Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر واشنگٹن میں اہم میٹنگ

Updated: April 19, 2026, 10:08 PM IST | New York

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدہ کے سلسلے میں ۲۰؍اپریل سے واشنگٹن میں تین روزہ اہم مذاکرات شروع ہونے جا رہے ہیں۔ اگر بات بن جاتی ہے تو ہندوستان کی برآمدات اور کاروبار کو بڑا فائدہ مل سکتا ہے۔

Modi And Trump.Photo:INN
مودی اور ٹرمپ۔۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ٹریڈ ڈیل کو لے کر ایک بڑا اپڈیٹ سامنے آیا ہے۔ ۲۰؍ اپریل سے واشنگٹن میں تین دن تک اہم بات چیت ہونے والی ہے، جس سے بڑی خوشخبری کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ ہندوستان کی جانب سے تقریباً ایک درجن افسران کی ٹیم امریکہ پہنچ رہی ہے۔ اس ٹیم کی قیادت محکمہ تجارت کے ایڈیشنل سیکریٹری درپن جین کر رہے ہیں۔ بدلتے ہوئے ٹیرف قوانین کے درمیان دونوں ممالک نئی شرائط پر اتفاق رائے بنانے کی کوشش کریں گے۔ اس معاہدے میں اربوں ڈالر کی تجارت داؤ پر لگی ہوئی ہے، اور اب سب کی نظریں اس بڑی میٹنگ کے نتائج پر ہیں۔درحقیقت، امریکہ میں ٹیرف سے متعلق بدلتے قوانین نے پرانے تجارتی توازن کو متاثر کیا ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے بھاری ٹیرف کو امریکی سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد امریکی انتظامیہ نے۲۴؍ فروری سے تمام ممالک پر ۱۵۰؍ دن کے لیے ۱۰؍ فیصد کا یکساں ٹیرف نافذ کر دیا ہے۔ اس نئے اصول کی وجہ سے بھارت اور امریکہ کو اپنے پرانے معاہدے کے مسودے کو دوبارہ تیار کرنا پڑ رہا ہے۔
ہندوستان پر کیا اثر ہوگا؟
پرانے فریم ورک کے تحت امریکہ ہندوستان اشیاء پر ٹیرف ۵۰؍ فیصد سے کم کر کے۱۸؍ فیصد کرنے پر متفق ہوا تھا۔ لیکن اب ۱۰؍ فیصد کے نئے اصول کے بعد ہندوستان کو وہ ’’خاص فائدہ‘‘ ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے جو اسے دوسرے ممالک کے مقابلے میں ملنے والا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب حکام اس معاہدے کو دوبارہ ترتیب دینے (ری کیلِبریٹ) پر بات کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے:’’وہیل آف فارچیون انڈیا‘‘ کا نیا سیزن،اکشے کمار میزبان کی حیثیت سے آئیں گے


امریکہ کا تاج
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء میں چین نے امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر ایک بار پھر ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ گزشتہ چار برسوں (۲۲۔۲۰۲۱ءسے ۲۵۔۲۰۲۴ء) تک امریکہ اس فہرست میں سرفہرست تھا۔ ہندوستان اور چین کے درمیان کل تجارت ۱ء۱۵۱؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ مالی سال میں امریکہ کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی سرپلس بھی کم ہو کر۴ء۳۴؍ ارب ڈالر رہ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:میدانِ جنگ تیار، حریف بے قرار! ممبئی انڈینز کی دھاک یا گجرات کا ناقابلِ تسخیر دفاع؟


۵۰۰؍ ارب ڈالر کے توانائی مصنوعات، طیارے اور ٹیکنالوجی خریدنے کا اشارہ
اس میٹنگ میں ہندوستان ان الزامات کو بھی مضبوطی سے مسترد کرے گا جو امریکہ نے اپنی ’سیکشن۳۰۱‘ تحقیقات کے تحت ہندوستان پر لگائے ہیں۔ ہندوستان پہلے ہی امریکہ سے ۵۰۰؍ ارب ڈالر کے توانائی مصنوعات، طیارے اور ٹیکنالوجی خریدنے کا اشارہ دے چکا ہے اور اس کے بدلے میں وہ اپنی زرعی اور صنعتی مصنوعات کے لیے بہتر مارکیٹ تک رسائی چاہتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK