• Tue, 17 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کوٹائم، کیرالا: مسجد میں ہندو خاتون کی آخری رسومات، ہم آہنگی کی مثال

Updated: February 16, 2026, 9:19 PM IST | Thiruvananthapuram

کیرالا کے ضلع کوٹائم میں واقع مکہ مسجد نے ایک ہندو خاتون کی میت رکھنے اور آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے اپنا مدرسہ ہال پیش کر کے مذہبی ہم آہنگی کی مثال قائم کی۔ سڑک کی عدم دستیابی کے باعث خاندان کو مشکلات کا سامنا تھا، جس پر مسجد کمیٹی نے آگے بڑھ کر مدد فراہم کی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

کیرالا کے ضلع کوٹائم میں جمعہ کو ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے مذہبی ہم آہنگی کی روشن مثال قائم کر دی۔ عام طور پر قرآنِ پاک کی تلاوت سے گونجنے والا مدرسہ ہال اس روز ہندومت کے منتروں کی آواز سے گونج اٹھا۔ اس کے بیچوں بیچ ۶۲؍ سالہ اومانا راجندرن کی میت رکھی گئی تھی، جبکہ ایک رسمی چراغ فرش پر روشن تھا۔ یہ لمحہ ایک ایسے معاشرے میں بین المذاہب یکجہتی کا پُراثر اظہار تھا جہاں اکثر تقسیم کی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ کوٹائم کے قریب کمارالور میں واقع مکہ مسجد نے اومانا راجندرن کے اہلِ خانہ کو اپنا مدرسہ ہال فراہم کیا تاکہ وہ مرحومہ کی آخری رسومات اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق ادا کر سکیں۔ اومانا کا انتقال جمعرات کی شام تقریباً سات بجے ہوا تھا۔ وہ دو ہفتوں تک اسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دنیا سے رخصت ہوئیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان چیٹ جی پی ٹی کی دوسری بڑی منڈی، ۱۰۰؍ ملین ہفتہ وار صارفین

مرحومہ کا خاندان مسجد کے قریب ایک کرائے کے مکان میں رہتا تھا، مگر ان کے گھر تک سڑک کی رسائی نہ ہونے کے باعث میت کو گھر منتقل کرنا ممکن نہیں تھا۔ تنگ راستہ نہ تو اسٹریچر کے لیے موزوں تھا اور نہ ہی موبائل فریزر یونٹ وہاں پہنچ سکتا تھا۔ ایسے میں خاندان شدید پریشانی کا شکار تھا اور آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے متبادل جگہ تلاش کر رہا تھا۔ اسی دوران مسجد کمیٹی کے عہدیداروں نے آگے بڑھ کر مدد کی پیشکش کی۔ مسجد کمیٹی کے صدر محمد فیصل نے معاملہ کمیٹی کے وہاٹس ایپ گروپ میں پیش کیا، جہاں تمام اراکین نے دل کھول کر اتفاق کیا۔ جمعرات کی رات دس بجے تک اومانا کی میت کو مدرسہ ہال میں عوامی تعزیت کے لیے رکھا گیا۔ جمعہ کی دوپہر تک اہلِ علاقہ نے وہاں حاضری دی، جس کے بعد میت کو میتمبلم، کوٹائم کے عوامی شمشان گھاٹ لے جایا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: آئین ’ہم لوگ‘ سے شروع ہوتا ہے نہ کہ ’بھارت ماتا کی جئے‘ جیسے نعروں سے: اویسی

مسجد انتظامیہ نے نہ صرف جگہ فراہم کی بلکہ تمام ضروری سہولیات کا بندوبست بھی کیا۔ ہال کو رسموں کے مطابق ترتیب دینے کے لیے کمیٹی کے ارکان اور مرحومہ کے اہلِ خانہ نے مل کر کرسیاں اور میزیں ہٹا دیں تاکہ ہندو رسومات کے لیے مناسب جگہ بنائی جا سکے۔ محمد فیصل کے مطابق، لوگوں کے درمیان تعاون مذہب، عقیدے یا وابستگی سے بالاتر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے، جیسا کہ ہمارے مقدس نصوص ہمیں سکھاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ جمعہ کو مدرسہ میں کلاسیز نہیں تھیں، اس لیے جگہ فراہم کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ اگر رسومات ہفتے تک جاری رہتیں تو کلاسیز معطل کر دی جاتیں۔ مسجد کمیٹی نے خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ جب تک وہ اپنی رسومات مکمل نہیں کر لیتے، ہال ان کے اختیار میں رہے گا۔ خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب اس کمیونٹی نے مذہبی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا ہو۔ مسجد کے اہلکار ہر سال کمارالور مندر کے تہوار کے دوران ہندو عقیدت مندوں کو پینے کا پانی بھی فراہم کرتے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق، ایسے اقدامات نہ صرف باہمی اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے بھی ایک مثبت پیغام چھوڑتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ۷؍ سال سے ڈپٹی اسپیکر نہیں، کانگریس کا اظہار تشویش

کوٹائم کا یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مشکل حالات میں انسانیت اور باہمی احترام سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں۔ ایک مسجد میں ہندو خاتون کی آخری رسومات کا انعقاد اس امر کا ثبوت ہے کہ مذہبی ہم آہنگی صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ عملی اقدام کے ذریعے اسے زندہ رکھا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK