Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ اور ایران میں تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز

Updated: July 02, 2026, 11:10 AM IST | Doha

دونوں ممالک کے ماہرین کی اہم معاملات پر بات چیت، اعلیٰ حکام کے درمیان براہ راست ملاقات کا کوئی پروگرام نہیں۔

US President Donald Trump is optimistic about the talks. Photo: INN
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ مذاکرات سے پرامید ہیں۔ تصویر: آئی این این

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے ماہرین مختلف اہم معاملات پر بات چیت کر رہے ہیں لیکن اس مرحلے پر دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان براہ راست ملاقات کا کوئی پروگرام طے نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے طریقۂ کار کو آگے بڑھانا اور مختلف تکنیکی معاملات پر پیش رفت حاصل کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دوحہ میں کم از کم تین الگ الگ ورکنگ گروپس قائم کئے گئے ہیں جو مختلف شعبوں پر تفصیلی بات چیت کر رہے ہیں۔ پہلا ورکنگ گروپ ایران کے جوہری پروگرام اور اس سے متعلق تکنیکی امور کا جائزہ لے رہا ہے جبکہ دوسرا گروپ سفارتی معاملات، رابطوں اور آئندہ مذاکراتی فریم ورک پر غور کر رہا ہے۔ تیسرا ورکنگ گروپ ایران کے بیرون ملک منجمد مالی اثاثوں، فنڈز کی واپسی اور ممکنہ مالیاتی انتظامات سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کر رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ مذاکرات تکنیکی سطح پر جاری ہیں لیکن فی الحال دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ یا اعلیٰ سیاسی قیادت کے درمیان کسی براہ راست ملاقات کا شیڈول طے نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: وِجے کی حکومت کو گرانے کی سازش بے نقاب

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ اگر تکنیکی مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوتی ہے تو مستقبل میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دوحہ میں ہونے والی یہ بات چیت نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات بلکہ مشرق وسطیٰ کی مجموعی سیکوریٹی، اقتصادی استحکام اور عالمی توانائی کی منڈیوں کے لئے بھی اہمیت رکھتی ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات خوشگوار ماحول میں جاری ہیں۔ 

قبل ازیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی نوعیت کے مذاکرات جاری ہیں اور یہ بات چیت پہلے سے جاری سفارتی عمل کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ تکنیکی سطح پر رابطے اور مذاکرات کا مقصد پہلے سے طے شدہ امور پر پیش رفت کو آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے دوحہ میں جاری ممکنہ مذاکرات سے متعلق ایران کی عوامی سطح پر تردید پر بھی تبصرہ کیا۔ جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک ایران کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات مذاکراتی حکمت عملی کا حصہ ہیں جسے انہوں نے ’فارسی طرز مذاکرات‘ قرار دیا۔ امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ تکنیکی مذاکرات کسی نئے مرحلے کا آغاز نہیں بلکہ پہلے سے جاری سفارتی عمل کا تسلسل ہیں اور دونوں فریق مختلف تکنیکی معاملات پر رابطے میں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جیل میں ۶؍ سال مکمل ہونے پر ’دی گارجین‘ میں عمرخالد کے انٹرویو کی اشاعت

قبل ازیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں بھی امریکہ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا اور اس کی پوزیشن مستحکم رہے گی لیکن امریکہ کی یہ خواہش ضرور ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں۔  نائب صدر نے خبردار کیا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز میں کوئی بھی ایرانی حملہ ہوا تو اس کا جواب بھرپور فوجی کارروائی کی صورت میں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ایران مستقل طور پر تبدیل ہو جائے گا۔ جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایرانی نظام کے اندر کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنی ۴۷؍سالہ پالیسی کو ایک غلطی سمجھتے ہیں اور اب ملک میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ 

امریکہ کے نائب صدر نے کہاکہ ایران میں جہاں ایک طرف تبدیلی کے حامی لوگ موجود ہیں، وہیں دوسری طرف سخت گیر عناصر بھی اس کی مزاحمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کے بیانات کو نہیں بلکہ اس کے عملی اقدامات کو اہمیت دیتا ہے اور فی الحال ایران کی جانب سے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اشارے مل رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK