• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قبائلی اسکول ٹھیک کرو مہم کے تحت ابھیجیت دِپکے تاڈگاؤں اسکول پہنچے

Updated: September 19, 2026, 1:34 PM IST | Ali Imran | Gadchiroli

سی جے پی سربراہ کو گاؤں والوں نےبتایا کہ ’’ضلع پریشد اسکول کے ٹیچر ہمیشہ نشے میں دھت رہتے ہیں‘‘

Abhijit Dipke inspecting the interior of the school. Photo: INN
ابھیجیت دِپکے اسکول کے اندرونی حصے کاجائزہ لیتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی ’’قبائلی اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کا سلسلہ جاری ہے اور ہر دن چونکانے والے انکشافات منظر عام پر آرہے ہیں۔ مہم کے دوسرے دن ابھیجیت دپکے نے ضلع کے بھامرا گڑھ تعلقہ کے تاڈگاؤں کے ضلع پریشد کیندر اسکول کا اچانک دورہ کیا۔ گاؤں والوں کو اس بات کی خبر لگتے ہی سینکڑوں افراد وہاں جمع ہوگئے اور بتایا کہ اس ضلع پریشد اسکول کے اساتذہ روزانہ نشے میں دھت اسکول آتے ہیں۔ اسکول کی عمارتیں خطرناک حد تک خستہ حال ہیں، بیت الخلاء بھی انتہائی مخدوش حالت میں ہیں اور پینے کے پانی کی سہولت بھی میسر نہیں ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: لاڈلی بہن اسکیم میں۵؍ ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا: سپریہ سُلے

ابھیجیت دِپکے نے میڈیا کو بتایا کہ، اسکول کے اساتذہ کی مبینہ بداطواری اور اسکول کے مسائل جان کر میں حیران ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ تاڈگاؤں کے اسکول میں پہلی سے ساتویں تک کی کلاسیز ہیں اور اس میں صرف ۲۰؍طلبہ اور ۳؍ اساتذہ ہیں۔ تاہم طلباء کو تعلیم کے لیے درکار بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ اسکول میں پینے کے پانی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ بجلی اور پنکھے نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کو پریشانی کا سامنا ہے۔ بیت الخلاء کی حالت بھی انتہائی خستہ ہے اور حیران کن بات یہ کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے بیت الخلاء کے دروازے نہیں تھے۔ اس دوران ایک استاد کے نشے میں دھت اسکول آنے کی اطلاع ملی۔ گاؤں والوں نے بتایا کہ اسکول میں تین ٹیچر ہیں جو ہمیشہ نشے دھت رہتے ہیں جس سے بچوں کی تعلیم متاثرہورہی ہے اور بچوں پر اس کے غلط اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اس دوران کھانا تیار کرنے والے عملے کو صرف ۵۰؍ روپے یومیہ ادا کئے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ اتنی معمولی تنخواہ پر جو لوگ کام کررہے ہیں ان کے خاندان کی کفالت کیسے ہوگی یہ سوال کرتے ہوئے دپکے نے انتظامیہ سے ان کی تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ اسکول میں کھانا پکانے کیلئے گیس سلنڈر فراہم کیے جائیں۔ وہی سہولتیں جو ممبئی اور پونے کے طلبہ کو ملتی ہیں قبائلی طلبہ کو بھی فراہم کی جانی چاہئے۔ دِپکے نے کہا کہ اس دورے کے دوران جو خامیاں اور مسائل ہمیں نظر آرہے ہیں ہم حکومت کی توجہ اس طرف دلانے کی پوری کوشش کریں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK