دنیا بھر میں مذہبی رہنماؤں کے سیاسی اور سماجی معاملات پر مؤقف کو اہمیت دی جاتی ہے، لیکن امریکی انتخابات میں ایک اہم مذہبی شخصیت کی شرکت نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
EPAPER
Updated: October 31, 2026, 11:12 AM IST | Vatican City
دنیا بھر میں مذہبی رہنماؤں کے سیاسی اور سماجی معاملات پر مؤقف کو اہمیت دی جاتی ہے، لیکن امریکی انتخابات میں ایک اہم مذہبی شخصیت کی شرکت نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
پوپ لیو چہاردہم نے اگلے ہفتے ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کیلئے اپنا ووٹ ڈال دیا ہے۔ ویٹیکن کے مطابق، وہ مبینہ طور پر پہلے برسرِ منصب پوپ ہیں جنہوں نے کسی سیکولر جمہوری انتخابات میں حصہ لیا ہے۔ ویٹیکن نے جمعہ کو اس بات کا اعلان کیا۔ ویٹیکن کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پہلے امریکی پوپ نے ’’شکاگو میں ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ جمع کرادیا ہے۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’روحانی پیشوا اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جمہوری عمل میں حصہ لینا شہریوں کا حق بھی ہے اور ان کی ذمہ داری بھی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ: پناہ گزین ادارے کا یمن میں ۶۵؍ ہزار پناہ گزینوں کے بحران کا انتباہ
برطانوی مؤرخ اور پوپ سے متعلق امور کے ماہر مائیکل والش نے کہا کہ لیو چہاردہم کی جانب سے ووٹ ڈالنے کا یہ واقعہ بے مثال ہوسکتا ہے۔ انہوں نے ’سی این این‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میرے خیال میں اس سے پہلے کسی پوپ نے جمہوری انتخابات میں ووٹ نہیں ڈالا۔‘‘ امریکی شہری ہونے کے ناطے پوپ لیو شکاگو کے نواحی علاقے نیو لینوکس میں ووٹ ڈالنے کیلئے رجسٹرڈ ہیں، جہاں ان کے بھائی جان رہتے ہیں۔ ووٹرز کے سرکاری ریکارڈ سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ امریکہ میں مقامی قوانین کے مطابق، انتخابات سے پہلے ووٹ ڈالنے اور ڈاک کے ذریعے بیلٹ جمع کرانے کا طریقہ عام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں انتخابات واشنگٹن میں وفاقی حکومت کے بجائے مختلف ریاستیں خود منعقد کرتی ہیں۔
مئی ۲۰۲۵ء میں پوپ لیو بننے سے پہلے رابرٹ فرانسس پریوووسٹ کے نام سے معروف اس شخصیت نے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک، دونوں جماعتوں کے پرائمری انتخابات میں حصہ لیا تھا اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق ۲۰۲۴ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں بھی ووٹ ڈالا تھا۔ پوپ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے لیو چہاردہم مسلسل شہریوں کو جمہوری اور سماجی معاملات میں حصہ لینے کی ترغیب دیتے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے لوگوں سے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے بارے میں کھل کر اپنی آواز اٹھانے کی اپیل بھی کی تھی۔ وہ اس تنازع سے نمٹنے کے طریقے اور سخت امیگریشن پالیسیوں کے معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ سے کھل کر اختلاف بھی کرچکے ہیں۔