Updated: October 03, 2026, 10:08 AM IST
| Oslo
دنیا کے معتبر ترین اعزاز نوبیل امن انعام کیلئے اس سال مختلف شخصیات، اداروں اور تنظیموں کے نام زیرِ غور ہیں، جن میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن، ڈونالڈ ٹرمپ اور مارک کارنی بھی شامل ہیں۔ ناروے کی نوبیل کمیٹی۹؍ اکتوبر کو فاتح کا اعلان کرے گی، جبکہ جنگ و تنازعات کے موجودہ عالمی ماحول میں اس بار کے انتخاب پر خصوصی توجہ مرکوز ہے۔
کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سال کا نوبیل امن انعام کسی غیر متوقع امیدوار کو مل سکتا ہے اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کو بھی اس اعزازکیلئے تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم دیگر نمایاں امیدواروں میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی، سوڈان کی ہنگامی امدادی ٹیمیں، یوکرین میں بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے افراد اور دو اہم بین الاقوامی عدالتیں بھی شامل ہیں۔ دنیا کے معتبر ترین اعزازات میں شمار ہونے والے نوبیل امن انعام کے ممکنہ فاتح کے بارے میں سالانہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔ ناروے کی نوبیل کمیٹی ۹؍ اکتوبر کو اوسلو میں اس سال کے فاتح کا اعلان کرے گی۔ فاتح کی پیش گوئی کرنا ہمیشہ مشکل رہا ہے، کیونکہ ماضی میں کمیٹی کئی مرتبہ حیران کن اور متنازع انتخاب کر چکی ہے۔ اس سال کے امن انعام کیلئے کمیٹی کو مجموعی طور پر۲۸۷؍ امیدواروں کی نامزدگیاں موصول ہوئی ہیں، جن میں ایک چوتھائی سے کچھ زیادہ تعداد تنظیموں کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کی انتخابی حمایت پر ٹرمپ کا واضح مؤقف سے گریز، اسرائیل کی حمایت برقرار
ماہرین کے مطابق انعام دیتے وقت کمیٹی عموماً دیرپا امن، بین الاقوامی بھائی چارے کے فروغ اور ان اداروں کی خاموش کوششوں کو اہمیت دیتی ہے جو ان بنیادی مقاصد کو مضبوط بنانے کیلئے کام کرتے ہیں۔ پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اوسلو کے ڈائریکٹر ہاکون گیرلوو کو نوبیل امن انعام کے نمایاں پیش گوؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق آئی ایس ایس، یا اس کے پیچھے کام کرنے والی تنظیم، آج کے دور میں عالمی تعاون کی ایک نادر علامت ہے، جہاں مختلف ممالک کے لوگ خلا کی جانب مشترکہ انسانی جدوجہد میں شریک ہیں۔ یہ تعاون ایسے وقت میں جاری ہے جب کثیر ملکی تعاون کمزور پڑ رہا ہے اور دنیا کے کئی ممالک محدود قومی مفادات کی طرف واپس جا رہے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ کی سالانہ واچ لسٹ ان اہم ذرائع میں شامل ہے جن سے ماہرین اور پیش گوئی کرنے والے ممکنہ امیدواروں کے بارے میں اندازہ لگاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مکہ: مسجد الحرام میں خودکش بمبار کی افواہ، سیکوریٹی حکام نے تردید کی
ٹرمپ اورکارنی بھی امیدوار
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی اپنی خواہش کبھی پوشیدہ نہیں رکھی۔ انہیں ایک بار پھر اس انعام کیلئے نامزد کیا گیا ہے، تاہم، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری میں ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے باعث ان کا انتخاب متنازع ہو سکتا ہے۔ کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی رواں سال عالمی سطح پر اپنی نمایاں شناخت بنائی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے عائد کئے جانے والے محصولات جیسے معاملات پر ان کا واشنگٹن کے سامنے مؤقف اختیار کرنا ہے۔ گیرلوو کی اس سال کی فہرست میں یوکرین میں بچوں کے حقوق کیلئے سرگرم مائکولا کولیبا اور ادارہ سیو دی چلڈرن، سوڈان کا زمینی سطح پر امدادی کام کرنے والا نیٹ ورک ’’ایمرجنسی رسپانس رومز‘‘ اور صحافیوں کے تحفظ کیلئےکام کرنے والی تنظیم ’’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘‘ بھی شامل ہیں۔ گزشتہ تقریباً۴۵؍ برس میں صحافیوں کیلئے گزشتہ دو سال سب سے زیادہ ہلاکت خیز رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: زیادہ اسکرین ٹائم کے سبب بچوں کی نشوونما متاثر: تحقیق
بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو بھی مشترکہ طور پر ممکنہ امیدواروں میں شامل کیا گیا ہے۔ آئی سی سی کو بعض حلقوں کی جانب سے تنقید اور تنازعات کا سامنا رہا ہے، جبکہ دیگر حلقوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو سمیت مختلف لیڈورں کے خلاف اس کے گرفتاری وارنٹس کا خیرمقدم کیا ہے۔
ٹرمپ طویل عرصے سے آئی سی سی پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ امریکہ آئی سی سی کی جانب سے امریکی خودمختاری کو لاحق مبینہ خطرے کو ’’ختم‘‘ کرنے کی مہم شروع کرے گا۔ اسی ماہ کے آخر میں آئی سی سی کے چیف پراسیکیوٹر کو جنسی بدسلوکی کے الزامات کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ گیرلوو کے مطابق۲۰۲۵ء کی نوبیل امن انعام یافتہ وینزویلا کی ماریا کورینا ماچاڈو سے متعلق حالیہ واقعات نے بھی کمیٹی کیلئے اس سال کا فیصلہ مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماچاڈو نے ایک علامتی اقدام کے طور پر امریکی افواج کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے چند روز بعد اپنا انعام ٹرمپ کو پیش کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: میکلمور کا فری فلسطین ٹور: تینوں یورپی شوز کے تمام ٹکٹ فروخت
جنگ و تنازعات کے دور میں امن انعام
اس سال کا نوبیل امن انعام ایسے دور میں دیا جا رہا ہے جب دنیا گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران جنگوں اور تنازعات کے شدید ترین ادوار میں سے ایک کا سامنا کر رہی ہے۔ سوڈان، یوکرین، یمن، ایران اور مشرق وسطیٰ سمیت کئی خطوں میں تنازعات جاری ہیں۔ تنازعات کی نگرانی کرنے والے ادارے ’’اپسالا کانفلکٹ ڈیٹا پروگرام‘‘ کے سینئر تجزیہ کار شان ڈیوس نے کہا کہ عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ اور عالمی سلامتی کے نظام میں تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس صورت حال کا تعلق بین الاقوامی قوانین کے نفاذ کیلئے امریکہ کی آمادگی میں کمی سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن بعض معاملات میں جنگِ عظیم دوم کے بعد قائم عالمی نظام کے ضامن سے اس کی خلاف ورزی کرنے والے ملک کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ڈیوس نے ٹرمپ کے بارے میں کہا کہ موجودہ حالات میں انہیں نوبیل امن انعام ملنے کا امکان خود ان کے حامیوں کو بھی قابلِ یقین نہیں لگے گا، کیونکہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک طویل جنگ میں پھنسا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فلائی دبئی کی پرواز کوہائی جیکنگ سے بچانے والے اسمیت مچھار ہیرو قرار
خواتین امیدوار بھی دوڑ میں
۱۹۹۷ءکا نوبیل امن انعام انٹرنیشنل کمپین ٹو بین لینڈ مائنز کے ساتھ مشترکہ طور پر حاصل کرنے والی جوڈی ولیمز نے امید ظاہر کی ہے کہ امن انعام خواتین کو دینے کا رجحان برقرار رہے گا۔ نوبیل امن انعام کی۱۲۵؍ سالہ تاریخ میں ۱۱۲؍ انفرادی فاتحین میں صرف۲۰؍ خواتین شامل رہی ہیں۔ گزشتہ ۱۵؍ برسوں میں آٹھ خواتین نے انفرادی طور پر یہ انعام حاصل کیا، جبکہ اس عرصے میں انفرادی طور پر چھ مردوں کو یہ اعزاز دیا گیا۔ اس سال پیش گوئی کی مارکیٹوں میں جن خواتین کے نام زیرِ گردش ہیں، ان میں غزہ کی سرجن سارہ السقا اور روسی اپوزیشن لیڈر اور الیکسی ناوالنی کی بیوہ یولیا ناوالنایا شامل ہیں۔
یاد رہے کہ نوبیل ہفتے کا آغاز پیر کو طب کے انعام کے اعلان سے ہوگا، جس کے بعد منگل کو طبیعیات، بدھ کو کیمیا اور جمعرات کو ادب کے انعام کا اعلان کیا جائے گا۔ جمعہ کو نوبیل امن انعام کا اعلان ہوگا، جبکہ نوبیل میموریل پرائز ان اکنامک سائنسز کا اعلان۱۲؍ اکتوبر کو کیا جائے گا۔ اس سال نوبیل انعام کی رقم۱۲؍ ملین سویڈش کرونایعنی تقریباً۱۲؍ لاکھ امریکی ڈالر ہے۔ یہ رقم کسی ایک فرد، افراد کے چھوٹے گروپ یا کسی تنظیم کو دی جا سکتی ہے۔