• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اقوام متحدہ: پناہ گزین ادارے کا یمن میں ۶۵؍ ہزار پناہ گزینوں کے بحران کا انتباہ

Updated: October 31, 2026, 10:52 AM IST | New York

اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے نے یمن میں۶۵؍ ہزار سے زائد پناہ گزینوں کو پیش آنے والے بحران سے خبردار کیا، کیونکہ شدید لڑائی، معاشی مشکلات اور انسانی امداد تک رسائی پر پابندیوں کی وجہ سے ہزاروں افراد زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے نے جمعہ کو یمن میں۶۵؍ ہزار سے زائد پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشیوں کو متاثر کرنے والی تیزی سے بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال سے خبردار کیا ہے، کیونکہ شدید لڑائی، معاشی مشکلات اور انسانی امداد تک رسائی پر پابندیوں کی وجہ سے ہزاروں افراد زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔یو این ایچ سی آر کے ترجمان میتھیو سالٹمارش نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا، ’’یو این ایچ سی آر تیزی سے بگڑتے ہوئے انسانی بحران پر تشویش میں مبتلا ہے،‘‘ انہوں نے عدم تحفظ، وسائل کی کمی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ حالات خاص طور پر جنوب مغربی صوبہ لحج میں واقع خراز پناہ گزین کیمپ میں تشویشناک ہیں، جہاں صومالیہ اور ایتھوپیا کے تقریباً ۹۵۰۰؍پناہ گزین مقیم ہیں۔اگرچہ پناہ گزینوں کی ہلاکت کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم کیمپ کے قریب گولہ باری نے ضروری خدمات کو متاثر کیا ہے اور نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے۔ اسکول بند ہو گئے ہیں، جبکہ قانونی امداد اور دستاویزات کی خدمات معطل کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ پر مستعفی ہونے والے سابق امریکی حکام کا مطالبہ: صدارتی امیدوار جنگ کےحامیوں کو ملازمت نہ دیں

بعد ازاں سالٹمارش نے کہا کہ کچھ خاندان جنوبی علاقوں بشمول عدن کی طرف بھاگ رہے ہیں، وہ سڑکیں استعمال کر رہے ہیں جو تنازع کے فریقین استعمال کرتے ہیں اور خود کو مزید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔واضح رہے کہ اگست میں لڑائی میں شدت آنے کے بعد سے، یو این ایچ سی آر نے تقریباً ۶۰۰؍صومالی پناہ گزینوں کو تین پروازوں کے ذریعے عدن سے موغادیشو رضاکارانہ طور پر واپس جانے میں مدد کی ہے۔۱۱۰۰؍ سے زائد دیگر نے واپس جانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، لیکن مسلسل حملوں اور عدم تحفظ نے مزید کارروائیوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حوثی زیرانتظام علاقوں میں سعودی عرب کے فضائی حملے،۱۴؍ افراد ہلاک

دریں اثنا،۲۰۲۶ء کے پہلے نو مہینوں کے دوران ایک لاکھ۳۴؍ ہزار سے زائد پناہ کے متلاشی اور تارکین وطن سمندر کے راستے یمن پہنچے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً۲۲؍ فیصد زیادہ ہے۔سالٹمارش نے یاد دلایا کہ اکتوبر میں جبوتی کے ساحل پر یمن پہنچنے کی کوشش کے دوران کم از کم۱۳۹؍ افراد مبینہ طور پر ہلاک ہو گئے۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران۲؍ لاکھ۸۰؍ ہزار سے زائد یمنی بے گھر ہوئے ہیں، جبکہ ملک کے لیے یو این ایچ سی آر کی انسانی ہمدردی کی اپیل صرف۱۹؍ فیصد امدادی ہے۔مزید برآں علاقائی جہاز رانی میں خلل نے امداد کی فراہمی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، حالانکہ ایجنسی نے دبئی سے یمن تک ہنگامی سامان کے۱۱؍ کنٹینرز کی مفت نقل و حمل کو یقینی بنایا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK