یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے رات بھر کی کارروائی میں۱۳۰؍ ڈرون، ۴۸؍ کروز میزائل اور نامعلوم تعداد میں بیلسٹک میزائل داغے۔
EPAPER
Updated: October 08, 2026, 1:42 PM IST | Agency | Kyiv
یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے رات بھر کی کارروائی میں۱۳۰؍ ڈرون، ۴۸؍ کروز میزائل اور نامعلوم تعداد میں بیلسٹک میزائل داغے۔
روس نے یوکرین کے مختلف علاقوں پر ڈرونز اور میزائلوں سے بڑے پیمانے پر حملے کئے جن میں بچوں سمیت کم از کم۲۰؍ افراد ہلاک ہوگئے۔ یوکرینی حکام نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔ یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے رات بھر کی کارروائی میں۱۳۰؍ ڈرون، ۴۸؍ کروز میزائل اور نامعلوم تعداد میں بیلسٹک میزائل داغے۔ فضائی دفاعی یونٹوں نے۱۶۱؍ اہداف کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق روسی حملوں کا مرکز دارالحکومت کیف، وسطی یوکرین کا پولتاوا، جنوب مشرقی علاقہ دنیپروپیٹروفسک اور شمال مشرقی شہر خارکیف رہے۔صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہا، ’’ روس نے۷۰؍ میزائلوں کے ساتھ ڈرون بھی داغے اور یہ۲۰۲۲ء میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس کے سب سے بڑے حملوں میں سے ایک تھا۔‘‘انہوں نے کہا، ’’اہم اہداف میں سے ایک ہماری توانائی کا بنیادی ڈھانچہ تھا۔ روسی اس پر شدید اور نمایاں ضرب لگانا چاہتے تھے۔‘‘
یوکرینی حکام کے مطابق حملوں میں رہائشی عمارتوں، صنعتی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔شمالی علاقے چرنیہیف کے پریلوکی شہر میں روسی میزائل ۵؍منزلہ رہائشی عمارت سے ٹکرا گیاجس میں کم از کم۱۴؍ افراد ہلاک ہوگئے جن میں۴؍ بچے شامل ہیں جبکہ۵۰؍افرادزخمی ہوگئے۔کیف کے میئر ویتالی کلیچکو نے کہا کہ گنجان آبادی والے دارنیٹسکی علاقے میں فضائی حملے سے لگنے والی آگ میں ۲؍ افراد ہلاک ہوگئے۔
یہ بھی پڑھئے:ستمبر میں مسجدِ اقصیٰ پر ۲۶؍ یلغار، ابراہیمی مسجد میں ۱۵۰؍ مرتبہ اذان پر پابندی
زیلنسکی کے مطابق وسطی یوکرین کے دنیپرو اور کریمنچک میں میزائل رہائشی بلند عمارتوں سے ٹکرائے جس میں ۲؍افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اولیکساندریا میں بھی ۲؍ افراد ہلاک ہوگئے۔
روس کی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کی افواج نے کیف اور یوکرین کے دیگر علاقوں میں فوجی صنعتی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا۔ وزارت کے مطابق کارروائی میں زمین، سمندر اور فضا سے داغے جانے والےہتھیاروں کے ساتھ ڈرونز کا بھی استعمال کیا گیا۔ روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں کیف میں فائر پوائنٹ کمپنی کے ان مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں فلیمنگو کروز میزائل نیز درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون تیار اور ذخیرہ کئے جاتے ہیں۔
’’ایک اور بے خواب رات ،دہشت گردی کی ایک اور کارروائی‘‘
روس کے حملوں پر یوکرین کے پارلیمانی کمشنر برائے انسانی حقوق دمترو لوبینٹس نے ٹیلی گرام پر کہا، ’’یوکرین ایک بار پھر رات بھر روسی میزائلوں کی زد میں رہا۔‘‘انہوں نے کہا، ’’ایک اور بے خواب رات، دہشت گردی کی ایک اور کارروائی،تمام تر حالات کے باوجود شہریوں کو اپنے کام کے دن کی منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے۔‘‘