• Mon, 07 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایرانی رہنما مجتبیٰ خامنہ ای سے منسلک لندن پینٹ ہاؤسیز فروخت کے لیے پیش

Updated: September 07, 2026, 4:58 PM IST | London

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے مبینہ طور پر منسلک لندن کے دو انتہائی قیمتی پینٹ ہاؤسیز مالی پابندیوں اور رہن کی رقم کی عدم ادائیگی کے بعد فروخت کے لیے پیش کردیئے گئے ہیں۔ یہ جائیدادیں لندن کے انتہائی پوش علاقے پیلس گرین میں واقع ہیں ۔

Mojtaba Khamenei.Photo:INN
مجتبیٰ خامنہ ای۔ تصویر:آئی این این

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای  سے مبینہ طور پر منسلک لندن کے دو انتہائی قیمتی پینٹ ہاؤسیز مالی پابندیوں اور رہن کی رقم کی عدم ادائیگی کے بعد فروخت کے لیے پیش کردیئے گئے ہیں۔ یہ جائیدادیں لندن کے انتہائی پوش علاقے پیلس گرین  میں واقع ہیں اور ان کی مشترکہ خریداری قیمت تقریباً ۷۵ء۳۵؍ ملین پاؤنڈ  تھی، جو تقریباً ۴۸؍ ملین امریکی ڈالر کے برابر ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ دونوں لگژری اپارٹمنٹس اس وقت  ریسیور شپ  میں ہیں، یعنی قرض کی ادائیگی میں ناکامی کے بعد قرض دہندگان نے جائیدادوں کا انتظام آزاد ریسیورز کے حوالے کردیا ہے تاکہ انہیں فروخت کرکے واجب الادا رقم وصول کی جاسکے۔ ان دونوں جائیدادوں میں سے ایک پانچ بیڈ روم پر مشتمل ڈوپلیکس ہے، جسے ۲۰۱۶ء میں ۱۹؍ ملین پاؤنڈ  میں خریدا گیا تھا۔ اب اسے  ۱۲؍ ملین پاؤنڈ سے بھی کم  قیمت پر فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یعنی اگر یہ جائیداد مطلوبہ قیمت کے آس پاس فروخت ہوتی ہے تو اس کی قیمت خرید کے مقابلے میں تقریباً ۷؍ ملین پاؤنڈ کم  ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے:آج سےمختلف مراکز پر الیکٹرانک میٹر اپ ڈیٹ کرانے کی سہولت

۳۹۴۴؍مربع فٹ پر محیط یہ شاندار ڈوپلیکس عمارت کی چھٹی اور ساتویں منزل پر واقع ہے۔ اس میں اسٹاف رہائش کے علاوہ ایک نجی روف ٹیرس بھی موجود ہے اور یہاں سےکین سنگٹن گارڈنز اور محل کے اطراف کا خوبصورت منظر دکھائی دیتا ہے۔ اس جائیداد کی مارکیٹنگ نائٹ فرینک اور سوتھبیز انٹرنیشنل ریئلیٹی مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ دوسرا پینٹ ہاؤس ۲۰۱۴ء میں ۷۵ء۱۶؍ ملین پاؤنڈ  میں خریدا گیا تھا۔ یہ عمارت کی ساتویں اور آٹھویں منزل پر واقع ہے اور یہ بھی ریسیورشپ میں جاچکا ہے۔ تاہم اس جائیداد کو ابھی عوامی طور پر فروخت کے لیے فہرست نہیں کیا گیا اور اس کی متوقع یا مطلوبہ قیمت بھی سامنے نہیں آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق مالیاتی مشاورتی کمپنی  ’’ٹینیو‘‘ کو اس جائیداد کا ریسیور مقرر کیا گیا ہے۔  ریسیور شپ  ایک قانونی اور مالیاتی عمل ہے جس میں قرض لینے والا شخص یا ادارہ رہن یا قرض کی شرائط پوری کرنے میں ناکام ہوجائے تو قرض دہندہ کسی آزاد ریسیور کو جائیداد کا کنٹرول دے دیتا ہے۔
ریسیور کا بنیادی مقصد جائیداد کو فروخت کرکے قرض دہندہ کی واجب الادا رقم واپس دلانا ہوتا ہے۔ اگر فروخت کے بعد قرض دہندگان کو ادائیگی کرنے کے باوجود رقم باقی بچ جائے تو اس رقم پر بھی قانونی اور پابندیوں سے متعلق ضوابط لاگو ہوسکتے ہیں۔ دونوں پینٹ ہاؤسیز ایرانی بینکر  علی انصاری  کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے جولائی میں انصاری پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے انہیں ایران کے حکمران طبقے سے منسلک ایک اہم مالی معاون قرار دیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق انصاری نے مختلف ممالک میں کمپنیوں اور بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ایک وسیع عالمی مالیاتی نیٹ ورک قائم کیا، جس میں رئیل اسٹیٹ اور دیگر کاروباری مفادات شامل تھے۔

یہ بھی پڑھئے:تنقیدوں کے باوجود لبوشین آسٹریلیا کے دورۂ جنوبی افریقہ کے لیے ٹیسٹ ٹیم میں برقرار

برطانوی حکام نے بھی اکتوبر ۲۰۲۵ء میں انصاری پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ ان پابندیوں میں اثاثوں کو منجمد کرنا، سفری پابندی اور کمپنی کے ڈائریکٹر بننے سے متعلق پابندیاں شامل تھیں۔ برطانیہ نے ان پر ایران کی  اسلامی انقلابی گارڈ کور(آئی آر جی سی) کی سرگرمیوں کی مالی معاونت کا الزام عائد کیا تھا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے جولائی میں الزام عائد کیا تھا کہ انصاری نے متعدد شیل کمپنیوں اور مختلف ممالک میں موجود بینک اکاؤنٹس کے ذریعے بیرونِ ملک رئیل اسٹیٹ اور تجارتی اثاثوں کا ایک بڑا نیٹ ورک قائم کیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک برطانیہ، جرمنی، لکسمبرگ، اسپین اور قبرص  تک پھیلا ہوا ہے۔
امریکی وزارتِ خزانہ کا مزید دعویٰ ہے کہ انصاری کے نام پر موجود متعدد مالی مفادات دراصل  مجتبیٰ خامنہ ای، ان کے خاندان، ایران کے دیگر بااثر افراد اور  آئی سی جی سی  کے فائدے کے لیے تھے۔  رپورٹس کے مطابق نہ علی انصاری اور نہ ہی مجتبیٰ خامنہ ای کو ان پینٹ ہاؤسیز کی خریداری کے بعدپیلس گرین   کے اس رہائشی کمپلیکس میں دیکھا گیا۔ یہ جائیدادیں لندن کے انتہائی مہنگے اور خصوصی علاقوں میں شمار ہونے والے مقام پر واقع ہیں، جہاں کینسنگٹن  پیلس کے قریب ہونے کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ کی قیمتیں بہت بلند ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK