• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سیاسی مبصرکمار نین ایکس اکاؤنٹ بندش کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع

Updated: September 10, 2026, 9:59 PM IST | New Delhi

سیاسی مبصرکمار نین نے مرکزی حکومت کے ذریعے ایکس اکاؤنٹ بلاک کئے جانے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا، انہوں نے مرکز پر مسلسل نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا، ساتھ ہی کہا کہ اس بندش کی انہیں کوئی وجہ فراہم نہیں کی گئی اور اس کارروائی نے ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔

Political commentator Kumar Nayan. Photo: X
سیاسی مبصر کمار نین۔ تصویر: ایکس

لائیو لاء کے مطابق، سیاسی مبصر کمار نین نے ہندوستان میںسوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے اکاؤنٹ’’ نہرہو‘‘ کو مرکزی حکومت کی ہدایات پر بلاک کیے جانے کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔نین نے الزام لگایا کہ طنزیہ اکاؤنٹ کو مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات نے مبینہ طور پر قابل اعتراض پوسٹوں کی بنا پر بلاک کیا، اور انہیں نہ بلاکنگ آرڈر فراہم کیا گیا، نہ وجہ، نہ معاون دستاویزات۔ نین نے موقف اختیار کیا کہ ان کے اکاؤنٹ کو بلاک کرنا ان کے حق مساوات، کسی بھی پیشے کو اختیار کرنے کے حق، اظہار رائے کی آزادی اور ذاتی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔  

یہ بھی پڑھئے: ابو سالم کی ۲۵؍ سالہ قید مکمل ہونے کا دعویٰ، سپریم کورٹ نے رہائی کی اپیل رد کردی

واضح رہے کہ اکاؤنٹ روکے جانے کے وقت اس کےڈھائی لاکھ سے زیادہ فالوورز تھے۔نین نے اپنی درخواست میں کہا کہ پلیٹ فارم نے۲۷؍ جولائی کو انہیں بتایا کہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ۶۹؍ اے کے تحت وزارت کے بلاکنگ آرڈر پر عمل کر رہا ہے۔قانون مرکزی حکومت کے کسی مجاز افسر کو، جو جوائنٹ سیکرٹری سے کم درجے کا نہ ہو، اجازت دیتا ہے کہ اگر مواد قومی سلامتی، خودمختاری یا عوامی نظم کے لیے خطرہ سمجھا جائے تو  وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مواد ہٹانے کے احکامات بھیجے۔ لائیو لاء کے مطابق، وزارت نے۲۸؍ جولائی کو نوٹس جاری کیا جس میں اکاؤنٹ بلاک کرنے کی تجویز دی گئی اور اس کارروائی کے لیے مبینہ طور پر جن لنکس پر انحصار کیا گیا ان کی فہرست فراہم کی۔ تاہم نین نے موقف اختیار کیا کہ ان کا اکاؤنٹ بلاک کرنے والا آرڈر انہیں فراہم نہیں کیا گیا، حتیٰ کہ ۷؍اگست کو بین الادارہ کمیٹی کی کارروائی کے دوران بھی نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایم پی ایس سی امتحان میں مبینہ بدنظمی اور پیپر لیک کیخلاف ودربھ کے طلبہ کا سنویدھان چوک پر احتجاج

یاد رہے کہ کمیٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز کے تحت آن لائن مواد بلاک کرنے کا جائزہ لیتی ہے اور سفارش کرتی ہے۔نہرہو“۱۸؍ مارچ کو پہلے بھی بلاک کیے گئے۱۲؍ اکاؤنٹس میں شامل تھا۔۶؍ اپریل کو ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ ناین کا اکاؤنٹ، ایک اور سیاسی مبصر کے اکاؤنٹ کے ساتھ، بحال کیا جائے۔ تاہم اس نے کہا کہ بلاکنگ آرڈر میں مذکور مبینہ قابل اعتراض پوسٹیں روکی رہیں۔نین کو اس وقت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی وزارت کی جائزہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تھی تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا ان کی پوسٹیں بلاک رہیں گی۔ 
لائیو لاء کے مطابق، نین نے اپنی درخواست میں الزام لگایا کہ عدالت کی ہدایت کے باوجود انہیں مارچ کا بلاکنگ آرڈر کبھی فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ جولائی کا بلاکنگ آرڈر الگ تھلگ نہیں دیکھا جا سکتا اور یہ ان کے اظہار کے ذریعے پر مسلسل پابندیوں کے مترادف ہے۔ دریں اثناء نین نے اپنے اکاؤنٹ کی بلاکنگ سے متعلق دستاویزات فراہم کرنے اور پروفائل روکنے کے احکامات کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK