بہار میں ایک پنکچر بنانے والے سرفراز انصاری نے اپنی والدہ کی یاد میں ایک پل کی تعمیر کی، جس سے ۴۰؍ دیہات مستفیض ہورہے ہیں، یہ پل اس دریا پر بنایا گیا ہے، جس نے سرفراز انصاری کی والدہ کی جان لی تھی۔
EPAPER
Updated: February 28, 2026, 10:16 PM IST | Patna
بہار میں ایک پنکچر بنانے والے سرفراز انصاری نے اپنی والدہ کی یاد میں ایک پل کی تعمیر کی، جس سے ۴۰؍ دیہات مستفیض ہورہے ہیں، یہ پل اس دریا پر بنایا گیا ہے، جس نے سرفراز انصاری کی والدہ کی جان لی تھی۔
بہار کے ضلع جموئی کے جھاجھا بلاک کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، ایک شخص سرفراز انصاری جو پنکچر مرمت کرکے اپنا گزارا کرتا ہے، نے اپنی مرحوم والدہ کی یاد میں اپنی بچت اور سماج کے تعاون سے ایک پختہ پل تعمیر کیا ہے۔ اس پل سے آس پاس کے تقریباً۴۰؍ دیہاتوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔دراصل یہ کہانی۲۰۱۹ء کی ہے، جب سرفراز کی والدہ مانسون کے دوران شدید بیمار پڑ گئیں۔ گاؤں میں مرکزی سڑک اور قریبی بازار سے منسلک ہونے کے لیے کوئی مناسب پل نہیں تھا، اور دریا شدید بارشوں کی وجہ سے طغیانی پر تھا۔سرفراز کو اپنی بیمار والدہ کواسپتال پہنچانے کے لیے بپھرے ہوئے دریا کے پار لے جانا پڑا۔سرفراز نے بتایا ’’یہ سفر خطرناک اور تھکا دینے والا تھا۔ جب تک وہ طبی امداد تک پہنچ پائے،ان کی والدہ انتقال کر چکی تھیں۔ان کا ماننا ہے کہ اگر وہاں پل ہوتا اور علاج تک جلد رسائی ہوتی تو شاید ان کی جان بچ سکتی تھی۔اس دن مجھے لگا کہ دریا نے میری ماں مجھ سے چھین لی۔میں سوچتا رہا کہ کوئی اور بیٹا اس طرح تکلیف نہ اٹھائے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آگ کو بجھانے پرمسلمانوں کی پزیرائی،’’محبت کے فرشتے ہر آگ بجھاتے رہیں گے‘‘
والدہ کی موت کے بعد، انہوں نے پل بنانے کا عزم کیا تاکہ خاص طور پر ہنگامی حالات میں کسی کو دوبارہ دریا پار کرنے کے لیے اپنی جان خطرے میں نہ ڈالنی پڑے۔محدود مالی وسائل کے باوجود، انہوں نے پنکچر کی دکان سے اپنی روزانہ کی کمائی سے چھوٹی چھوٹی رقم بچانا شروع کر دی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، ان کی بچت بڑھتی گئی۔جب انہوں نے اپنا منصوبہ گاؤں والوں کو بتایا تو انہوں نے اس خیال کی حمایت کی اور رقم اور رضاکارانہ مزدوری کا تعاون کیا۔ یہ پل مکمل طور پر حکومتی امداد کے بغیر تعمیر کیا گیا۔یہ پل تقریباً۲۵؍ فٹ لمبا،۱۳؍ فٹ چوڑا اور۸؍ فٹ اونچا ہے۔ رہائشیوں کے مطابق، اس سے تقریباً۴۰؍ دیہاتوں کے لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔پہلے، برسات کے موسم میں، رہائشیوں کو قصبے تک پہنچنے کے لیے کئی اضافی کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ بہت سے لوگ دریا پار کرنے کی کوشش میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے تھے۔ بچوں کو اسکول جانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا، کسانوں کو پیداوار منڈیوں تک پہنچانے میں دشواری ہوتی تھی، اور مریضوں کو اکثر اسپتال پہنچنے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔اب پل کی تعمیر کے ساتھ، روزمرہ کی زندگی میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کشمیر میں نائب صدر سی پی رادھا کرشنن کا نان ویج حق کا دفاع، سیاسی بحث تیز
ایک مقامی رہائشی نے کہا، ’’برسوں تک، ہم نے پل کا مطالبہ کیا۔ ہم نے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ یہ ہم میں سے کسی کے ذریعے تعمیر ہوگا ۔ سرفراز نے وہ کر دکھایا جو حکام بھی نہیں کر سکے۔‘‘ایک اور گاؤں والے نے مزید کہا، ’’مانسون کے دوران، ہم دریا سے ڈرتے تھے۔ اب ہم محفوظ محسوس کرتے ہیں۔‘‘ بعد ازاں مقامی نمائندوں اور عہدیداروں نے بھی اس کوشش کی تعریف کی ہے۔ ایک عہدیدار نے اسے ’’ سماج کی پہل اور عزم کی متاثر کن مثال‘‘ قرار دیا۔تاہم، منکسر المزاج سرفراز نے کہا ،’’میں کوئی بڑا آدمی نہیں ہوں،لیکن انسان کا دل بڑا ہونا چاہیے۔ مجھے اب بھی اپنی ماں کو کھونے کا دکھ ہے، لیکن مجھے سکون ملتا ہے کہ اب کسی اور ماں یا بیٹی کو اس کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جس کا سامنا میری ماں کو ہوا۔دنیا کے لیے، یہ محض سیمنٹ اور لوہے کی سلاخوں سے بنا ایک پل ہو سکتا ہے،لیکن میرے لیے، یہ ایک پورا ہوا خواب ہے۔ میں نے تھوڑا تھوڑا کرکے بچایا، اور گاؤں والوں کے تعاون سے، ہم نے یہ پل تعمیر کیا۔ لوگوں کو اس سے فائدہ اٹھاتے دیکھنا میری سب سے بڑی خوشی ہے۔‘‘جموئی کے بہت سے لوگوں کے لیے، یہ محض ایک پل نہیں ہے، بلکہ یہ عزم، عمل میں تبدیل ہونے والے غم، اور ایک فرد کی ہزاروں کی زندگیاں بدلنے کی طاقت کی علامت کے طور پر کھڑا ہے۔