شرکاء کے سوالات کے جواب بھی دیئے۔مقررین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ایک ساتھ رہنے کیلئے برداشت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، یہ بھی کہاکہ مذہبی آزادی دوسروں کے وقار اور آزادیوں کے احترام کی ذمہ داری کا مطالبہ کرتی ہے۔
EPAPER
Updated: November 02, 2026, 4:30 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
شرکاء کے سوالات کے جواب بھی دیئے۔مقررین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ایک ساتھ رہنے کیلئے برداشت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، یہ بھی کہاکہ مذہبی آزادی دوسروں کے وقار اور آزادیوں کے احترام کی ذمہ داری کا مطالبہ کرتی ہے۔
مرین لائنس پر واقع بہائی سینٹر میں سنیچر کو ’دی انٹر۔ریلیجئس سالیڈیریٹی کونسل‘ (آئی آر ایس سی) اور ’سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرازم‘ (سی ایس ایس ایس) کے اشتراک سے ’پارلیمنٹ آف ریلیجنس‘ کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے رہنمائوں اور ماہرین نے ’ایک ساتھ رہنے کی ہمت‘ کے عنوان پر گفتگو کی اور شرکاء کے سوالات کے جواب بھی دیئے۔
اس پارلیمنٹ میں شرکاء نے مذہبی پولرائزیشن اور ایک مضبوط منصفانہ، ہمدردانہ اور جامع معاشرے کی تعمیر کے امکانات پر غور کیا اور غور و خوض کی دعوت بھی دی۔ تقریباً سبھی مقررین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ایک ساتھ رہنے کیلئے برداشت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں باہمی احترام، مساوی وقار، بامعنی تعلقات اور حقوق اور آزادیوں کو خطرہ ہونے پر ایک دوسرے کیلئے کھڑے ہونے کی ہمت کی ضرورت ہے۔مقررین نے اس بات کو تسلیم کیا کہ مذہبی مسخ شدہ تاریخی بیانات، غلط معلومات، سماجی علاحدگی، خوف اور بداعتمادی کے ذریعے پولرائزیشن اور تعصب برقرار ہے۔ مذہب، ذات پات، جنسی امتیاز اور دیگر شناختوں کی بنیاد پر امتیازی سلوک مساوات اور بھائی چارے کے آئینی وعدے کو کمزور کرتا ہے۔ ہماری مشترکہ سماجی دنیا باہمی اعتماد، اخلاقی ذمہ داریوں اور دوسروں کے حقوق کے احترام کا مطالبہ کرتی ہیںجبکہ مذہبی آزادی اپنے ساتھ دوسروں کے وقار اور آزادیوں کے احترام کی ذمہ داری کا مطالبہ کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:انڈیا اتحاد کے جواب میں تھانے میں جمہوریت بچاؤ ریلی
پارلیمنٹ نے اس بات پر زور دیا کہ اتحاد کیلئے یکسانیت کی ضرورت نہیں ہے اور یہ کہ امن کا انحصار مشکل بات چیت سے گریز پر نہیں ہو سکتا۔ بات چیت تکلیف کا باعث بن سکتی ہے لیکن اس طرح کی گفتگو مفروضوں کو چیلنج کرنے، تاریخی ناانصافیوں کو دور کرنے اور کمیونٹی کی حدود میں تعلقات کو مضبوط کرنے کیلئے ضروری ہیں۔
مقررین نے درخواست کی کہ خاندانوں، محلوں، مذہبی اداروں اور ڈجیٹل جگہوں جہاں کہیں بھی تعصب اور نفرت پیدا ہوتی ہے اسے چیلنج کریں اور امتیازی سلوک یا تشدد کا سامنا کرنے والوں کے ساتھ یکجہتی میں کھڑے ہوں۔ ان کے مطابق ایک ساتھ رہنے کی ہمت کا اظہار ہمارے روزمرہ کے انتخاب کے ذریعے ہوتا ہے اور تعصب پر سوال اٹھانا، ایک دوسرے کی عزت کی حفاظت کرنا، اختلافات کے درمیان بات چیت میں رہنا اور مشترکہ بھلائی کیلئے مل کر کام کرنا ضروری ہے۔اس پارلیمنٹ میں میزبان عرفان انجینئر کے علاوہ ۱۱؍ مقررین نے اظہار خیال کیا جن میں مولانا ظہیر عباس رضوی، پروفیسر زرین شفیع، صبا خان، بہائی مذہب سے تعلق رکھنے والی طاہریح مکھیجا، عیسائی پادری بشپ ڈومینک سیویو، پروفیسر کرشنا ابھیشیک گھوش، سوامی دیویندر برہمچاری اور دیگر شامل ہیں۔