آئی سی سی پر امریکی پابندیوں کو دنیا بھر میں وسیع مخالفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، یورپی ممالک، کنیڈا، جاپان نے واشنگٹن کی پابندیوں کو مسترد کر دیا، یورپی یونین بین الاقوامی عدالت کے تحفظ کے لیے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
EPAPER
Updated: October 10, 2026, 9:02 PM IST | New York
آئی سی سی پر امریکی پابندیوں کو دنیا بھر میں وسیع مخالفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، یورپی ممالک، کنیڈا، جاپان نے واشنگٹن کی پابندیوں کو مسترد کر دیا، یورپی یونین بین الاقوامی عدالت کے تحفظ کے لیے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعہ کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر وسیع پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کو امریکہ کے قریبی اتحادیوں سمیت دنیا بھر میں وسیع مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جس سے غزہ میں جنگی جرائم کے ملزم اسرائیلی لیڈروں کے خلاف عدالت کی کارروائی کے درمیان بین الاقوامی انصاف پر سفارتی تقسیم واضح ہوگئی۔چھ یورپی ممالک، کنیڈا اور جاپان نے مشترکہ طور پر پابندیوں کو مسترد کر دیا، جبکہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو غطریس نے علاحدہ طور پر واشنگٹن کے فیصلے کی مذمت کی۔ دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کو پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا کہ واشنگٹن عدالت کو ختم کرنے کی اپنی مہم اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک کہ عدالت امریکیوں کے خلاف خطرات کے طور پر بیان کردہ چیزوں کو ختم نہ کرے۔روبیو نے کہا، ’’یا تو آئی سی سی اپنے خطرات ختم کرے گی، یا ہم آئی سی سی کو ختم کر دیں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکی طیارہ بردار جہازکی ایران جنگ سے واپسی، غذائی قلت،خودکشی کی کوشش کا انکشاف
واضح رہے کہ یہ پیش رفت غزہ میں مبینہ جنگی جرائم پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف نومبر۲۰۲۴ء کے گرفتاری وارنٹ اور امریکی شہریوں پر عدالت کے دائرہ اختیار کی دیرینہ امریکی مخالفت کے درمیان ہوا۔جبکہ نہ تو امریکہ اور نہ ہی اسرائیل آئی سی سی کے رکن ہے، جس کے۱۲۵؍ رکن ممالک ہیں۔
بعد ازاں واشنگٹن کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ایک مشترکہ بیان میں، ڈنمارک، جرمنی، فرانس، اٹلی، نیدرلینڈز اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے اپنے کنیڈین اور جاپانی ہم منصبوں کے ساتھ پابندیوں سے سخت اختلاف کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا، ’’ہم، بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے روم قانون کے دستخط کنندہ ممالک، آئی سی سی کی آزادی، غیر جانبداری اور سالمیت کے لیے اپنی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔مزید برآں آٹھ ممالک نے خبردار کیا کہ پابندیاں عدالت کے کاموں، عملے اور ان کے خاندانوں کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہیں، ساتھ ہی بین الاقوامی جوابدہی کو برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کرنے کا عہد کیا۔جبکہ سوئٹزرلینڈ نے الگ سے عدالت کی آزادی اور اس کے اختیارات کو پورا کرنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچانے کے اقدامات کی مخالفت کی۔اس کے علاوہ ڈچ وزیر اعظم روب جیٹن نے بھی ہیگ میں قائم عدالت کا دفاع کرنے کا عہد کیا۔انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں اب امریکہ کے لیے پیغام بالکل واضح ہے،ہم آئی سی سی کے دفاع کے لیے جو کچھ بھی ضروری ہوگا کریں گے۔‘‘جبکہ بیلجیم کے وزیر خارجہ میکسیم پریوٹ نے پابندیوں کی شدید مذمت کی اور عدالت اور اس کے کام کی حمایت کرنے والوں کے تحفظ کے لیے یورپی یونین کے بلاکنگ اسٹیٹیوٹ کو فعال کرنے کا مطالبہ کیا۔پریووٹ نے کہا، ’’عدالت کی آزادی اس بات پر منحصر نہیں ہو سکتی کہ وہ کس کے خلاف تحقیقات کرتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سابق جج کے نوبیل امن انعام جیتنے کے چند گھنٹوں بعد آئی سی سی پر امریکی پابندیاں
یورپی یونین عدالت کے تحفظ کے لیے اقدامات پر غور کر رہی ہے
یورپی کمیشن نے واشنگٹن کے اعلان کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور آئی سی سی کی آزادی اور کاموں کے تحفظ کے لیے بلاک کے عزم کا اعادہ کیا۔اس نے کہا، ’’یورپی یونین عدالت کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی دونوں میں اپنا کام انجام دینے کے قابل بنانے اور سنگل مارکیٹ کے اندر یورپی یونین کے آپریٹرز کے مفادات کے تحفظ کے لیے کوئی بھی ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔
بلاک نے ادارے کے تحفظ کے لیے تمام۱۲۵؍ آئی سی سی رکن ممالک کے ساتھ کام کرنے کا عہد کیا اور کہا کہ پابندیوں کے نافذ ہونے سے پہلے چھ ماہ کی مدت واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کا موقع فراہم کرتی ہے۔اسی طرح یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے کہا کہ یورپی یونین عدالت، اس کے اراکین اور عملے کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات اپنائے گی۔
اقوام متحدہ نے بین الاقوامی انصاف پر ضرب کی تنبیہ کی
اقوام متحدہ کے لیے، سیکرٹری جنرل انتونیو غطریسنے پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ سنگین بین الاقوامی جرائم کے مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرانے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے ترجمان کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’آج کا فیصلہ بین الاقوامی فوجداری انصاف کے لیے ہماری اجتماعی جستجو کے لیے ایک سنگین دھچکا ہے، جس میں آئی سی سی ایک اہم ستون ہے۔‘‘غطریس نے عدالت کی اپنے اختیارات کو پورا کرنے کی صلاحیت پر ممکنہ اثرات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو برقرار رکھیں۔
آئی سی سی نے پابندیوں کے باوجود کام جاری رکھنے کا عہد کیا
تاہم آئی سی سی نے اپنے خلاف امریکی اقدامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں قانون کی حکمرانی پر حملہ اور انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔عدالت نے کہا کہ پابندیاں اس کے کام میں خلل ڈالنے اور ادارے کے لیے یا اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں کو ڈرانے کی کوشش ہیں۔آئی سی سی کی صدر ٹوموکو اکانے نے کہا، ’’عدالت اپنی آزادی اور غیر جانبداری کے ساتھ اپنا ذمہ داری مکمل طور پر ادا کرتی رہے گی، صرف قانون اور شواہد کی بنیاد پر، سنگین جرائم کے ان گنت متاثرین کی خاطر کام کرے گی۔‘‘یاد رہے کہ اکانے، جنہیں واشنگٹن نے اگست میں ذاتی طور پر پابندیوں کا نشانہ بنایا تھا، عدالت کے خلاف حالیہ اقدامات سے قبل امریکہ کی جانب سے نشانہ بنائے گئے کئی آئی سی سی ججوں اور پراسیکیوٹرز میں شامل ہیں۔تاہم عدالت نے اپنے۱۲۵؍ رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اس کےکردار کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔اس نے کہا، ’’یہ صرف ایک ادارے کا دفاع کرنے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ قانون کی حکمرانی پر مبنی بین الاقوامی نظام کی حفاظت کے بارے میں ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ڈونالڈ ٹرمپ برہم، ناروے پر ’ان مِٹ داغ‘ قرار دیا
اسرائیل امریکی پابندیوں کا واحد عوامی حامی
دریں اثنا، اسرائیل جمعہ تک ردعمل جاری کرنے والی حکومتوں میں امریکی پابندیوں کا خیرمقدم کرنے والا واحد ملک تھا۔وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس فیصلے کے لیے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ روبیو کی تعریف کی۔نیتن یاہو نے ایکس پر لکھا، ’’آئی سی سی کوئی عدالت نہیں ہے۔ یہ ایک سیاسی ادارہ ہے جو دنیا بھر میں قانون کی پاسداری کرنے والی جمہوریتوں اور قومی خودمختاری کے تصور کے لیے مہلک خطرہ ہے۔‘‘