مگراسٹینڈرڈ آئی فون ۱۸؍ ابھی جاری نہیں ہوگا، آئندہ سال کے ابتدائی مہینوں تک کیلئے مؤخر، ۹؍ ستمبر کو آئی فون ۱۸؍ پرو، پرومیکس اور الٹرا جیسے پریمیم ماڈل لانچ ہوں گے۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 1:19 PM IST | Agency | Mumbai
مگراسٹینڈرڈ آئی فون ۱۸؍ ابھی جاری نہیں ہوگا، آئندہ سال کے ابتدائی مہینوں تک کیلئے مؤخر، ۹؍ ستمبر کو آئی فون ۱۸؍ پرو، پرومیکس اور الٹرا جیسے پریمیم ماڈل لانچ ہوں گے۔
دنیا کے مہنگے ترین موبائل فونز میں سے ایک ایپل کی لانچنگ تقریب آج یعنی بدھ کی رات ہوگی۔ رپورٹس کے مطابق اس تقریب میں کمپنی اپنے اسٹینڈرڈ آئی فون ۱۸؍ کو فی الحال لانچ نہیں کرے گی۔ اس تقریب میں اپیل نے اپنے تین پریمیم ماڈل کو ہی پیش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ آئی فون۱۸؍ پرو، آئی فون۱۸؍ پرو میکس اور کمپنی کا پہلا فولڈیبل آئی فون۔ اسٹینڈرڈ ماڈل کے ابھی جاری نہ کرنے کی وجہ میموری چپس کی بڑھتی ہوئی قیمت بتائی جارہی ہے۔
مارکیٹ ریسرچ فرم’ٹریند فورس‘ کے مطابق، گزشتہ سال میں۲۵۶؍ جی بی میموری چپ کی قیمت میں تقریباً۴۰۰؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ ۲۵۶؍ جی بی آئی فون۱۸؍ پرو کی مجموعی مینوفیکچرنگ لاگت میں پچھلے ماڈل، آئی فون۱۷؍ پرو کے مقابلے تقریباً۳۸؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:برطانیہ کا ایران پر جوہری خدشات کے پیش نظر مزید سخت پابندیوں کا اعلان
ایپل کمپنی کے ذرائع کے مطابق کمپنی کسی نہ کسی طرح پرو ماڈل پر لاگت کے اس دباؤ کو برداشت کرلے گی کیونکہ پرو کے صارفین زیادہ ادائیگی کرنے کو تیار ہیں تاہم، بیس ماڈل میں لاگت میں اضافے کا براہ راست اثر کمپنی کے منافع یا صارفین کی جیب پر پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایپل نے بیس ماڈل کی لانچنگ کو فی الحال ملتوی کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ ایپل ہر ستمبر میں ایک نیا بیس آئی فون متعارف کراتا ہے لیکن اس بار آئی فون۱۸؍ کو۲۰۲۷ء کے اوائل تک انتظار کرنا پڑے گا۔ اس کے نتیجے میں دونوں بیس ماڈلز کے درمیان تقریباً ڈیڑھ سال کا وقفہ ہو جائے گا۔ ایپل کی تاریخ میں یہ سب سے طویل انتظار ہوگا۔
ذرائع کے مطابق ایپل کسی بھی قسم کے خلفشار سے بچنے کیلئے ایونٹ کو مکمل طور پر اپنے فولڈیبل فونز اور پرو ماڈلز پر مرکوز کرنا چاہتا ہے لہٰذا، دیگر کئی آلات کو بھی مہینے کے آخر تک کیلئے ملتوی کیا جا سکتا ہے۔اس تقریب کی سب سے بڑی خاص بات قیادت کی تبدیلی ہے۔ ایپل کے دیرینہ سی ای او ٹم کک یکم ستمبر کو مستعفی ہو گئے ہیں۔ ہارڈ ویئر انجینئرنگ کے سینئر نائب صدر جان ٹرنس نئے سی ای او کا عہدہ سنبھال رہے ہیں۔ سی ای او بننے کے بعد یہ ٹرنس کا پہلا کلیدی نوٹ ہوگا جنہیں دیکھنے کیلئے پوری دنیا کی نظریں ایپل پارک پر ٹکی ہوں گی۔
یہ بھی پڑھئے:کرکٹ آسٹریلیا نے بگ بیش میں نجی سرمایہ کاری کے دروازے کھول دیے
اس تقریب میں، ایپل عام صارفین کیلئے اپنے نئے ’سری اے آئی بیٹا‘ کی ریلیز کا اعلان کر سکتا ہے، جسے کمپنی نے پہلی بار WWDC 2026 میں دکھایا تھا۔ ایپل کے دعوتی پوسٹر سے بھی اس کا اشارہ ملتا ہے۔ ایونٹ کے آرٹ ورک میں ’نیون گلو افیکٹ‘ دیا گیا ہے جو کہ نئے ’سری اے آئی‘ کی چمک سے مشابہت رکھتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس اپ ڈیٹ کے ساتھ ایپل اسمارٹ فون اے آئی کی دوڑ میں اپنے لیے ایک مضبوط دعویداری پیش کرے گا۔
’آئی فون‘ نام پہلے ایپل کا نہیں تھا
نئے آئی فون کی اجرائی تقریب سے قبل آئیے اس نام اور فون کی کہانی جاننے کی کوشش کرتے ہیں جس نے تقریباً دو دہائیوں میں موبائل کی دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ’ آئی فون‘ نام شروع میں ایپل کا نہیں تھا۔ امریکی نیٹ ورکنگ کمپنی ’سسکو‘ اس نام کے ٹریڈ مارک کی مالک تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایپل کے ذریعہ آئی فون کی لانچنگ کے بعد، سسکو نے اپیل کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا تھا۔ بعد ازاں دونوں کمپنیوں کے درمیان سمجھوتہ ہو ا۔
دنیا بھر میں ۳۰۰؍ کروڑ آئی فون
ایک اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا سب سے مہنگا آئی فون تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالر یعنی آج کے حساب سے تقریباً۱۴۲؍ کروڑ روپے میں فروخت ہوا تھا۔ اسے برطانوی ڈیزائنر اسٹورٹ ہیوز نے اپنی مرضی کے مطابق بنایا تھا۔ اس میں۱۳۵؍ گرام۲۴؍ کیرٹ سونا اور۶۰۰؍ سفید ہیرے لگائے گئے تھے۔ ہوم بٹن کی جگہ۲۴؍ کیرٹ کا سیاہ ہیرا لگایا گیا تھا۔آئی فون انتہائی مہنگا ہونے کے باوجود دنیا بھر میں۳۰۰؍ کروڑ سے زائد فروخت ہو چکے ہیں جن میں سے۲۵۰؍ کروڑ سے زیادہ فعال ہیں۔ ۲۰۱۸ء میں یہ تعداد تقریباً۱۳۰؍ کروڑ تھی یعنی صرف۸؍ سال میں تقریباً۱۲۰؍ کروڑ کا اضافہ ہواہے۔