’ رامائن‘ کے کرداروں پر تبصرہ کرنے کے الزام میں معروف اداکار پرکاش راج کے خلاف مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا فوجداری مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کے اس طرح کے کمنٹس پر صارفین میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: April 17, 2026, 8:05 PM IST | Mumbai
’ رامائن‘ کے کرداروں پر تبصرہ کرنے کے الزام میں معروف اداکار پرکاش راج کے خلاف مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا فوجداری مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کے اس طرح کے کمنٹس پر صارفین میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔
’ رامائن‘ کے کرداروں پر تبصرہ کرنے کے الزام میں معروف اداکار پرکاش راج کے خلاف مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا فوجداری مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کے اس طرح کے کمنٹس پر صارفین میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ پورا معاملہ کیا ہے؟
پرکاش راج رامائن تنازع
ہندوستانی سنیما کے معروف اداکار پرکاش راج اپنی بے باک اور متنازع بیانات کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے مقدس مذہبی کتاب’رامائن‘ کے حوالے سے ایک ایسا متنازع بیان دیا جس نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا کر دیا اور اداکار کو قانونی مشکلات میں بھی پھنسا دیا۔ اطلاعات کے مطابق پرکاش راج کے خلاف مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے الزام میں فوجداری مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اصل معاملہ کیا ہے؟ (پرکاش راج رامائن تنازع)
خبروں کے مطابق یہ معاملہ ایک عوامی تقریب کے دوران شروع ہوا جہاں پرکاش راج نے ہندو مذہب کی مقدس کتاب رامائن کا ذکر مزاحیہ انداز میں کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بھگوان رام، لکشمن اور سیتا کے بنواس کے دوران ایک فرضی قصہ سنایا جس میں انہوں نے جی ایس ٹی اور نارتھ ساؤتھ بحث جیسے موضوعات کو بھی شامل کیا۔
پرکاش راج کی کہانی
پرکاش راج نے مزاحیہ انداز میں کہا’’جب رام اور لکشمن جنوب کی طرف آ رہے تھے تو انہیں بھوک لگی۔ لکشمن نے کچھ پھل توڑے تو وہاں راون اور شوپنکھا آ گئے۔ جب پیسے دینے کی بات ہوئی تو شوپنکھا نے حساب لگا کر ۲۰۰۰؍ ڈالر کا بل دے دیا اور اس میں جی ایس ٹی بھی شامل کر دیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ راون نے انہیں ڈسکاؤنٹ دینے کی پیشکش کی اور پیسے نہ ہونے کی صورت میں کام کرنے (درخت لگانے) کی شرط رکھی۔ اس کہانی کے دوران انہوں نے لکشمن کے لیے’’لکی‘‘کا لفظ استعمال کیا اور راون و شوپنکھا کو زمین کے مالک کے طور پر پیش کیا۔
ہندی زبان اور بیف پر بھی متنازع بیان
اسی گفتگو کے دوران پرکاش راج نے شمالی اور جنوبی ہندوستان کے درمیان زبان کے تنازع پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شمال سے جنوب آنے والے لوگ ان پر ہندی مسلط نہ کریں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کھانے پینے کی آزادی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’بیف فیسٹیول‘‘ بھی منائیں گے اور کوئی انہیں نہیں روک سکتا۔
یہ بھی پڑھئے:’’ٹاپ گن ۳‘‘ کی تصدیق، ٹام کروز ایک بار پھر’مَیورک مچل‘ کے کردار میں
عوام کا ردعمل (سوشل میڈیا پر غصہ)
جیسے ہی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، صارفین میں شدید غصہ پھیل گیا اور #BoycottPrakashRaj ٹرینڈ کرنے لگا۔ شکایت کنندگان کا الزام ہے کہ پرکاش راج نے جان بوجھ کر ہندو مذہب اور اس کے عقائد کا مذاق اڑایا اور رامائن کے کرداروں کو غلط انداز میں پیش کیا، جس سے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی۔
ایس ایس راجامولی کی ’’وارانسی‘‘ سے ہٹانے کا مطالبہ
فوجداری مقدمہ درج ہونے کے بعد اب سوشل میڈیا صارفین نے انہیں ہدایتکار ایس ایس راجامولی کی آنے والی فلم’’وارانسی‘‘ سے ہٹانے کا مطالبہ بھی شروع کر دیا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ثقافت کو احترام دینے کے نام پر دوسری ثقافت کی توہین قابل قبول نہیں۔
یہ بھی پڑھئے:لیونل میسی نے یو ای کورنیلا کی ملکیت حاصل کی
پرکاش راج کی آنے والی فلمیں
ورک فرنٹ کی بات کریں تو حال ہی میں ان کی فلم ’’ڈکیت‘‘ریلیز ہوئی ہے جس میں ادیوی شیش، مرونال ٹھاکر اور انوراگ کشیپ بھی شامل ہیں۔ ان کی اگلی فلم ایس ایس راجامولی کی ’’وارانسی‘‘ ہے جس میں مہیش بابو، پرینکا چوپڑہ جوناس اور پرتھوی راج سکوما رن شامل ہیں۔یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پرکاش راج کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ وہ پہلے بھی اپنے سیاسی اور مذہب سے متعلق بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں۔ تاہم اس بار رامائن پر ان کے تبصرے نے شدید ردعمل پیدا کیا ہے، جس سے ان کی شبیہ کو نقصان پہنچنے کی بات کی جا رہی ہے۔