Updated: October 03, 2026, 5:02 PM IST
| Ladakh
ہندوستان نے پہلی مرتبہ چین کی سرحد سے متصل لداخ کے ۲۸؍ مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کو ان کے معیاری ناموں کے ساتھ سرکاری نقشے میں شامل کیا ہے۔ ان میں گوگرا اور ہاٹ اسپرنگس بھی شامل ہیں، جہاں مئی ۲۰۲۰ء میں چینی فوج کی پیش قدمی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔
ہندوستان کے سرکاری نقشے میں پہلی مرتبہ چین کی سرحد سے متصل لداخ کے ۲۸؍ مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کو ان کے معیاری ناموں کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔ ان میں وادیٔ گلوان کے قریب واقع گوگرا اور ہاٹ اسپرنگس بھی شامل ہیں، جہاں مبینہ طور پر چینی فوج نے مئی ۲۰۲۰ء میں ہندوستانی حدود میں پیش قدمی کی تھی۔ اس پیش قدمی کے نتیجے میں ۱۵؍ جون ۲۰۲۰ء کو وادیٔ گلوان میں جھڑپ ہوئی تھی، جس میں ۲۰؍ ہندوستان فوجی اور کم از کم ۴؍ چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق چینی فوج اب بھی گوگرا اور ہاٹ اسپرنگس میں ہندوستان کے دعویٰ کردہ علاقے کے اندر قائم ’’بفر زونز‘‘ میں موجود ہے۔ بیجنگ باقاعدگی سے لداخ اور اروناچل پردیش کے مقامات کیلئے چینی زبان میں متبادل نام جاری کرتا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت نے یہ تازہ قدم لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد اٹھایا ہے۔ اس کا مقصد سرکاری نقشہ سازی کو منظم کرنا، مقامات کی درست شناخت میں سہولت فراہم کرنا اور حساس سرحدی خطے کے بارے میں عوامی آگاہی کو بہتر بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پوپ لیو کا انسانی فن اور اے آئی تخلیقات میں فرق کرنے پر زور
یہ اقدام اروناچل پردیش میں چین کی سرحد کے ساتھ واقع ۲۷؍ مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کو ان کے معیاری ناموں کے ساتھ ہندوستان کے سرکاری نقشے میں شامل کیے جانے کے دو ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے چین کی جانب سے اپنے سرکاری دستاویزات میں ریاست کے مختلف مقامات کیلئے بار بار چینی نام استعمال کیے جانے کا جواب دیا گیا تھا۔ مرکزی وزارت داخلہ نے جمعہ کو کہا، ’’حکومت ہند نے مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد سروے آف انڈیا کے سرکاری نقشے میں لداخ میں واقع مجموعی طور پر ۲۸؍ مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کی شناخت ان کے معیاری مقامی اور جغرافیائی ناموں کے ساتھ کی ہے۔‘‘ وزارت نے مزید کہا کہ ’’لداخ کے سروے آف انڈیا کے نقشے پر ان مقامات کی باضابطہ شناخت کا مقصد ان کی درست پہچان میں سہولت فراہم کرنا اور عوام میں ان کے بارے میں بہتر آگاہی پیدا کرنا ہے۔‘‘
گوگرا اور ہاٹ اسپرنگس کے علاوہ فہرست میں علیشا گیری، برانگسا، چاپچنگال پاس، کنشکا چوٹی، کارون پیر پہاڑ، کوکسل، مارتنڈ گیری، پارپک گلیشیئر، اسکامری گلیشیئر، شچمیرک پاس، شکورگا وادی، زورآور چوٹی، ڈہرا کمپاس اور ڈراک کارپو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جولموری، کمارایانہ پوائنٹ، پنگ لونگ، رنچن زانگپو، ساکیاسری گیری، گرو رنپوچے، شمل لنگپا، یانگپا دریا، مارپا لوتساوا ری، ملاریپا کانگری، شیو ری اور مہیشور ری کو بھی نقشے میں شامل کیا گیا ہے۔ شمل لنگپا ۱۹۵۰ء کی دہائی میں گشت اور فوجی نقل و حرکت کے راستے کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ایران کی بحری ناکہ بندی کے بعد آٹو اور ریلوے شعبوں پر نئی پابندیاں
گوگرا اور ہاٹ اسپرنگس مشرقی لداخ میں چانگ چنمو دریا اور اہم کوگکا پاس کے قریب واقع ہیں۔ گوگرا ایک اہم مقام ہے جو متعدد علاقائی وادیوں تک رسائی فراہم کرتا ہے، جبکہ ہاٹ اسپرنگس تاریخی طور پر آمدورفت اور پانی کے حصول کا ایک اہم مقام رہا ہے۔ مئی ۲۰۲۰ء میں چین نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر ہندوستان کے دعویٰ کردہ علاقے کے اندر فوجی دستے بھیجے، خیمے لگائے اور مشاہداتی چوکیاں قائم کیں۔ یہ سرگرمیاں وادیٔ گلوان، گوگرا، ہاٹ اسپرنگس اور پینگونگ جھیل کے شمالی و جنوبی کناروں سمیت مختلف علاقوں میں دیکھی گئیں۔ وادیٔ گلوان میں جھڑپ کے بعد چینی فوج نے پٹرولنگ پوائنٹ ۱۵؍اور ۱۷؍ اے پر ہندوستانی گشت کے راستے بھی روک دیے تھے، جس کے نتیجے میں دونوں جانب طویل عرصے تک فوجی آمنے سامنے رہے۔
مرکزی حکومت اس بات کی تردید کرتی ہے کہ چین نے ہندوستان کی ایک انچ زمین بھی قبضے میں لی ہے۔ وادیٔ گلوان کی جھڑپ کے چار دن بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ کوئی دراندازی نہیں ہوئی، جس کے بعد بیجنگ کو بھی سرحدی پیش قدمی سے انکار اور خطے میں اس کے زیر قبضہ تمام علاقے پر ملکیت کا دعویٰ کرنے کا موقع ملا۔ دوطرفہ سفارتی اور فوجی مذاکرات کے نتیجے میں چینی فوج نے ۲۰۲۲ء میں متعدد مقامات سے ’’جزوی‘‘ طور پر انخلا کیا تھا۔ دونوں ممالک کی افواج نے مربوط انداز میں پیچھے ہٹتے ہوئے عارضی ڈھانچے ختم کیے اور کشیدگی و تنازع کم کرنے کیلئے وادیٔ گلوان، پینگونگ جھیل کے شمالی و جنوبی کناروں، ہاٹ اسپرنگس اور گوگرا میں عارضی بفر زونز یعنی ایسے علاقے جہاں گشت نہیں کیا جاتا، قائم کیے۔ اگرچہ ان مقامات پر فوجی انخلا سے دونوں جانب براہِ راست رابطے کی صورتحال میں کمی آئی، تاہم سرحد سے متعلق بڑے مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نوبیل امن انعام، آئی ایس ایس، ٹرمپ اور کارنی سمیت ۲۸۷؍ امیدواروں کے نام زیرغور
سابق فوجی اہلکار طویل عرصے سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ ہندوستان چین سے مئی ۲۰۲۰ء سے پہلے کی صورت حال بحال کرنے اور ان علاقوں سے انخلا کا مطالبہ کرے جہاں چینی فوج اس وقت موجود ہے۔ ان سابق فوجیوں کو خدشہ ہے کہ ان مقامات پر ہندوستان کے دعویٰ کردہ علاقے کے اندر غیر فوجی ’’بفر زونز‘‘ کا قیام مستقبل میں چین کو ہندوستان پر ایل اے سی کی نئی تشریح قبول کرنے کیلئے دباؤ ڈالنے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔ سابق فوجیوں نے مودی حکومت پر پسپائی اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر فوجی علاقوں کے قیام پر رضامندی سے اپریل ۲۰۲۰ء سے پہلے کی صورت حال بحال کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ ماضی میں لداخ کے مقامی منتخب نمائندے بھی چین کے ساتھ فوجی انخلا کے عمل کے تحت ہندوستانی علاقے میں بغیر گشت والے ’’بفر زونز‘‘ قائم کرنے پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔