Inquilab Logo Happiest Places to Work

بلڈانہ ضلع میں ۵۱؍ ہزار خواتین کی لاڈلی بہن اسکیم کی رقم روک دی گئی

Updated: August 08, 2025, 1:07 PM IST | Ali Imran | Buldhana

۶۵؍ سال سے زائد عمر والی یا ایک ہی خاندان سے ۲؍ عرضیاں داخل کرنے والی خواتین کی رقم روکی گئی ہے۔

The names of the beloved sisters are constantly decreasing. Photo: INN
لاڈلی بہنوں کے نام لگاتار کم ہوتے جا رہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

اسمبلی انتخابات سے قبل ریاستی حکومت نے ’’ لاڈکی بہن اسکیم‘‘ نافذ کیا تھا، لیکن اب اس اسکیم کی وجہ سے سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ پڑنے کا رونا رویا جارہا ہے۔ حکومت اس اسکیم سے مستفید ہونے والوں کی تعداد کو کم کرنے کیلئے کئی اقدامات کر رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ۶۵ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں اور ایک خاندان میں دو سے زیادہ استفادہ کرنے والوں کا فائدہ روک دیا جائے گا۔ 
  ضلع بلڈانہ میں ان دونوں زمروں میں آنے والے کل ۵۱ ہزار ۴۳۰ عرضیوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ یہ معلومات ضلع کے محکمۂ بہودیٔ خواتین واطفال افسر امول دیگھولے نے میڈیا کو دی ہے۔ بلڈانہ ضلع میں لاڈلی بہن اسکیم کے تحت کل ۶؍ لاکھ ۱۱؍ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ریاستی حکومت کی ہدایات کے مطابق ایک خاندان کی صرف ایک ہی خاتون اس اسکیم کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ فائدہ اٹھانے والی خواتین کی عمر ۲۱ سے ۶۵ سال کے درمیان ہونی چاہئے۔ تفتیش کے دوران حکومت کے علم میں آیا ہے کہ ایک خاندان کی ۲؍ یا ۲؍ سے زائد خواتین اور ۶۵ سال سے زائد عمر کی خواتین بھی فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ 
  ڈسٹرکٹ ویمن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ آفیسر امول ڈگھولے نے کہا کہ ریاستی حکومت نے خواتین اور اطفال کی ترقی کے محکمے کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان مستفید ہونے والی خواتین کا پتہ لگائے جو ان دونوں شرائط کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ تفتیش میں پایا گیا کہ بلڈانہ ضلع میں ایک ہی خاندان کی دو سے زائد فائدہ اٹھانے والی ۳۹ ؍ ہزار ۲۶۷؍ سے زیادہ خواتین ہیں۔ اس کے علاوہ ۶۵ ؍سال سے زائد عمر کی ۱۲ ؍ہزار ۱۳۳ ؍خواتین پائی گئی ہیں۔ اس طرح ۵۱ ؍ہزار ۴۳۰؍ خواتین کی درخواستیں روک دی گئی ہے اور حکومتی سطح پر اس کی تصدیق کی جارہی ہے۔ 
  یاد رہے کہ گزشتہ دنوں خبر آئی تھی کہ حکومت نے گزشتہ ۵؍ ماہ کے دوان ۴۰؍ لاکھ لاڈلی بہنوں کے نام اسکیم فہرست سے حذف کئے ہیں جس کی وجہ سے مجموعی طور پر سالانہ ۱۰؍ ہزار کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے۔ غالباً حکومت اس بچت کو اور بڑھا نا چاہتی ہے جس کیلئے مختلف بہانوں سے خواتین کے نام حذف کئے جا رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK