عراقی کردستان کے صدر نیچروان بارزانی کی دمشق میںشامی صدر الشرع سے ملاقات ،مشترکہ مفادات کے تحفظ پرزور۔
EPAPER
Updated: August 04, 2026, 10:27 AM IST | Damascus
عراقی کردستان کے صدر نیچروان بارزانی کی دمشق میںشامی صدر الشرع سے ملاقات ،مشترکہ مفادات کے تحفظ پرزور۔
عراقی کردستان کے صدر نیچروان ادریس بارزانی کے مطابق انہوں نے بروزپیر دمشق میں شام کے صدر احمد الشرع کے ساتھ ملاقات کے دوران ایک متحد اور مستحکم شام کیلئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔بارزانی نے ایکس پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ میں ایک پوسٹ میں لکھا ’’مصائب کے طویل برسوں کے بعد، شام آج بحالی ، تعمیر نو اور خوش حالی کے ایک تاریخی موڑ پرکھڑا ہے۔‘‘ انہوں نے صدر الشرع کے وژن پر اپنے اعتماد اور اس یقین کا اظہار کیا کہ شام ان کی قیادت میں مزید استحکام، خوش حالی اور اپنے تمام عوام کیلئے ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بارزانی نے کہا’’میں نے ایک مستحکم اور متحدہ شام کے لیے اپنی حمایت کی توثیق کی جس میں تمام قومی اور مذہبی طبقات کے حقوق محفوظ ہوں۔‘‘
عراقی کردستان کے صدر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے الشرع کے ساتھ خطے میں امن، سیکوریٹی اور استحکام کو فروغ دینے میں شام کے کردار کی اہمیت‘ پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پڑوس کی وجہ سے، شام، عراق اورکردستان کو متعدد مشترکہ مفادات جوڑتے ہیں، ساتھ ہی اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے بڑے مواقع بھی موجود ہیں جن سے ہمارے تمام عوام کا مشترکہ فائدہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: بورڈ آف پیس کے ایلچی کا نیتن یاہو حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ
الشرع نے پیر کودمشق کے قصر الشعب میں بارزانی کا استقبال کیا۔ شامی ایوان صدارت نے ایک بیان میں بتایا کہ شامی صدر نے عراقی کردستان کے صدر کے ساتھ ’مختلف شعبوں بالخصوص اقتصادی شعبے میں تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے طريقوں ‘ کے علاوہ خطے کی صورت حال اور مشترکہ دل چسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
عراقی کردستان کا دارالحکومت اربیل۲۰۲۶ء کے آغاز میں شامی حکومتی افواج اور سیرین ڈیموکریٹک فورسیز(ایس ڈی ایف) کے درمیان جھڑپوں کے دوران سیاسی رابطوں کا مرکز بنا تھا۔ یہاں ایس ڈی ایف کے قائد مظلوم عبدی نے اس وقت امریکی سرپرستی میں بارزانی سے ملاقاتیں کی تھیں۔ جنوری کے آخر میں دمشق اور کرد افواج کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس میں کرد خود مختار انتظامیہ کے اداروں اور اس کی افواج کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔بارزانی نے دمشق اور کرد افواج کے درمیان معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ’ایک اہم اور درست سمت میں قدم ‘ قرار دیا تھا۔ معاہدے پر دستخط کے بعد کچھ اقدامات کیے گئے، جن میں شامی سیکوریٹی فورسز کا الحسکہ اور القامشلی شہروں میں داخلہ، پھر ریاست کا القامشلی ہوائی اڈے اور شمال مشرق میں اہم ترین تیل کے کنوؤں کا کنٹرول سنبھالنا شامل تھا۔
یہ بھی پڑھئے: چین کے حیرت انگیز حد تک انسان جیسے روبوٹ نے انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی
’’اسد اقتدار کا خاتمہ نہ صرف شام بلکہ پورے خطےکیلئے ضروری تھا ‘‘
شام کے صدر احمد الشرع نے کاکہنا ہےکہ بشار الاسد کے اقتدار کا خاتمہ نہ صرف شام بلکہ پورے خطے کے لیے ناگزیر تھا۔قطر کے نیوز چینل الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر شرع نے شام کو ’خطے کا مرکزی محور ‘قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے یہ یقین رکھتے تھے کہ اسد حکومت شامی عوام کے خلاف کیے جانے والے جرائم کی وجہ سے ایک دن ضرور گر جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پرانے اقتدار کا خاتمہ صرف شام کے لیے ہی نہیں، بلکہ پورے خطے کی سالمیت کے لیے ضروری تھا۔احمد الشرع نے کہا کہ مخالفین نے صرف فوجی کارروائیوں پر ہی توجہ نہیں دی، بلکہ وہ اسد حکومت کے خاتمے کے بعد ملک کو چلانے اور اسے دوبارہ تعمیر کرنے کی تیاری بھی کر رہے تھے۔