جے این یو کے سابق ریسرچ اسکالر نے اپنا درد بیان کیا، خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کی خاموشی پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔
EPAPER
Updated: July 02, 2026, 10:53 AM IST | New Delhi
جے این یو کے سابق ریسرچ اسکالر نے اپنا درد بیان کیا، خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کی خاموشی پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔
مقدمہ کی سماعت کے بغیر جیل میں ۶؍ سال مکمل ہونے پر جے این یو کے سابق ریسرچ اسکالر عمر خالد کو بین لاقوامی شہرت کے حامل برطانوی اخبار ’’دی گارجین ‘‘ نے انٹرویو کیا ہے۔ اخبار سے گفتگو میں عمر خالد نے خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے ہوئےاپوزیشن کی خاموشی پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نےکہا کہ انسانیت ایک اعزاز ہے لیکن یہ اعزاز بھی اُن جیسے لوگوں کو میسر نہیں ہے۔ عمر خالد نے مودی حکومت پر نفرت پھیلانے اور ان کی کردار کشی کا الزام عائد کیااور اپنی صحت کے حوالے سے کہا کہ ان سے انسان ہونے کا اعزاز بھی چھین لیاگیاہے۔
یہ بھی پڑھئے: کھرگے، سلمان خورشید، پون کھیڑا اور نتن نبین بھی خامنہ ای کی آخری رسوم میں مدعو
عمر خالد نےانٹر ویو کے سوالات کے جواب اپنے خاندان اور دوستوں کے توسط سے دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے ساتھ وہ جیل میں قید ہیں وہ انہیں پیٹھ پیچھے دہشت گرد کہتے ہیں۔ بحیثیت انسان ان کی شناخت اور ان کا کردار تباہ کیا جاچکا ہے۔
عمر خالد نے کہا کہ جب آپ مثبت یا منفی امیج میں سمٹ جاتے ہیں تو آپ کی ذہنی صحت کو برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ عمرخالد نے کہا کہ آپ کے مفادات کو ذہن میں رکھنے والے بھی آپ کی تصویر کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ میں بھی ایک انسان ہوں۔ مجھے بھی دکھ اور درد ہے۔ مجھے بھی ڈر لگتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جیل میں رہنے سے نہ صرف انہیں ذہنی اذیت پہنچی بلکہ ان کے جسم پر بھی مضر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انٹر ویو میں عمر خالد نے سول سوسائٹی کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ بہت افسردہ اور تنہا محسوس کرتے ہیں۔ عمر خالد کو ستمبر ۲۰۲۰ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں دہلی فساد کی ’’وسیع تر سازش‘‘کا ملزم بنایاگیاہے۔