Inquilab Logo Happiest Places to Work

لندن: قحطِ بنگال کیلئے چرچل کو ذمہ دار ٹھہرانے والا فن پارہ عوامی غصے کے بعد گیلری سے ہٹا دیا گیا

Updated: June 25, 2026, 9:04 PM IST | London

آرٹسٹ ہیلن کیموک کے ذریعے تیار کردہ ۴۰ منٹ کی ویڈیو بعنوان ”پرسسٹنس“ (Persistence) میں انہوں نے ۱۷ ویں صدی کے انگریز فوجی اولیور کروم ویل کی آئرلینڈ میں فوجی مہمات کا تذکرہ کرتے ہوئے تبصرہ کیا ہے کہ اس نے ”بڑے پیمانے پر لوگوں کو بھوکا مارا، بالکل اسی طرح جیسے ونسٹن چرچل کی جانب سے ہندوستانی آبادی کو جان بوجھ کر بھوکا رکھا گیا تھا۔“

Photo: X
تصویر: ایکس

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، لندن کی نیشنل پورٹریٹ گیلری میں دکھائے جانے والے ایک ویڈیو میں نوآبادیاتی ہندوستان میں قحطِ بنگال کیلئے برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کو ذمہ دار ٹھہرائے جانے پر تنازع کھڑا ہوگیا جس کے بعد ویڈیو کو گیلری سے ہٹا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل فلسطینی بچوں کو نشانہ بنا کر نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے: اقوام متحدہ

آرٹسٹ ہیلن کیموک کی تیار کردہ ۴۰ منٹ کی ویڈیو بعنوان ”پرسسٹنس“ (Persistence) گیلری میں عارضی طور پر نمائش کیلئے رکھی گئی تھی اور اسے اگست تک وہاں رہنا تھا۔ دی گارڈین (The Guardian) کے مطابق، اس ویڈیو میں خود کیموک نے پسِ پردہ آواز دیتے ہوئے ۱۷ ویں صدی کے انگریز فوجی اولیور کروم ویل کی آئرلینڈ میں فوجی مہمات کا تذکرہ کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ اس نے ”بڑے پیمانے پر لوگوں کو بھوکا مارا، بالکل اسی طرح جیسے ونسٹن چرچل نے ہندوستانی آبادی کو جان بوجھ کر بھوکا رکھا تھا۔“

واضح رہے کہ ۱۹۴۳ء کے قحطِ بنگال میں مشرقی ہندوستان کے اندر ایک اندازے کے مطابق ۳۰ لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نوبل انعام یافتہ ماہرِ اقتصادیات امرتیہ سین سمیت کئی اسکالرز نے دلیل دی ہے کہ یہ قحط چرچل کی قیادت میں برطانوی حکومت کی جنگی پالیسیوں کا نتیجہ تھا، جس میں مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکامی اور فوجیوں کیلئے غذائی سپلائی کو ترجیح دینا شامل تھا۔ دوسری طرف، دیگر ماہرین کا اصرار ہے کہ ۱۹۴۱ء میں برما پر جاپان کا حملہ، جس نے ہندوستان کو چاول کی ایک بڑی سپلائی بند کر دی تھی، چرچل کی پالیسیوں کے بجائے اس قحط کی بنیادی وجہ تھا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسقاط حمل میں اضافہ، تولیدی بحران کا اشارہ: حکام کا انتباہ

مؤرخین کا ویڈیو ہٹانے کا مطالبہ، گیلری نے مان لیا

کیموک کے اس ویڈیو انسٹالیشن کی نمائش پر مؤرخ اینڈریو رابرٹس نے نیشنل پورٹریٹ گیلری کو کھلا خط لکھا، جس پر چرچل کے نواسے نکولس سوامز سمیت ۵۰ معززین کے دستخط تھے۔ خط میں الزام لگایا گیا کہ ویڈیو میں چرچل کی پیشکش ”نظریاتی طور پر متعصبانہ پروپیگنڈا“ کے مترادف ہے۔

پیر کے دن، نیشنل پورٹریٹ گیلری نے تصدیق کی کہ یہ انسٹالیشن خود کیموک کی اپنی درخواست پر ہٹا دی گئی ہے۔ گیلری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم ان کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، جس طرح ہم ان لوگوں کی آراء کو تسلیم کرتے ہیں جن کی ویڈیو میں کہی گئی باتوں سے دل آزاری ہوئی ہے۔“ گیلری نے مزید کہا کہ یہ ویڈیو ایک فنکارانہ تخلیق تھا، نہ کہ کوئی دستاویزی فلم، اور ضروری نہیں کہ اس میں پیش کردہ خیالات، گیلری کے اپنے موقف کی عکاسی کریں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حملوں میں لبنان کی عمارتوں کو۱۳؍ ہزار کروڑ روپئے کا نقصان: اقوام متحدہ

کیموک نے کہا کہ ان کا کام علمی تحقیق پر مبنی ہے اور یہ ”ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کس کی عزت اور توقیر کی جاتی ہے اور کس کی نہیں؛ کس کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں اور کس کی نہیں“۔ انہوں نے نینا سیمون کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ”جہاں تک میرا تعلق ہے، ایک فنکار کا فرض وقت کی عکاسی کرنا ہے۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK