Inquilab Logo Happiest Places to Work

مولانا سلمان ندوی کے انتقال پر مشہور سماجی، سیاسی و مذہبی شخصیات کا اظہار تعزیت

Updated: June 29, 2026, 7:06 PM IST | New Delhi

برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، مفکر، خطیب اور مصنف مولانا سید سلمان حسنی ندوی کے انتقال پر ملک کی دینی، سماجی اور سیاسی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملتِ اسلامیہ کا ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ مختلف تنظیموں ، علماء کرام اور لیڈروں نے ان کی علمی، دینی اور ملی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مرحوم کیلئے مغفرت اور اہلِ خانہ کیلئے صبرِ جمیل کی دعا کی ہے۔

Maulana Salman Hussaini Nadwi. Photo: INN
مولانا سید سلمان حسنی ندوی۔ تصویر: آئی این این

آئی ایم سی آر کا سید سلمان حسنی ندوی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار
انڈین مسلم فار سول رائٹس (آئی ایم سی آر) نے برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، بے باک خطیب، دانشور، مصنف اور ملت اسلامیہ ہند کی مؤثر آواز حضرت مولانا سید سلمان حسنی ندوی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملت اسلامیہ ہند اور عالم اسلام کیلئے ایک عظیم اور ناقابلِ تلافی سانحہ قرار دیا ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ تعزیتی بیان میں کہا گیا کہ مولانا سلمان حسنی ندوی علم و فضل، دعوت و اصلاح، فکری بیداری، ملی شعور اور امت کے اتحاد کی ایک درخشاں علامت تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کی سربلندی، دینی تعلیم کے فروغ، ملت کی رہنمائی، نوجوان نسل کی فکری تربیت اور امت کے اجتماعی مسائل کے حل کیلئے وقف کر دی تھی۔ ان کی رحلت سے ایسا علمی و فکری خلا پیدا ہوگیا ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار

آئی ایم سی آر کے چیئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ’’مولانا سلمان حسنی ندوی کی رحلت نے مجھے ذاتی طور پر بھی انتہائی صدمہ پہنچایا ہے۔ وہ مجھ سے تقریباً دس برس چھوٹے تھے۔ جب وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء میں زیر تعلیم تھے اور میں ندوہ جایا کرتا تھا، ان کے خاندان سے میرا ذاتی تعلق تھا۔ ان کی غیر معمولی ذہانت، مطالعے کی وسعت، شائستہ گفتگو اور غیر معمولی صلاحیتوں کو دیکھ کر اسی وقت یقین ہو گیا تھا کہ یہ نوجوان مستقبل میں ملت کا روشن چراغ ثابت ہوگا اور وقت نے یہی ثابت کیا۔ وہ ایک بے مثال مقرر، نڈر داعی، بلند پایہ عالم اور گہری بصیرت رکھنے والے مفکر تھے جنہوں نے اپنی علمی و فکری خدمات سے دنیا بھر میں ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ ‘‘
محمد ادیب نے کہا کہ مولانا سید سلمان حسنی ندوی نے نہ صرف دینی علوم کی تدریس اور اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ ملت اسلامیہ کو درپیش عصری، سماجی اور فکری چیلنجز پر ہمیشہ واضح، جرات مندانہ اور مدلل موقف اختیار کیا۔ وہ امت کے اتحاد، باہمی اخوت، بین الاقوامی اسلامی تعاون اور نوجوانوں کی دینی و اخلاقی تربیت کے زبردست داعی تھے۔ ان کی تقاریر، تصنیفات اور علمی مجالس نے لاکھوں افراد کی فکری رہنمائی کی اور انہیں دین سے وابستگی کا شعور عطا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا کی پوری زندگی اخلاص، علم، دعوت، اصلاح، جرأتِ اظہار اور امت کی خیرخواہی سے عبارت تھی۔ وہ برصغیر کی اس علمی روایت کے امین تھے جس نے ہمیشہ اعتدال، حکمت، بصیرت اور وحدتِ امت کا پیغام دیا۔ ان کی خدمات ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھی جائیں گی اور آنے والی نسلیں ان کے علمی و فکری سرمایہ سے رہنمائی حاصل کرتی رہیں گی۔

یہ بھی پڑھئے: خامنہ ای کی تدفین؛ ہندوستان کی نمائندگی جنرل سید عطا، پبیترا مارگریٹا کریںگے

مولانا سلمان ندوی کا انتقال، ملت ایک روشن ستارہ سے محروم: مولانا عرفی قاسمی
معروف عالم دین مولانا سید سلمان حسنی ندوی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علمائے حق کے قومی صدر اور مشہور عالم دین مولانا اعجاز عرفی قاسمی نے کہاکہ مولانا سلمان حسنی ندوی کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ ہے اور ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہواہے اسے پر کرنا بہت مشکل ہے۔ مولانا عرفی قاسمی نے جاری اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مولانا سلمان ندوی دارالعلوم ندوۃ العلماء میں تدریس کے دوران ہزاروں شاگردوں میں اسلامی روح پھونکنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے طلباء میں نئے طرز سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی۔ انہوں نے نئے طرز مدرسہ قائم کرکے طلباء کو عصری اور دینی علوم سے بہرہ ور کیا۔ اپنے مدرسے میں طلباء کو جدید علوم کے ساتھ فٹنس اور عربی زبان میں مہارت حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ندوی اپنی رائے کا نہایت بے باکی سے اظہار کرتے تھے۔ ہر موضوع پر اپنی رائے پیش کرتے تھے اور ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا اور وہ عالم اسلام کے حالات و اقعات کما حقہ ادراک رکھتے تھے۔ ملت اسلامیہ کے پیش آنے والے مسائل پرمدلل انداز میں بات کرتے تھے۔ ساتھ ہی وہ باہمی اخوت کے طرفدار تھے۔ مولانا عرفی نے مولانا سلمان ندوی کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ وہ نہ صرف ان کے پروگرام میں شریک ہوتے تھے بلکہ ان کے رسالہ حسن تدبیر کے لئے مضامین کے ساتھ پیغام بھی پابندی سے ارسال کرتے تھے۔ انہوں نے حسن تدبیرکے خصوصی شمارہ جو مشہور عالمی شخضیات کے حوالے سے معنون ہوا کرتے تھے۔ اس رسالہ کے کارناموں کو سراہتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ان کے انتقال ملت بے باک قائد اور خانوادہ علی میان کے ایک روشن ستارہ سے محروم ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: واردات کی پوری کہانی سمجھنے کیلئے ملزمہ سیا گوئل کوپولیس جائے وقوع پر لے گئی

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا( ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی کا اظہار تعزیت
ہم ہندوستان کے ممتاز اسلامی عالم، مولانا سلمان حسینی ندویؒ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ ایک ممتاز استاد، کثیر التصانیف مصنف اور طلبہ کی کئی نسلوں کے مربی تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی علمِ دین اور امتِ مسلمہ کی خدمت کیلئے وقف کر دی۔ اسلامی علوم اور دینی تعلیم کے میدان میں ان کی گراں قدر خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور آنے والی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ ثابت ہوں گی۔ ہم ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور دنیا بھر میں موجود ان کے عقیدت مندوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، اور ان کے اہلِ خانہ و متعلقین کو صبرِ جمیل اور حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین۔

یہ بھی پڑھئے: نوآبادیاتی دور کے جیل نظام کا خاتمہ، ریاستی حکومت نے تمام ۱۱۶؍ ذیلی جیلوں کو بند کیا

میرواعظِ کشمیر کا مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار
میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے ممتاز اسلامی عالم، مبلغ، مصنف اور نامور خطیب مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے اچانک انتقال پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مولانا ندوی کی علمی، فکری، ادبی اور دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ اگرچہ ان کے بعض نظریات اور آزادانہ آراء پر کئی جید علماء نے اختلاف کیا، تاہم، وہ ان کی ذاتی آراء تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مولانا سلمان حسینی ندوی کا علمی مقام ہرگز کم نہیں ہوتا، کیونکہ وہ برصغیر کے ایک نہایت ممتاز علمی و دینی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ میرواعظ نے کہا کہ مولانا سلمان حسینی ندوی حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ (علی میاں ؒ) کے عظیم علمی و دینی سلسلے سے وابستہ تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علمی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ان کا انتقال عالمِ اسلام کیلئے ایک بڑا نقصان اور انتہائی افسوس ناک سانحہ ہے۔ میرواعظ نے مولانا سلمان حسینی ندوی کے ساتھ اپنی ذاتی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں متعدد مواقع پر لکھنؤ کے ندوۃ العلماء، رائے بریلی اور نئی دہلی میں ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، جہاں دینی، علمی اور فکری موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال بھی ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’پربھنی میں کبھی کوئی غدار کامیاب نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہوسکے گا‘‘

مفتی سلمان ندوی نے زمانۂ طالب علمی کے دوران میری فکری اور علمی تربیت میں اہم کردار ادا کیا: مفتی شمائل ندوی
آج میرے محترم استاد، مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے انتقال کی خبر نے مجھے گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔ وہ ان عظیم شخصیات میں سے تھے جنہوں نے ندوۃ العلماء میں میرے زمانۂ طالب علمی کے دوران میری فکری اور علمی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ مجھے ان سے جو علم، رہنمائی اور فیض حاصل ہوا، اس پر میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار رہوں گا۔ جاوید اختر کے ساتھ میرے مناظرے کے بعد انہوں نے مجھے جو آخری نصیحت کی تھی، وہ آج بھی میرے دل و دماغ میں تازہ ہے۔ انہوں نے فرمایا:’’میرے عزیز شمائل ندوی! اپنے آپ کو قرآنِ کریم میں ڈبو دو، رسول اللہ ﷺ کی احادیث کا مسلسل مطالعہ کرتے رہو، اور سیرتِ نبوی ﷺ میں گہرائی سے غور و فکر کرو۔ پھر اللہ تعالیٰ تمہیں ایسی صلاحیت عطا فرمائے گا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: آر راج گوپال معاملہ: ایڈیٹرز گلڈ کا اظہار تشویش، اپوزیشن کی مرکز پر شدید تنقید

ہر عالم کی طرح ان کی آراء کو بھی قرآنِ کریم، سنتِ نبوی ﷺ اور اہلِ سنت کے فہم کی روشنی میں پرکھا جانا چا ہئے۔ ہمارا اصول یہی ہے کہ حق کسی بھی شخصیت سے بالاتر ہے۔ جو بات قرآن و سنت کے مطابق ہو، ہم اسے قبول کرتے ہیں، اور جو اس کے خلاف ہو، اسے ترک کر دیتے ہیں۔ تاہم، اس سے یہ بات ہرگز نہیں رکتی کہ ہم اپنے اساتذہ سے حاصل ہونے والے علمی و تربیتی احسانات کا اعتراف کریں اور ان کیلئے دعا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کی مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے، اور ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK