Updated: July 08, 2026, 10:04 PM IST
| New Delhi
کیرالا میں بہت سے معمر افراد آرام دہ گھروں میں رہتے ہیں لیکن ان کی دیکھ بھال کیلئے خاندان کا کوئی فرد پاس نہیں ہوتا۔ ان کی اولاد اکثر ملازمتوں کی وجہ سے دور دراز مقامات پر رہتی ہیں۔ اس وجہ سے، کیرالا میں معمر افراد کیلئے روزمرہ کی دیکھ بھال اور مدد فراہم کرنے والا کوئی موجود نہیں ہے۔
’این ایف ایچ ایس-۶‘ کے تحت جاری کردہ اعداد و شمار میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں معمر شہریوں کا سب سے بڑا حصہ کیرالا میں ہے۔ ریاست کی ۷ء۲۰ فیصد معمر افراد پر مشتمل ہے۔ اس کے پیچھے، اوسط عمر میں اضافہ، بچوں کی پیدائش میں کمی اور بڑی تعداد میں نوجوانوں کا ملازمت اور تعلیم کیلئے بیرونِ ملک یا دوسرے صوبوں میں منتقل ہونا جیسی وجوہات کار فرما ہیں۔
اگرچہ یہ اعدادوشمار صحت اور ترقی کے میدان میں پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن یہ پیش رفت اپنے ساتھ ایک نیا مسئلہ بھی لے آئی ہے۔ کیرالا میں بہت سے معمر افراد آرام دہ گھروں میں تو رہتے ہیں لیکن ان کی دیکھ بھال کیلئے خاندان کا کوئی فرد پاس نہیں ہوتا۔ ان کے بچے اکثر ملازمتوں کی وجہ سے دور دراز مقامات پر رہتے ہیں۔ اس وجہ سے، کیرالا میں معمر افراد کیلئے روزمرہ کی بنیاد پر دیکھ بھال اور انہیں مدد فراہم کرنے والا کوئی موجود نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: طلبہ کی تجاویز کی بنیاد پر کانگریس کا ’ایجوکیشن چارٹر‘ تیار کر نے کااعلان
ریاست کے معمر افراد کی دیکھ بھال کیلئے باہر سے باقاعدہ امداد کی ضرورت ہے۔ کیرالا کو یہاں ایک فائدہ حاصل ہے کہ اس کی مضبوط مقامی حکومتیں اس بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے میں مدد کیلئے بہترین پوزیشن میں ہیں۔
جاپان کی معمر آبادی سے موازنہ
جاپان بھی اسی قسم کے لیکن اس سے بڑے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ ستمبر ۲۰۲۵ء تک، جاپان میں ۶۵ سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی تعداد ۶ء۳ کروڑ تھی۔ اس تعداد میں پچھلے سال کے مقابلے میں ۵۰ ہزار کی کمی واقع ہوئی ہے۔ جاپان کی مردوں کی کل آبادی میں معمر مردوں کا حصہ ۲ء۲۶ فیصد ہے، جبکہ خواتین کی کل آبادی میں معمر خواتین کا حصہ ۴ء۳۲ فیصد ہے۔ اس تناسب میں مسلسل اضافے کی توقع ہے۔ ۲۰۴۰ء تک، ۶۵ سال اور اس سے زیادہ معمر افراد کی تعداد، جاپان کی آبادی کا ۸ء۳۴ فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے، کیونکہ ۱۹۷۰ء کی دہائی کے اوائل میں پیدا ہونے والی ایک بڑی نسل اس عمر کو پار کر جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: خواتین کو اے آئی اسٹارٹ اپ کے ذریعے خود کفیل بنانے کی کوشش میں مصروف جلگائوں کی بشریٰ شیخ
بڑھتی عمر کے باوجود، بہت سے جاپانی معمر افراد ملازمت کرتے ہیں۔ ۲۰۲۴ء میں، ۶۵ سال یا اس سے زیادہ عمر کے ۹۳ لاکھ افراد برسرِ روزگار ہیں، جو مسلسل ۲۱ ویں سال اب تک کی سب سے بڑی ریکارڈ شدہ تعداد ہے۔ یہ گروپ جاپان کی کل افرادی قوت کا ۷ء۱۳ فیصد بنتا ہے۔ زیادہ تر جاپانی معمر ملازمین ریٹیل (پرچون)، صحت عامہ اور سروسیز (خدمات) کے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ ان ملازمین میں سے ۹ء۷۶ فیصد غیر مستقل (non-regular) ملازمتوں پر فائز ہیں، یعنی مستقل عہدوں کے بجائے قلیل مدتی یا جزوقتی (پارٹ ٹائم) کام کرتے ہیں۔