Updated: April 23, 2026, 6:02 PM IST
| Beirut
جنوبی لبنان میں ایک حملے میں لبنانی صحافی امل خلیل کی ہلاکت نے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔ حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے میڈیا کارکنوں کے خلاف منظم تشدد قرار دیا۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ممکنہ جنگی جرم قرار دیا، جبکہ لبنانی قیادت نے بین الاقوامی قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
لبنانی صحافی امل خلیل۔ تصویر: ایکس
جنوبی لبنان کے قصبے الطیری میں ایک مہلک فضائی حملے کے بعد لبنانی صحافی امل خلیل کی ہلاکت نے عالمی سطح پر غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں صحافی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور حکام اسے میڈیا کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔ ۴۳؍ سالہ امل خلیل، جو لبنانی اخبار الخبر سے وابستہ تھیں، اپنی ساتھی فری لانس فوٹوگرافر زینب فراج کے ساتھ رپورٹنگ کے دوران حملے کی زد میں آئیں۔ ابتدائی حملے میں قریب موجود گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد دونوں صحافیوں نے پناہ لینے کی کوشش کی۔ رپورٹس کے مطابق، خلیل نے زخمی حالت میں حکام سے رابطہ کیا اور اپنی لوکیشن شیئر کی، جس پر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔ تاہم، جب امدادی کارکن انہیں بچانے کی کوشش کر رہے تھے، تو علاقے پر دوبارہ فائرنگ کی گئی، جس سے ریسکیو آپریشن متاثر ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: این بی سی پول: امریکی جین زی میں فلسطینیوں کے لیے زبردست ہمدردی
لبنانی سول ڈیفنس کے مطابق، بعد میں ملبے سے امل خلیل کی لاش نکالی گئی، جبکہ زینب فراج کو زخمی حالت میں بچا لیا گیا۔ لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’’واضح جنگی جرم‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا اور امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور لبنان اس معاملے کو عالمی عدالتوں میں لے جائے گا۔ اسی طرح لبنان کے وزیر اطلاعات پال مورکس نے کہا کہ یہ حملہ ’’گھناؤنا جرم‘‘ ہے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا کہ جنوبی لبنان میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات نہایت تشویشناک ہیں اور اگر امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے کے شواہد درست ثابت ہوئے تو یہ جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، امل خلیل کو اس سے قبل بھی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ الجزیرہ کی نامہ نگار کے مطابق ۲۰۲۴ء کی جنگ کے دوران انہیں ایک اسرائیلی نمبر سے واٹس ایپ پر دھمکی دی گئی تھی کہ وہ اپنی رپورٹنگ بند کریں۔ لبنان کے پریس کلب نے بھی ایک بیان میں کہا کہ خلیل نے ’’اپنے نظریے اور سچ کی خاطر جان قربان کی‘‘، اور اس حملے کو اسرائیل کی جانب سے صحافیوں کو نشانہ بنانے کی ایک ’’منظم مہم‘‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ فلوٹیلا کا اعلان: راستے میں ملنے والے ہتھیار بردار اسرائیلی جہاز روکے گا
یاد رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور میڈیا کی آزادی اور سلامتی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر صحافیوں کو جنگی علاقوں میں محفوظ نہ رکھا گیا تو معلومات کی آزادانہ ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے عالمی اثرات مرتب ہوں گے۔