ان جیلوں کےقیدیوں کو محکمہ جیل خانہ کی طرف سے چلائی جانے والی جیلوں میں منتقل کیا جائے گا۔ اس طرح صدیوں پرانے اس نظام کا خاتمہ ہوجائے گا۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 10:46 AM IST | Pune
ان جیلوں کےقیدیوں کو محکمہ جیل خانہ کی طرف سے چلائی جانے والی جیلوں میں منتقل کیا جائے گا۔ اس طرح صدیوں پرانے اس نظام کا خاتمہ ہوجائے گا۔
ریاستی حکومت نے محکمہ محصولات کے تحت جاری تمام۱۱۶؍ذیلی جیلوں کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے نوآبادیاتی دور کے نظام کا خاتمہ ہوجائے گا ۔ انہیں انسانی حقوق کے گروپوں نے ناقص صفائی، ناکافی سہولیات اور نگرانی کی کمی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔۱۲؍جون کو جاری کردہ جی آرمیں باقی آپریشنل ذیلی جیلوں کو بند کرنے اور ریاست کے محکمہ جیل کے زیر انتظام جیلوں میں قیدیوں کی منتقلی کا حکم دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ کمیٹی کی سفارشات کے بعد کیا گیا ہے جس نے جیلوں میں سہولیات کی حالت اور مستقبل کا جائزہ لیا تھا۔ ریاست کے ۱۱۶؍سب جیلوں میں سے صرف۳۶؍جاری ہیں جبکہ باقی ۸۰؍ خستہ حال ہونے کی وجہ سے بندکی جاچکی ہیں۔
محکمہ محصولات اور جنگلات کی طرف سے جاری کردہ جی آر میں کہا گیا ہے کہ محصول اور داخلہ محکموں کے سینئر حکام نے جنوری میں میٹنگ کی تھی اور کمیٹی نے ان جیلوں کو بند کرنے کی سفارش کی تھی اور جہاں ضروری ہو، محکمہ جیل کو ضلعی جیلوں میں سہولیات کو اپ گریڈ کرنے کیلئے زمین اور انفراسٹرکچر حاصل کرنے کی اجازت دی تھی۔ حکومت نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ذیلی جیلوں کو باضابطہ طور پر بند کر دیں اور علاحدہ جیل مینوئل کو منسوخ کر دیں جس کے تحت وہ کام کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’پربھنی میں کبھی کوئی غدار کامیاب نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہوسکے گا‘‘
ملک کی جیلوں کے اعدادوشمار کے ریکارڈ کے مطابق مہاراشٹر میں۲۰۰۰ءکی دہائی کے اوائل میں ملک میں سب سے زیادہ ذیلی جیلیں تھیں جن میں۱۷۲؍ ایسی سہولیات تھیں۔ برسوں کے دوران بہت سی جیلیں آہستہ آہستہ بند ہوگئیں۔
ذیلی جیلیں ایک علاحدہ سب جیل مینوئل کے تحت چلتی تھی جو پہلی بار۱۹۲۸ء میں تیار کئے گئے تھے اور ۱۹۵۲ء میں اس میں ترمیم کی گئی تھی۔ برطانوی دور کی یہ جیلیں محلوں یا تعلقہ میں واقع تھیں اور ان کا مقصد ۱۴؍دن تک قید کی سزا پانے والے قیدیوں کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ یا سینٹرل جیلوں میں منتقل ہونے والے قیدیوں کو رکھنا تھا۔
باقاعدہ جیلوں کے برعکس یہ سہولیات محکمہ محصولات کے زیر انتظام تھیں۔ کلرک جیلر کے طور پر کام کرتے تھے جبکہ تحصیلدار سپرنٹنڈنٹ کے طور پر کام کرتے تھے اور جیل کے انسپکٹر جنرل کو رپورٹ کرتے تھے۔ مہاراشٹر اور کرناٹک ان چند ریاستوں میں شامل رہیں جہاں ایسی ذیلی جیلیں جیل انتظامیہ کے بجائے محکمہ محصولات کے تحت کام کرتی رہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ یہ جیلیں تیزی سے قیدیوں کو عارضی طور پر رکھنے کیلئے استعمال ہونے لگیں کیونکہ ضلعی یا مرکزی جیلیں بہت دور واقع تھیں اور پولیس قیدیوں کو عدالتی تحویل میں بھیجنے کے بعد فوری طور پر منتقل کرنے سے قاصر تھی۔۲۰۱۰ء میں کامن ویلتھ ہیومن رائٹس انیشیٹو (سی ایچ آر آئی) نے مہاراشٹر کی متروک جیلوں کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی جس میں سہولیات کو’بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی‘ کے طور پر بیان کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریوینیو ڈپارٹمنٹ کی خستہ حال عمارتوں سے باہر کئی ذیلی جیلیں بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’’محکمہ جیل ان جیلوں کی دیکھ ریکھ کیلئے فنڈز فراہم نہیں کرتا اور ایسا نہیں لگتا کہ محکمہ محصول اس کو ترجیح دیتا ہے۔‘‘ اس میں ایسی مثالیں بھی پائی گئیں جہاں قیدیوں کو بستر کیلئے صرف پھٹی ہوئی چٹائیاں فراہم کی گئیں، انہیں بجلی اور کپڑوں تک رسائی نہیں تھی اور انہیں ایسے کمروں میں رکھا گیا جہاں بیت الخلاء رہنے کی جگہ کا حصہ تھے۔ اس کی وجہ سے بامبے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی گئی جس نے بعد میں حکام کو ان جیلوں کے حالات بہتر کرنے کی ہدایت دی۔
یہ بھی پڑھئے: بی جے پی نے رام مندر کو ’’ دکان‘‘ بنا دیا ہے: ادھو ٹھاکرے
’انڈین ایکسپریس‘ کی خبر کے مطابق ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز(ٹِس) کے ایک فیلڈ ایکشن پروجیکٹ ’پریاس‘ اور قیدیوں سے متعلق ریاست کی ایک ڈپارٹمنٹل کمیٹی کے ایک رکن نے بھی اس مسئلے کی پیروی کی تھی اور ان جیلوںکو بند کرنے کی سفارش کی حمایت کی تھی۔
’پریاس‘ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر وجے راگھون نے اس بارے میں کہا کہ ’’اس کے ساتھ ہی تمام زیر سماعت قیدیوں کو جیل محکمے کے زیر انتظام جیلوں میں رکھا جائے گا جو مہاراشٹر جیل مینوئل کے تحت قیدیوں کو دستیاب ہیں۔ اس طرح ذیلی جیلوں کا قدیم نظام ختم ہوجائے گا جو تحصیلداروں کے کنٹرول میں تھا جہاں ایک یا دو کمروں میں قیدیوں کو رکھا جاتا تھا جہاں صاف صفائی کا ناقص انتظام تھا، ہوا کا گزربسر نہیں تھا اور نگرانی کی کمی تھی۔‘‘