لاک ڈاؤن میں راحت متوقع ،نئی گائیڈ لائن جاری ہوگی

Updated: April 08, 2021, 11:32 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

حکومت کو تاجروں کا الٹی میٹم رنگ لایا، وزیراعلیٰ نے خود میٹنگ کی، شکایات سنیں،ازالےکی یقین دہانی کرائی اور صفائی دی کہ دوسری لہر کی سنگینی کے سبب سخت قدم اُٹھانے پڑے

 Photo of the meeting between Chief Minister Uddhav Thackeray and businessmen through video conferencing.Picture:INN
وزیراعلیٰ اُدھو ٹھاکرے اور تاجروں کی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ میٹنگ کی تصویر۔۔تصویر :آئی این این

مہاراشٹر میں کورونا سے نمٹنے کیلئے  پیر سے جمعہ تک حکم امتناعی کے دوران بھی  لاک ڈاؤن جیسی کیفیت اور ضروری خدمات کے علاوہ تمام دیگر کاروبار بند کرنے  کے فیصلے کے خلاف  تاجروں کا احتجاج اور حکومت کو ان کا الٹی میٹم  رنگ لایا اور وزیراعلیٰ  نے خود تاجروں کی تنظیموں  کے لیڈروں  کے ساتھ ورچوئل میٹنگ  میں ان کی شکایتیں دور اور  مشوروں پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس میٹنگ کے بعد امید کی جارہی ہے کہ آئندہ  ایک سے دودن میں حکومت کی جانب سے نئی گائیڈ لائن جاری کی جائے گی جس میں سختیوں میں ڈھیل اور جن  کاروبار کو لازمی کے زمرے میں شامل نہیں کیاگیا، انہیں بھی صبح ۷؍ سے شام۸؍ بجے تک کھلا رکھنےکی اجازت دی جاسکتی ہے۔
 الٹی میٹم کے بعد میٹنگ
 منگل کو نئی گائیڈ لائن کے نفاذ کےبعد لاک ڈاؤن جیسی کیفیت اور ’لازمی ‘ اشیاء کی دکانوں  کے علاوہ دیگر تمام  دکانوں کو بند کرنے کے حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فیڈریشن آف اسوسی ایشن آف  مہاراشٹر نے حکومت کو دو دن کا الٹی میٹم دیاتھا۔ تاجروں اور کاروباری افراد کی مختلف  تنظیموں کے اس فیڈریشن نے حکومت کو متنبہ کیاتھا  کہ تازہ اقدامات انہیں بری طرح متاثر کریں گے۔ تنظیم کے صدر ونیش مہتا نے کہاتھا کہ تنظیم کے اراکین اب تک سابقہ لاک ڈاؤن کے نقصانات سے ابھر نہیں سکے ہیں اس کے ساتھ ہی حکومت کو اس ضمن میں دو دن کا وقت دیاگیاتھا ۔ 
 تاجر تنظیموں کےنمائندوں کے ساتھ میٹنگ
 وزیر اعلیٰ نے  بدھ کو کاروباریوں کی فیڈریشن کے اراکین کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ  کی اور کہا کہ کاروباری بھی ان کے خاندان  کا حصہ ہیں۔ کوئی بھی یہ نہ سمجھے کہ حکومت ان کے خلاف ہے۔   وزیر اعلیٰ نے کہا کہ’’ اگر کاروباریوں کو معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا تو اس کا اثر حکومت پر بھی پڑے گااور  پڑ چکاہے۔ انہوں نے کہا کہ  ایسا نہ سوچا جائے کہ  کاروباری  پریشان ہوں گے تو حکومت کو کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ آپ کے آنسو میرے آنسو ہیں۔‘‘
  میٹنگ کے دوران کاروباریوں  نے جو مشورے دیئے وزیر اعلیٰ نے  ان پ یقینی طور پر غور کرنے کی بات کہی اور یہ  درخواست بھی کی کہ اگر مَیں نے آپ کے مشوروں کو قبول کیا توکیا آپ (کاروباری) بلاشرط فیصلہ کو قبول کریں گے کیا ؟ اس پر فیڈریشن کے اراکین نے مثبت جواب دیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کاروباریوں کو کورونا سے تحفظ کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔
دوسری لہر انتہائی خطرناک
 وزیر اعلیٰ نے  صفائی بھی پیش کی کہ  لاک ڈاؤن  یا پابندیا ں سخت کرنے کا مقصد کسی کو پریشان کرنا یا کاروباریوں کو نقصان پہنچانا  بالکل نہیں  ہے بلکہ کورونا پر قابو پانے کیلئے مجبوراًیہ سخت قدم اٹھائے  گئے ہیں ۔کاروباریوں کو بھی حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ہم سبھی کو ساتھ مل کر کورونا کو شکست دینا ہے۔ اس مرتبہ کورونا کی لہر انتہائی خطرناک ہے۔ کورونا سے متاثرین کی تعداد  انتہائی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ ‘‘   
  اس میٹنگ میںوزیر اعلیٰ  کے علاوہ وزیر صحت راجیش ٹوپے ، اعلیٰ تعلیم کے وزیر امیت دیشمکھ ، چیف سیکریٹری سیتارام کنٹے ، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری اشیش کمار سنگھ ،  پرنسپل سکریٹری وکاس کھارگے  اور دیگر اہم  سرکاری افسران موجود تھے۔    تاجروں کی طرف سے  فیڈریشن آف ریٹیل ٹریڈرس ویلفیئر اسو سی ایشن  ،مہاراشٹر چیمبر آف کامرس  اور دیگر تنظیموں کے ذمہ دار شریک تھے۔ 
 فیڈریشن آف ریٹیل ٹریڈرس ویلفیئر اسو سی ایشن   کے ویرین  شاہ کے مطابق بدھ کو ویڈیو کانفرنسنگ پر منعقدہ آن لائن میٹنگ تقریباً ۴۰؍ منٹ تک چلی جس میں مختلف فیڈریش  کے عہدیداروں کے باتیں سننے کے بعد وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے ۱۵؍ تا ۲۰ ؍منٹ  خطاب کیا ۔
فیڈریشن کو راحت ملنے کی امیت 
 ویرین شاہ کے بقول  وزیر اعلیٰ نے کاروباریوں سے ایک تا ۲؍ دنوں کا وقت مانگا ہے۔ٹریڈ لیڈروں کے مشورے کے مطابق انہیں گائیڈ لائن میں ترمیم کو  کابینہ کی منظوری بھی لینی ہوگی۔  انہوں نے بتایا کہ مہاراشٹر حکومت  ریاست کے ریٹیلر کو درپیش مسائل  کو حل کرنے کیلئے  سنجیدہ ہے اور رہنما اصول میں ترمیم کرنے کو بھی راضی ہے۔فیڈریشن کے صدر نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت کاروباریوں کو جلد راحت دینے کا اعلان کرے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK