Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی پی ایل ۲۰۰۹ء کیس میں للت مودی کو اپیلٹ ٹریبیونل سے راحت، مودی کا رواں سال ہندوستان آنے کا منصوبہ

Updated: July 23, 2026, 10:04 PM IST | New Delhi/London

منگل کو اپیلٹ ٹریبیونل نے ای ڈی کی جانب سے للت مودی اور دیگر حکام پر عائد کردہ جرمانوں کو کالعدم قرار دیا جو جنوبی افریقہ میں آئی پی ایل ۲۰۰۹ء کے انعقاد پر لگائے گئے تھے۔ ٹریبیونل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ زیرِ بحث کرنٹ اکاؤنٹ ریمٹنس (رقم کی منتقلی) کیلئے آر بی آئی کی منظوری کی ضرورت نہیں تھی۔

Lalit Modi. Photo: X
للت مودی۔ تصویر: ایکس

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے بانی للت مودی کو ۲۰۰۹ء میں ہونے والے آئی پی ایل کے دوسرے سیزن سے جڑے جنوبی افریقہ فارین ایکسچینج کیس کے سلسلے میں ’اسمگلرز اینڈ فارین ایکسچینج مینیپولیٹرز (فارفچر آف پراپرٹی) ایکٹ‘ کے تحت قائم اپیلٹ ٹریبیونل سے راحت مل گئی ہے۔ ٹریبیونل نے منگل کے روز انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے للت مودی اور دیگر حکام پر عائد کردہ جرمانوں کو کالعدم قرار دیا جو جنوبی افریقہ میں آئی پی ایل ۲۰۰۹ء کے انعقاد پر لگائے گئے تھے، اس دوران ہندوستان میں عام انتخابات بھی جاری تھے۔

ٹریبیونل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ زیرِ بحث کرنٹ اکاؤنٹ ریمٹنس (رقم کی منتقلی) کیلئے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی منظوری کی ضرورت نہیں تھی۔ ٹریبیونل نے مزید کہا کہ مودی ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کی جانب سے ’فارین ایکسچینج منیجمنٹ ایکٹ‘ (فیما) کی تعمیل کو یقینی بنانے کے ذمہ دار نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر: دہلی میٹرو بند، ضرورت پڑی تو مداخلت کرینگے: چیف جسٹس سوریہ کانت

للت مودی کا ردعمل

ٹریبیونل کے فیصلے کے بعد بدھ کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے گئے گئی ایک ویڈیو میں للت مودی پرسکون نظر آئے اور انہوں نے اسے ایک سنگِ میل لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے ویڈیو میں کہا کہ ”میں اس فیصلے سے بہت خوش ہوں۔ یہ واقعی ایک بہترین دن ہے۔ ۱۶ سال تک میں نے جنگ لڑی ہے اور جو کچھ بھی میں میڈیا اور ہر ایک سے کہتا رہا ہوں، وہ بالآخر سچ بن کر سامنے آ گیا ہے۔“

ویڈیو میں مودی نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ اس سال کے آخر میں ہندوستان واپس آنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”میں ہندوستان واپس آنے کا منتظر ہوں۔ جی ہاں، میں غالباً اس سال کے آخر میں یا اگلے سال کے شروع میں واپس آؤں گا۔ اکتوبر میں میری بیٹی کے ہاں بچے کی ولادت متوقع ہے اور امید ہے کہ سب کچھ ٹھیک رہے گا اور میں ہندوستان واپس آؤں گا۔“

یہ بھی پڑھئے: پیپر لیک معاملے میں راہل گاندھی کی مودی پر تنقید، طلبہ کے ۳؍ مطالبات دہرائے

واضح رہے کہ مودی ۲۰۱۰ء سے لندن میں مقیم ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ وہ وہیں قیام پذیر رہیں گے۔ ایکس پر ایک الگ پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ”میرا گھر لندن ہی رہے گا اور میں وہیں رہوں گا، لیکن میرا دل ہندوستان کیلئے دھڑکتا رہتا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ وہ دوبارہ اپنے ملک کا دورہ کرنے، وقت فوقت پر پرانے دوستوں سے ملنے اور جس بھی مثبت طریقے سے ممکن ہو سکے اپنا کردار ادا کرنے کے منتظر ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK