اسپین کی وزیر دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل عالمی نظام پر اپنا حکم نہیں چلا سکتے، ایران جنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کسی کو نہیں معلوم کہ اس جنگ کا مقصد کیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 01, 2026, 5:06 PM IST | Madrid
اسپین کی وزیر دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل عالمی نظام پر اپنا حکم نہیں چلا سکتے، ایران جنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کسی کو نہیں معلوم کہ اس جنگ کا مقصد کیا ہے۔
اسپین کی دفاعی وزیر مارگریٹا روبلیس نے منگل کو کہا کہ امریکہ اور اسرائیل اکیلے عالمی نظامِ حکومت نہیں چلا سکتے۔انہوں نے ایران جنگ پر اسپین کے موقف سے متعلق پارلیمانی کمیشن میں کہا،’’وہ اپنے اتحادیوں یا کسی اور سے مشاورت کیے بغیر یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ دنیا میں کس قسم کا امن یا کیا اصول ہوں۔‘‘ان کا مزید کہنا تھاکہ ’’ہم یہ قبول نہیں کر سکتے کہ دو ممالک فیصلہ کریں کہ پوری دنیا ان کی جنگ میں شامل ہو۔‘‘ساتھ ہی انہوں نے ایران جنگ کو ’’بین الاقوامی قانون کے خلاف‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ا سپین کی حکومت قومی اور بین الاقوامی قانونی تقاضوں کے احترام کی بنیاد پر فیصلے لینے کی ’’پابند‘‘ تھی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں شہیدوں کی تعداد ۷۲؍ ہزار ۳۰۰؍ سے تجاوز، اسرائیلی جارحیت جاری
روبیلس نے بتایا کہ سپین نے۲۸؍ فروری کو تنازع شروع ہوتے ہی روٹا اور مورون میں امریکی فوجی اڈوں اور اپنی فضائی حدود کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے سے منع کر دیا تھا۔انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امریکہ نے بغیر کارروائی کے دائرہ کار یا مدت کے بارے میں اہم تفصیلات فراہم کئےا سپین سے ایران پر حملے کے لیے اپنے اڈوں کے استعمال کی اجازت مانگی تھیں۔ان کا کہنا تھا’’کسی کو معلوم نہیں کہ اس جنگ کا مقصد کیا ہے، وجہ کیا ہے خواہ وہ سیاسی ہو، معاشی ہو یا کوئی اور۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ تنازع طویل اور غیرمتوقع ہو سکتا ہے۔روبیلس نے زور دیا کہا سپین کا موقف نیٹو کے ساتھ اس کے عزم میں کوئی خلل نہیں ڈالتا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ا سپین ملک میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے امریکی افواج کے انخلا پر غور نہیں کر رہا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ-اسرائیل جنگ: عرب معیشتوں کو ۱۹۴؍ارب ڈالر تک نقصان کا خدشہ: یو این رپورٹ
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران جنگ پرا سپین کے موقف اور حملوں میں تعاون سے انکار پر اسپین کے ساتھ تمام تجارت بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔تاہم، پیر کو معیشت کے وزیر کارلوس کویئرپو نے کہا کہ تنازع پر اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات متاثر نہیں ہوئے ہیں۔