کیرالاکے گورنر کی یونیورسٹیوں سے ’تقسیم کی ہولناکیوں کا یادگار دن‘ منانے کی ہدایت، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کیمپس کو سنگھ پریوار کے تقسیم کےایجنڈے کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گی۔
EPAPER
Updated: August 12, 2025, 8:07 PM IST | Thiruvandpuram
کیرالاکے گورنر کی یونیورسٹیوں سے ’تقسیم کی ہولناکیوں کا یادگار دن‘ منانے کی ہدایت، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کیمپس کو سنگھ پریوار کے تقسیم کےایجنڈے کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گی۔
کیرالا کے گورنر راجندر ارلیکر کی جانب سے ریاست کی یونیورسٹیوں کو۱۴؍ اگست کو ’’یومِ تذکرہ ہولناک تقسیم‘‘کے طور پر منانے کی ہدایت پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔وزیر اعلیٰ پینارائی وجین نے پیر کو یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کو گورنر کے سرکلر پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہدایت ــ’’غیر آئینی اور ناقابلِ قبول‘‘ہے۔لیفٹ فرنٹ کے لیڈر نے کہاکیرالا کبھی بھی اپنے تعلیمی اداروں کو سنگھ پریوار کے تفرقہ انگیز ایجنڈے کی نمائش کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ووٹ چوری‘‘ کیخلاف ۳۰۰؍ اراکین پارلیمان کی للکار، تاریخی احتجاج
۱۵؍ اگست (یومِ آزادی) کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ’’سنگھ پریوار (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی قیادت میں ہندوتوا تنظیموں کا گروپ)، جس کا آزادی کی تحریک میں کوئی کردار نہیں تھا اور جو برطانوی راج کا خادم تھا، اب تفرقہ انگیز ایجنڈے کو فروغ دے کر یومِ آزادی کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘آر ایس ایس بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیادی تنظیم ہے۔مدھر بھومی کے مطابق، اپوزیشن لیڈر وی ڈی ستیشن نے بھی گورنر کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر آئینی ہے۔ستی شن کے حوالے سے کہا گیا’’آئینی عہدہ سنبھالنے کے باوجودارلیکر ایسا کر کے کھلم کھلا کیرالا کو یہ باور کرارہے ہیں کہ وہ اب بھی آر ایس ایس کی تفرقہ انگیز سیاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘‘دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، وائس چانسلر کو جاری گورنر کے سرکلر میں کہا گیا تھا کہ یومِ آزادی سے ایک دن قبل ۱۴؍اگست کو ’’یومِ تذکرہ ہولناک تقسیم‘‘ قرار دیا گیا ہے اور تعلیمی ادارے اس موقع کو منانے کے لیے سیمینار منعقد کر سکتے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ گورنر ریاست کی تمام یونیورسٹیوں کےدفعہ ۲۳؍ کے تحت چانسلر ہوتے ہیں۔سرکلر میں کہا گیا تھا،’’وہ اس موضوع پر ڈرامے تیار کر سکتے ہیں جنہیں عوامی مقامات پر دکھا کر لوگوں کو تقسیم کی ہولناکیوں سے آگاہ کیا جا سکے۔‘‘دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، یہ سرکلر یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے۲۰۲۲ء کے حکم نامے کے مطابق تھا جس میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کو۱۴؍ اگست کو ایک نمائش منعقد کرنے کو کہا گیا تھا۔اداروں سے کہا گیا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ عوامی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے نمائش عوامی مقامات پر لگائیں۔ اس نمائش میں تقسیم کے دوران لوگوں کو درپیش مصائب کو اجاگر کرنا تھا۔ ۲۰۲۲ءکا یہ حکم وزیر اعظم نریندر مودی کے۲۰۲۱ء کے اعلان کے بعد آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ۱۴؍ اگست کو ’’یومِ تذکرہ ہولناک تقسیم‘‘کے طور پر منایا جائے گا۔یاد رہے کہ ۱۹۴۷ء میں، جب برطانوی حکومت کے تحت ہندوستان دو آزاد ممالک ہندوستان اور پاکستان – میں تقسیم ہوا، تو اس وقت لاکھوں لوگوں کو اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے، خواتین کو اغوا اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس دور میں کم از کم دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔