران عالمی معیشت، توانائی، سلامتی، موسمیاتی تبدیلی اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اہم موضوعات میں شامل ہیں۔ عالمی رہنما خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: گروک اے آئی کا استعمال ایران پر حملوں میں کیا گیا
یورپی یونین کی صدرارسلا وان ڈیر کی وزیراعظم مودی سے ملاقات
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے فرانس میں منعقد ہ جی۷؍ سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد ہندوستان اور یورپی یونین (ای یو) کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو مقررہ مدت کے اندر حتمی شکل دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کے حوالے سے مقررہ مدت کے اندر ہندوستان اور یورپی یونین (ای یو) کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) کو حتمی شکل دینے کا اعلان کیا ہے۔ایکس پر اس میٹنگ کے بارے میں معلومات کا اشتراک کرتے ہوئے، لیین نے وزیر اعظم مودی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا، ’’اتنی جلد آپ سے دوبارہ ملنا بہت خوشی کی بات ہے اور چونکہ ہم نے سب سے بڑا تجارتی معاہدہ کیا ہے، ہم اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘