• Wed, 28 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوکرین جنگ: ۱۲؍ لاکھ روسی اور ۶؍ لاکھ یوکرینی فوجی ہلاک، زخمی یا لاپتہ : تحقیق

Updated: January 28, 2026, 5:08 PM IST | Washington

ایک امریکی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق روس یوکرین جنگ کے دوران ۱۲؍ لاکھ روسی اور ۶؍ لاکھ یوکرینی فوجی ہلاک، زخمی یا لاپتہ ہوئے ہیں، مزید یہ کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اتنی بڑی ہلاکتوں کا یہ پہلا موقع ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) نے منگل کو جاری کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ یوکرین میں روس کی جنگ کے نتیجے میں تقریباً۱۲؍ لاکھ روسی فوجیوں کا جانی نقصان ہوا ہے جبکہ یوکرین کے۵؍ سے۶؍ لاکھ فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔سی ایس آئی ایس کے اندازے کے مطابق، گذشتہ تقریباً چار سالوں میں روسی فوج کے۳؍ لاکھ۲۵؍ ہزار سے زائد فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جو کل نقصانات کا ایک بڑا حصہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’دوسری عالمی جنگ کے بعد کسی بھی جنگ میں کسی بھی بڑی طاقت کو اتنے جانی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: منیاپولس: انڈین ریستوراں نے مظاہرین میں مفت سموسے تقسیم کئے، ویڈیو وائرل

دریں اثناء رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اتنا بڑا نقصان اٹھانے کے باوجود روسی فوج محاذ پر نمایاں طور پر سست رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق، فروری۲۰۲۲ء سے دسمبر۲۰۲۵ء کے درمیان یوکرینی فوجی دستوں کے بھی ایک لاکھ سے  ایک لاکھ۴۰؍ ہزار کے درمیان فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ بعد ازاں تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، روس اور یوکرین کا مجموعی جانی نقصان۱۸؍ لاکھ تک ہو سکتا ہے اور۲۰۲۶ء کے موسم بہار تک یہ کل ہلاکتیں ۲۰؍ لاکھ تک پہنچ سکتی ہیں۔‘‘تاہم جنگ نے عام شہریوں پر بھی شدید اثرات ڈالے ہیں۔اقوام متحدہ کے نگران اداروں کے اعداد وشمار کے مطابق، سال۲۰۲۲ء کے علاوہ، ۲۰۲۵ء میں یوکرین میں کسی بھی دوسرے سال کے مقابلے میں زیادہ شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں۔جبکہ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق، سال۲۰۲۵ء کے دوران۲۵۰۰؍ سے زائد شہری ہلاک اور۱۲۰۰۰؍ سے زائد زخمی ہوئے۔اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباًٍ۱۵۰۰۰؍ شہری ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جبکہ اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اصل تعداد ممکنہ طور پر کہیں زیادہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK