Updated: August 18, 2026, 5:01 PM IST
| Dubai
ہند نژاد نوجوان لکشمنن مییّپن (Lakshmanan Meyyappan) نے کم عمری میں فائنانس کی دنیا میں غیر معمولی کارنامہ انجام دیا۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق وہ دنیا کے کم عمر ترین مرد چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں۔ انہوں نے یہ ریکارڈ ۱۶؍ سال اور ۱۴۱؍ دن کی عمر میں قائم کیا۔
لکشمنن کی کامیابی کا سفرکووڈ ۱۹؍ وبا کے دوران شروع ہوا۔ اس وقت وہ تقریباً ۱۵؍ سال کے تھے اور اسکول کی تعلیم کے ساتھ فائنانس اور اکاؤنٹنگ میں دلچسپی لینے لگے۔ رپورٹس کے مطابق ان کی والدہ خوداے سی سی اے سے وابستہ تھیں اور انہوں نے لکشمنن کو اکاؤنٹنگ کے بنیادی تصورات سے متعارف کرایا۔ اس کے بعد انہوں نے Association of Chartered Certified Accountants کی پیشہ ورانہ تعلیم شروع کی اور غیر معمولی رفتار سے اس کا پروگرام مکمل کیا۔پی ڈبلیو سیز اکیڈمی کے مطابق انہوں نے ۱۵؍ سال کی عمر میں اے سی سی اے کا سفر شروع کیا اور تقریباً ایک سال میں یہ کوالیفکیشن مکمل کرلی۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق لکشمنن ہندوستان میں ۱۱؍ جنوری ۲۰۰۵ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے۳۰؍جون ۲۰۲۱ء کو دبئی، متحدہ عرب امارات میں یہ ریکارڈ قائم کیا۔ اس وقت ان کی عمر ۱۶؍ سال اور۱۷۰؍ دن تھی جبکہ گنیز کی ریکارڈ کیٹیگری میں کامیابی کی عمر ۱۶؍سال اور۱۴۱؍دن درج ہے۔
یہ بھی پڑھئے:محکمۂ تعلیم کی اسکولوں کے لئے فوڈسیفٹی گائیڈلائن جاری
یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے: عام طور پر خبروں میں اسے ’’دنیا کا سب سے کم عمر سی اے کہا جاتا ہے، لیکن لکشمنن کی حاصل کردہ پیشہ ورانہ کوالیفکیشن اے سی سی اے ہے۔ یہ Institute of Chartered Accountants of India (آئی سی اے آئی )کی ہندوستانی سی اے کوالیفکیشن سے مختلف ہے۔ گنیز کی اپنی کیٹیگری بھی اسےyoungest chartered accountant male کے طور پر درج کرتی ہے۔
لکشمنن نے کم عمری میں اے سی سی اے مکمل کرنے کے بعد بھی اپنی تعلیم جاری رکھی۔ ۲۰۲۶ء کی رپورٹس کے مطابق انہوں نے سی ایف اے چارٹر بھی حاصل کیا اور اس وقت فنانس میں ایم ایس سی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وہ دبئی میں سنچری فائنانشیل کے ساتھ سینئر ریسرچ اینالسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں، جہاں ان کی ذمہ داریوں میں سرمایہ کاری، تحقیق، تجزیہ اور مالیاتی مارکیٹ سے متعلق اسٹریٹجک فیصلوں میں کام شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’گلزار بے مثال قلمکار ہیں جن کی مثالیں دی جائیں گی‘‘
لکشمنن کی شخصیت کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ فنانس کے علاوہ انہیں گھڑیاں ڈیزائن کرنے اور بنانے میں بھی دلچسپی ہے۔ یعنی انتہائی کم عمر میں پیشہ ورانہ مالیاتی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ وہ تخلیقی سرگرمیوں کے لیے بھی وقت نکالتے ہیں۔ اپنی کامیابی کے بارے میں لکشمنن نے کہا کہ انہوں نے تعلیمی کوالیفکیشنز حاصل کرنے کو کبھی ایک دوڑ کے طور پر نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق اصل مقصد یہ سمجھنا تھا کہ فنانس حقیقی دنیا میں کس طرح کام کرتا ہے اور ایسی مہارتیں پیدا کرنا تھا جو طویل عرصے تک کارآمد رہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب سیکھنے کا عمل رفتار کے بجائے تجسس اور دلچسپی سے چلتا ہے تو اس کا نتیجہ زیادہ بامعنی ہوتا ہے۔
۔۔۔