لندن کے میئر صادق خان نے چینل۴؍ نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو اور دیگر افراد جن پر جنگی جرائم کا الزام ہے، ان کا لندن میںخیر مقدم نہیں ہے ۔
EPAPER
Updated: July 26, 2026, 9:03 PM IST | London
لندن کے میئر صادق خان نے چینل۴؍ نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو اور دیگر افراد جن پر جنگی جرائم کا الزام ہے، ان کا لندن میںخیر مقدم نہیں ہے ۔
لندن کے میئر صادق خان نے چینل۴؍ نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو اور دیگر افراد جن پر جنگی جرائم کا الزام ہے، ان کا لندن میںخیر مقدم نہیں ہے ۔خان نے کہا، ’’جو لوگ نسل کشی کا ارتکاب کرتے ہیں، انہیں لندن میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا،‘‘ اور مزید کہا کہ ،’’نسل کشی کے ملزمان کو انصاف کا سامنا کرنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر نیتن یاہو کبھی برطانیہ کے دارالحکومت کا سفر کریں تو وہ برطانوی حکومت پر کارروائی کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے، اور کہا کہ وہ وزیراعظم پر دباؤ ڈالیں گے تاکہ قانون کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔‘‘ خان نے مزید کہا، ’’میں واقعی یقین رکھتا ہوں کہ غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے،‘‘ اور دلیل دی کہ نیتن یاہو اس کے ذمہ دار ہیں، انہیں نسل کشی کا مرتکب قرار دیا اور کہا کہ’’ انہیں سزا کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: برازیل نے انتخابات پر بات چیت کے خواہاں امریکی حکام کو ویزے دینے سے انکار کر دیا
واضح رہے کہ غزہ میں ۷؍ اکتوبر کے بعد سے نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل نے نسل کشی کا آغاز کررکھا ہے، جہاں شہری آبادی پر بے تحاشہ بمباری کی گئی، جس میں ۷۴؍ ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادت ہوچکی ہے، جن میں بیشتر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ اس کے علاوہ پورے غزہ کے شہری نظام کو تباہ کردیا گیا ہے، جس سے صاف صفائی، کوڑے کا نظم بگڑ گیا ہے، اس کے علاوہ اسپتالوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے سبب اسرائیلی حملوں میں زخمی افراد کا علاج بھی مشکل ہوگیا ہے۔ مزید برآں سرحدی ناکہ بندی نے خطے میں انسان ساختہ قحط کے حالات پیدا ہوگئے۔ عالمی عدالت انصاف نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع کو جنگی مجرم قراردیتے ہوئے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ہیں۔صادق خان کا حالیہ بیان اسی وارنٹ پر عمل درآمد کرنے کے ان کے ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔