Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم ۸۹؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے

Updated: August 28, 2026, 12:47 PM IST | Oslo

ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم ۸۹؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے، شاہی محل کے مطابق وہ اوسلو کے نیشنل اسپتال میں خون کی بیماری ہیمولائٹک اینیمیا کے علاج کے دوران انتقال کر گئے، تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ناروے کے تخت پر فائز رہنے والے ہیرالڈ پنجم یورپ کے معمر ترین حکمران تھے اور ان کی وفات کے بعد ولی عہد ہاکون نے ناروے کے نئے بادشاہ کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

King Harald V of Norway. Photo: INN
ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم۔ تصویر: آئی این این

ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم ۸۹؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ شاہی محل کے مطابق بادشاہ نے جمعہ ۲۸؍ اگست کو اوسلو کے نیشنل اسپتال میں مقامی وقت کے مطابق صبح ۶؍ بج کر ۳۵؍ منٹ پر پُرسکون طور پر آخری سانس لی۔ وہ خون کی ایک بیماری ہیمولائٹک اینیمیا کے علاج کے لیے اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ ہیرالڈ پنجم یورپ کے معمر ترین حکمران اور ناروے کے تخت پر تین دہائیوں سے زائد عرصے تک فائز رہنے والے بادشاہ تھے۔ بادشاہ ہیرالڈ کی صحت گزشتہ کئی برس سے مسائل کا شکار رہی۔ رواں ماہ ۱۷؍ اگست کو انہیں اوسلو کے نیشنل اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جہاں وہ ہیمولائٹک اینیمیا کا علاج کرا رہے تھے۔ یہ ایسی کیفیت ہے جس میں جسم کے سرخ خون کے خلیے معمول سے زیادہ تیزی سے ٹوٹنے لگتے ہیں۔ علاج کے دوران ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی اور انہیں خون میں بیکٹیریا کے انفیکشن کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ۲۷؍ اگست کو شاہی محل نے ان کی حالت کو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتوں کی تعداد ۴۶۹؍ ہوگئی، ریسکیو ابھی تک جاری

ہیرالڈ پنجم نے ۱۹۹۱ء میں اپنے والد بادشاہ اولاف پنجم کے انتقال کے بعد ناروے کا تخت سنبھالا تھا۔ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ان کے دورِ حکومت میں ناروے کی بادشاہت نے جدید دور کے سماجی رجحانات کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ وہ ایک نسبتاً سادہ مزاج اور عوام سے قریب رہنے والے بادشاہ کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کی تقاریر میں قومی اتحاد، برداشت اور معاشرے کے مختلف طبقات کی شمولیت پر زور نمایاں رہا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران ہیرالڈ نے اپنے بچپن کا ایک حصہ امریکہ میں جلاوطنی میں گزارا۔ وہ ایک ماہر ملاح بھی تھے اور اولمپک مقابلوں میں ناروے کی نمائندگی کر چکے تھے۔ ۱۹۶۸ء میں انہوں نے سونیا ہارالڈسن سے شادی کی، جو شاہی خاندان سے تعلق نہیں رکھتی تھیں۔ اس شادی نے ناروے کے شاہی خاندان کو عوام سے مزید قریب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بادشاہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے ولی عہد ہاکون نے ناروے کے نئے بادشاہ کی حیثیت سے تخت سنبھال لیا ہے۔ ہیرالڈ کی وفات کے ساتھ ناروے کی بادشاہت کا ایک اہم دور اختتام پذیر ہوگیا ہے، جبکہ نئے بادشاہ ہاکون کو اب شاہی خاندان کی قیادت اور آئینی فرائض سنبھالنے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے: نسل کشی کا مجرم ’بوسنیا کا قصاب‘ راتکوملادیچ کا ۸۴؍ برس کی عمر میں انتقال کر گیا

ہیرالڈ پنجم کی وفات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ناروے کا شاہی خاندان پہلے ہی متعدد ذاتی اور صحت سے متعلق مسائل کی وجہ سے عوامی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ تاہم تین دہائیوں سے زائد عرصے تک تخت پر رہنے والے ہیرالڈ کو مجموعی طور پر ناروے میں ایک مقبول اور عوام سے جڑے ہوئے بادشاہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK