کیرالا کے پالیم کی مسجد کے امام نے رمضان میں پونگل کی خوشی بانٹنے کا پیغام دیا، ان کا یہ خطاب سوشل میڈیا پر وائرل،ہوگیا، جس میں انہوں نے پونگل تہوار کیلئے آنے والی خواتین اور بچوں کی میزبانی کرنے کی اپیلکرتے ہوئے کہا’’یہی ہے حقیقی کیرالا اسٹوری۔‘‘
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 7:25 PM IST | Thiruvananthapuram
کیرالا کے پالیم کی مسجد کے امام نے رمضان میں پونگل کی خوشی بانٹنے کا پیغام دیا، ان کا یہ خطاب سوشل میڈیا پر وائرل،ہوگیا، جس میں انہوں نے پونگل تہوار کیلئے آنے والی خواتین اور بچوں کی میزبانی کرنے کی اپیلکرتے ہوئے کہا’’یہی ہے حقیقی کیرالا اسٹوری۔‘‘
تریوو ندر پورم کے مشہور پالیم مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران امام وی پی سہیل مولوی کے خطبے میں کی گئی اپیل وائرل ہوگئی، جو ریاست کے ہم آہنگی کی تہذیب میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔امام نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ مشہور اٹوکل پونگل تہوار کے لیے چند دنوں میں ریاستی دارالحکومت پہنچنے والی خواتین اور بچوں کے لیے مثالی میزبان کا کردار ادا رکریں۔ واضح رہے کہ اٹوکل پونگلم جسے خواتین کا سبریمالا بھی کہا جاتا ہے، ۳؍مارچ کو منایا جائے گا۔ اس سالانہ تقریب میں لاکھوں خواتین شہر پہنچ کر اٹوکل دیوی کے لیے پونگل (نذرانہ) تیار کرتی ہیں۔خطبے میں امام صاحب نے ذکر کیا کہ اگرچہ مسلمان پونگل کی رسومات اور روایات میں شامل نہیں ہوتے، لیکن وہ تہوار میں شرکت کے لیے آنے والوں کا خیرمقدم کرسکتے ہیں۔
🏩Attukal Pongala – A Festival of Faith & Love ❤️
— Deepu Anchal ☭ (@Deepu_Anchal) February 28, 2026
As Attukal Pongala draws near, #Kerala prepares not just with rituals, but with open hearts.
"It is our duty to welcome them. We should open our homes and mosques for them to rest." – #Palayam_Imam ❤️
This simple yet… pic.twitter.com/AIM8rEc5MU
امام سہیل مولوی نے کہا کہ ’’ گزشتہ سال کی طرح، اس بار بھی پونگل رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں آ رہا ہے۔ ہمیں رمضان کے دوران خوشی، بھائی چارے اور محبت کے تجربات اپنی بہنوں اور ان کے بچوں کے ساتھ بانٹنے چاہئیں۔‘‘انہوں نے مسلم معاشرے پر زور دیا کہ وہ مہمانوں کے لیے پانی، رمضان کے لذیذکھانے اور آرام کی سہولیات فراہم کریں۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہماری مساجد اور گھر ان کے لیے کھلے ہونے چاہئیں۔ یہ ہماری محبت اور بھائی چارے کا مظاہرہ کرنے کا موقع ہے۔‘‘مزید برآں امام نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اس بات سے بخوبی آگاہ رہیں کہ صرف محبت اور بھائی چارے سے دنیا اور ہندوستان میں بڑھتی ہوئی اسلامو فوبیا اور نفرت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ مولوی نے کہا کہ یہ ذات پات اور مذہب سے بالاتر ہوکر ہم آہنگی کے پیغام کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔
یہ بھی پرھئے: بہار: پنکچر ساز سرفراز نے اپنی والدہ کی یاد میں پل تعمیر کردیا،۴۰؍ گائوں مستفیض
بعد ازاں امام کا یہ پیغام وائرل ہوگیا ہے، اور کلپس کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے تاکہ مذہبی یکجہتی کے پیغام کو اجاگر کیا جا سکے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ امام کی اپیل ہندی فلم’’ دی کیرلا اسٹوری ۲؍‘‘ کی ریلیز پر ہونے والے تنازع کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مسلمان شہر میں اٹوکل پونگل کے لیے آنے والے عقیدت مندوں کے لیے اپنے دروازے کھول رہے ہیں۔ہر سال، شہر میں مناکاڈ کی تاریخی ولیہ پلی مسلم جماعت مسجد دوپہر کی گرمی میں پونگل پیش کرنے والی خواتین اور بچوں کو راحت فراہم کرنے کے لیے اپنے دروازے کھولتی ہے، جو کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پیغام کو اجاگر کرتی ہے۔ مسجد اپنی وسیع زمینوں پر عقیدت مندوں کو پانی، ٹوائلٹ اور آرام کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے جانی جاتی ہے۔ یہ ہنگامی ردعمل دینے والوں جیسے پولیس، فائر اینڈ ریسکیو خدمات ، اور صحت کے پیشہ ور افراد کو بھی جگہ فراہم کرتی ہے جو پونگل کے دوران تعینات ہوتے ہیں۔