Updated: September 02, 2026, 10:04 PM IST
| New Delhi
ہندوستانی چینی کی صنعت نے ملک میں چینی کی کسی بھی قلت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ۷؍ سے۱۰؍ دنوں کے دوران خردہ قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔ انڈین شوگر اینڈ بایو انرجی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اسما) اور نیشنل فیڈریشن آف کوآپریٹو شوگر فیکٹریز (این ایف سی ایس ایف) نے مشترکہ طور پر ملک کو یقین دلایا ہے۔
ہندوستانی چینی کی صنعت نے ملک میں چینی کی کسی بھی قلت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ۷؍ سے۱۰؍ دنوں کے دوران خردہ قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔ انڈین شوگر اینڈ بایو انرجی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اسما) اور نیشنل فیڈریشن آف کوآپریٹو شوگر فیکٹریز (این ایف سی ایس ایف) نے مشترکہ طور پر ملک کو یقین دلایا ہے کہ ہندوستان میں چینی کی ملکی دستیابی مستحکم، مضبوط اور آنے والے تہواروں کے سیزن کے دوران ہر طرح کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
یہ بھی پڑھئے:وزیر اعلیٰ وجے نے ڈائر کا چشمہ بزرگ خاتون کو تحفے میں دیا
حکومت ہند کے ساتھ باہمی تعاون کے ذریعے چینی کے شعبے نے سپلائی کو مستحکم کیا ہے، ایکس مل قیمتوں میں چوٹی سے تقریباً ۳۰؍ فی صد تک کی کمی لائی ہے اور ملکی تجارت میں کمی کی بے بنیاد افواہوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔
این ایف سی ایس ایف کے صدر ہرش ور دھن پاٹل نے کہا کہ ملک کے پاس گھریلو کھپت کو پورا کرنے کے لیے اس وقت تک کے لیے کافی اسٹاک موجود ہے جب تک کہ آنے والے کرشنگ سیزن کی نئی چینی مارکیٹ میں نہیں آ جاتی۔ ہم مارکیٹ کی حالیہ صورتحال کو مکمل اقتصادی اور آپریشنل تناظر میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ۲۶۔۲۰۲۵ء کے سیزن کے زیادہ تر حصے میں ملوں نے پیداواری لاگت سے کافی کم قیمتیں حاصل کی ہیں، جہاں جون میں ملک بھر میں اوسط ایکس مل قیمتیں ۵ء۳۹؍ سے۰ء۴۰؍ روپے فی کلو، جولائی میں ۰ء۴۰؍سے ۵ء۴۰؍ روپے فی کلو اور اگست ۲۰۲۶ء میں تقریباً ۴۱؍ سے۵ء۴۱؍ روپے فی کلو کے قریب رہیں، جو کہ انڈسٹری کی اوسط پیداواری لاگت یعنی تقریباً ۴۲؍ روپے فی کلو سے اب بھی کم ہیں۔ اگست کے تیسرے ہفتے میں قیمتوں کا ۴۹؍سے ۵۰؍ روپے فی کلو تک جانا صرف ۲؍ سے ۳؍ لاکھ ٹن کی محدود مقدار پر لاگو ہوا تھا، جو کسی بھی طرح سے پورے سیزن کی معیشت یا غیر متوقع منافع کی عکاسی نہیں کرتا۔ کوٹے کے شفاف اجراء اور فوری ریگولیٹری کارروائیوں نے ایکس مل قیمتوں میں ۳۰؍ فیصد کی کمی کی ہے اور صارفین کے تحفظ کے لیے اس اصلاح کا اثر خودرہ مارکیٹ پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سوَرا بھاسکر کا وضاحتی بیان: ’’میں نے رانی پدماوتی کو کبھی بزدل نہیں کہا‘‘
اسما کے ڈائرکٹر جنرل دیپک بلانی نے کہا کہ سابق مل قیمتوں میں کمی کو تدریجی طور پر سپلائی چین کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے اور صارفین کو راحت پہنچانی چاہیے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مارکیٹ میں اگلے ۷؍ سے ۱۰؍ دنوں کے اندر نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔ قومی ترجیحات کے عین مطابق ہماری شوگر ملوں نے ۲۷۔۲۰۲۶ء کے کرشنگ سیزن کے آغاز کو تقریباً ۱۰؍سے ۱۵؍دن پہلے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تمل ناڈو اور کرناٹک میں جاری خصوصی کرشنگ کے ساتھ اس کے جلدی آغاز سے تہواروں کی مانگ سے قبل سپلائی میں نئی چینی کی براہ راست آمد یقینی ہو جائے گی۔ ہم اس پیداوار کو وزارت برائے امور صارفین، خوراک و عوامی تقسیم کے ذریعے مقرر کردہ پندرہ روزہ سیلز کوٹہ فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کر رہے ہیں، جس نے ستمبر ۲۰۲۶ء کے پہلے پندرہ دن کے لیے ۱۳؍لاکھ میٹرک ٹن کا کوٹہ مختص کیا ہے۔ ہم ملکی سطح پر کسی بھی قسم کی قلت کے دعوؤں کو کےساتھ مسترد کرتے ہیں۔ ۲۶۔۲۰۲۵ء کے سیزن کے لیے ہندوستان کی خالص ملکی چینی کی پیداوار تقریباً ۲۷۹؍ لاکھ ٹن رہی ہےجو کہ تقریباً ۳۰۹؍ لاکھ ٹن کی کل پیداوار میں سے ۳۰؍ لاکھ ٹن ایتھنول کے لیے مختص کرنے کے بعد حاصل ہوئی ہے جو کہ ہماری قومی ضرورت یعنی ۲۸۰؍ سے ۲۸۵؍ لاکھ ٹن کو آسانی سے پورا کرتی ہے۔ تہواروں کے سیزن میں داخل ہوتے ہوئے ستمبر ۲۰۲۶ء کے اختتام تک ملک کے پاس تقریباً ۳۵؍ لاکھ ٹن کا محفوظ اسٹاک موجود رہنے کا امکان ہے۔